فوج کی موجودگی آبادی کی بقا اور وجود کیلئے لٹکتی تلوار

سرینگر//ریاست میں فوج و فورسز کی موجودگی کو مقامی آبادی کی بقاء اور وجود کیلئے لٹکتی تلوار سے تعبیر کرتے ہوئے سیول سوسائٹی،قلمکاروں،کالم نویسوں،ماہرین تعلیم،تاجروں اور صنعت کاروں نے کہا کہ گزشتہ3دہائیوں سے جاری دہشت ناک اور پریشان کن صورتحال نے گزشتہ2برسوں سے اب ہیبت ناک موڑ لیا ہے۔ متحرک سیول سوسائٹی’’کشمیر سینٹر فار سوشیل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈئز‘‘ کی طرف سے سرینگر میں گول میز کانفرنس کے دوران جموں کشمیر سے فوجی انخلاء پر مباحثہ ہوا۔’’فوجی انخلاء کی ضرورت اور شہری آزادی کی بحالی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ گول میز کانفرنس کے دوران شرکاء نے یک زبان میں ریاست میں فوج کی موجودگی کو مقامی آبادی کے وجود کیلئے خطرہ قرار دیا۔’’کشمیر سینٹر فار سوشیل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈئز‘‘ کی سربراہ پروفیسر حمیدہ نعیم نے کہا ’ فوج کی موجودگی کے سبب ہی ماروائے عدالت اموات،جبری گمشدگیاں،اذیت خانوں میں معصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ خواتین سے دست درازیاںوجود میںآئی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ3برسوں میں کشمیر میں قریب300نوجوانوں کو گولیوں سے بھوندا گیاجبکہ گزشتہ برس ہی800 بارمحاصرہ اور تلاشیوں کا سلسلہ کا شروع کیا گیا،جس کے دوران مکینوں کو زد کوب کرنے کے علاوہ گھریلو اشیاء کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت ریاست میں فوج اور فورسز نے53ہزار700ایکڑ اراضی پر غیر قانی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ حکومت نے لداخ میں62ہزار ایکڑ اراضی فوجی مشقوں کیلئے دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یونفائڈ کمان کی سربراہ اگر چہ ریاستی وزیر اعلیٰ کو بنایا گیا ہے،مگر اس میں سلامتی ایجنسیوں کا کنٹرول ہے۔معروف صحافی ریاض مسرور نے جموں کشمیر کو سب سے بڑا فوجی خطہ قرار دیا۔انہوں نے کولیشن آف سیول سوسائٹیز کی2013کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں مجموعی طور پر4لاکھ81ہزار576 فوجی اہلکاروں کے علاوہ75ہزار کے قریب سی آر پی ایف،30ہزار سرحدی حفاظتی فورس،3ہزارآئی ٹی بی ایف،5500آئی آر پی،7ہزار سی آئی ایس ایف اور26ہزار ایس پی ائو،اخوانی،وی ڈی سی اور دیگر غیر منظم اہلکار ہیں جن کی مجموعی تعداد7لاکھ50ہزار981ہے۔ریاض مسرور نے جموں کشمیر میں’’سیاست کو دوسرے معنوں میں جنگ‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حیرانگی اس بات کی ہے کہ دنیا میں فوجی جمائو کے سب سے بڑے خطے کی کمان ایک سیاست دان کے ہاتھوں میں ہے،جو کہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یونفائڈ کمان کی سربراہ کے طور پر وزیر اعلیٰ جو کہ ایک سیاسی نشست ہیں،کا تجربہ آسام میں بھی آزمانے کی کوشش کی گئی تھی،تاہم وہاں کی سیاسی جماعتوں نے یک زباں میں اس کو مسترد کیا۔ان کا کہنا تھا ’’ 2حاضر سروس جنرل وزیر اعلیٰ کے مشیر ہیں،جو از خود اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاست کو جنگ کا جامہ پہنایا گیا ہے‘‘۔صحافی پرویز بخاری نے کہا کہ نہ صرف سیاسی حلقے بنانے بلکہ تعلیم،زراعت اور دیگر روز مرہ کے کاموں میں بھی فوج کی مداخلت ہوتی ہے۔اس موقعہ پر ایک اور معروف صحافی ہلال ساقی نے2مضامین کی روشنی میں فوجی موجودگی پر روشنی ڈالی۔پروفیسر گل وانی نے دائمی امن کیلئے حقیقت پر مبنی رشتوں کو قائم کرنے کا مشورہ دیا۔کانفرنس کے آخر میں  مشترکہ طور پر ایک قرار داد کو منظور کیا گیاجس میں کہا گیا کہ ماروائے عدالت اموات اور نوجوانوں کی ہلاکتیں اب روز کا معمول بن چکی ہے۔قرار داد میں کہا گیا کہ شوپیاں میں پیش آنے والا خونین واقعہ نے ایک بار اس بات کو مرکز پر لایا کہ شہری علاقوں میں فوج کی بھاری موجودگی کا صرف یہ مقصد ہے کہ لوگوں کو زیر کیا جائے۔گول میز کانفرنس میں پروفیسر نور بابا،ڈاکٹر بلال،عبدالمجید زرگر،شکیل قلندر،زیڈ جی محمد،انجینئر انور عشائی،صحافی محمود الرشید،ظہور احمد ترمبو،مختار الیوسف،بشیر احمد راتھر،محمد افضل پرے اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔