فوج کی تینوں خدمات کا انضمام، مشترکہ کلچر کی ضرورت : جنرل چوہان

یواین آئی

نئی دہلی// تینوں فوجی خدمات کے درمیان تال میل اور انضمام کو بڑھانے کے لئے جاری کوششوں کے درمیان چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انل چوہان نے تینوں خدمات کو مشترکہ ثقافت بنانے پر زور دیا ہے۔منگل کو یہاں 22ویں میجر جنرل سمیر سنہا میموریل لیکچر میں ’’ جوائنٹ مین شپ: دی وے اہیڈ ‘‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے جنرل چوہان نے مسلح افواج میں مشترکہ ثقافت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور اسے آگے بڑھنے کا راستہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ فوجوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور اتفاق رائے سے متعلق تھا اور چونکہ اب کوئی بڑا اختلاف نظر نہیں آرہا اس لیے فوج کو دوسرے مرحلے کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ تینوں فوجی خدمات کی اپنی الگ ثقافتیں ہیں، سی ڈی ایس نے خدمات میں چوتھا کلچر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا “اگرچہ مشترکہ ثقافت فوج کے مخصوص کلچر سے مختلف ہے، لیکن ہر سروس کی انفرادیت کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر ایک فوج سے بہترین خدمات حاصل کرنے کے قابل ہونا چاہیے اور سب سے کم مشترکہ حصے کو طے کرنے کی بجائے سب سے زیادہ مشترکہ عنصر کو شامل کرنا چاہیے۔”سی ڈی ایس نے کہا کہ تھیٹر کمانڈز آخری حالت نہیں بلکہ اصلاحات کے اگلے سیٹ کا آغاز ہوں گے۔ انہوں نے کہا انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ کئی اصلاحات کو فروغ دے گی جس میں سنگل سے ملٹی ڈومین آپریشنز، روایتی ڈومینز میں اسپیس اور سائبر اسپیس کو فیوز کرنا، میدان جنگ کی معلومات اور ویڑولائزیشن کی ڈیجیٹائزیشن، نیٹ سینٹرک سے ڈیٹا سینٹرک کی طرف منتقل کرنا شامل ہے۔ہندوستانی دفاعی ماحولیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے سی ڈی ایس نے کہا دنیا بھر کی قومیں نئے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہیں اور عالمی نظام میں موجودہ تبدیلیاں اقوام کو اپنی حفاظتی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا تیزی سے اور بے لگام پھیلاؤ مستقبل میں جنگوں کے لڑنے کے انداز کو بدل رہا ہے۔