فورسز اور جنگجوئوں کے ما بین فائرنگ کا شدیدتبادلہ

 // ترال//ترال کے مضافات میں ریشی پورہ نامی گائوں میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے مابین سنیچر کی شام گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی جس کے دوران ہی وہاں پر مظاہرین کی خاصی تعداد جمع ہوئی جنہوں نے فورسز پر پتھرائو کیا جس کے بعد وہاں شدید جھڑپیں ہوئیں۔اس دوران ترال قصبے میں بھی پر تشدد احتجاج شروع ہوا جس کے دوران ایک سی آر پی ایف اہلکار سے رائفل چھین لی گئی۔دیر سے ملی اطلاع کے مطابق محصور 2 جنگجوئوں میں سے18سالہ حافظ قرآن عاقب احمد بٹ عرف مولوی عاقب عرف ذیشان ولد عبدالخالق بٹ ساکن ہاین ناز نین پورہ نے جھڑپ کے دوران ہی والدین کو فون کر کے اطلاع دی ’’ وہ محاصرے میں آگئے ہیں اور اب انہیں باہر جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے اس لئے وہ تیاری کر کے میرے دوستوں کو گھر بلائے ۔‘‘اس کے ساتھ ہی ان کے آبائی گائوں میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ فورسز نے اس مکان کو زور دار دھماکے سے اڑا دیا ہے جس میں جنگجو محصور تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایک جنگجو مارا گیا تاہم فائرنگ کا تبادلہ جارہی ہے۔قصبہ ترال سے چار کلومیٹر دور ہفو نگین پورہ علاقے کو فوج اور پولیس نے سنیچر سہ پہرساڑے چار بجے کے قریب محاصرے میں لیا ، جہاں ابتدائی طور پر پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ مذکورہ گائوں میں دو جنگجو موجود ہیں۔جونہی محاصرہ کیا گیا تو اسی دوران گائوں کے نوجوان ایک ہی جگہ جمع ہوئے اور انہوں نے احتجاج کیااور محاصرے میں شامل اہلکاروں پر پتھرائوشروع کیا جس کے ساتھ ہی علاقے میں شدیدجھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔ پولیس نے احتجاج اور پتھرائو کرنے والے نوجوانوں پر آنسو گیس کے لا تعداد گولے داغے لیکن اس کے باوجود احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مزید سینکڑوں نوجوان شامل ہو ئے ۔مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم آرائی شام دیر گئے تک جاری رہی۔فورسز نے جونہی احتجاج میں شامل لوگوں کے تعداد میں اضافہ ہوتے دیکھا تو انہوں نے آپریشن کو جلدی ختم کرنے کیلئے تلاشی کارروائی شروع کردی۔تلاشی کارروائی کیساتھ ہی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ شروع ہوا جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔بتایا جاتا ہے کہ فورسز نے اس مکان کو زور دار دھماکے سے اڑا دیا جس میں جنگجو محصور تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایک جنگجو مارا گیا تاہم فائرنگ کا تبادلہ جارہی ہے۔ادھرترال قصبے میں جنگجوئوں کے محصور ہونے کی خبر پھیلتے ہی بازار میںآناً فاناً افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا اور مشتعل نوجوانوں نے فورسز کی گاڑیوں پر شدید پتھرائوکیا ۔مظاہرین میں شامل کسی نا معلوم نوجوان نے چھڑی دکھا کر سی آر پی ایف اہلکار سے گول مسجد کے نزدیک ایک رائفل چھینے لی اور فرار ہوا۔قصبے میں صورتحال انتہائی کشیدہ تھی جبکہ جھڑپ کی جگہ پر دھماکے بھی سنے گئے۔