فوج کا بیان انسانیت سوز و افسوسناک:میرواعظ

سرینگر//حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے فوج کے اس بیان جس میں انہوں نے سال 2018 کو ان کیلئے کامیاب سال قرار دیا تھا، کوافسوسناک ، انسانیت سوز اور بدقسمتی سے تعبیر کیا۔میرواعظ نے کہا کہ یہ حیران کن امر ہے کہ ایک تربیت یافتہ اورجنگی ساز وسامان سے لیس فوج جس کا مقصد اپنی برابری کے مقابل فوج سے لڑنا ہے ،کشمیری نوجوان کے مارے جانے پر جشن مناتی ہے۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ فوج کی جانب سے جاں بحق  کئے گئے نوجوان کوئی تربیت یافتہ گوریلا نہیں تھے یا دہشت پھیلانے والے نہیں تھے بلکہ یہ وہ نوجوان ہیں جو ظلم و ستم اور جبری قبضہ سے تنگ آکر اور سیاسی سطح پر ان کے تمام راستے مسدود کئے جانے اور مبنی بر حق ، حق خودارادیت کی آوازدبائے جانے کی وجہ سے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کئے گئے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ نوجوانوں کا جذبہ ہے کہ ٹریننگ اور تربیت کی عدم دستیابی کے باوجود وہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایک ملک کی فوج کے ساتھ مدمقابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کی قربانیاںکشمیریوں کو تحریک کے تئیںجذبات کو مزید مستحکم کرتی ہے اوربھارت کا یہی ظلم و جبر یہاں کے نوجوانوںکو عسکریت سے جوڑتا ہے۔میرواعظ نے کہابھارت کی فوج جہاں اپنے ملک کی تحریک آزادی کے دوران سبھاش چندر بوس کو برطانوی سامراج کیخلاف لڑنے کیلئے فوج کے قیام کے عمل کو خراج پیش کرتی ہے وہیں دوسری جانب کشمیر میں نہتے نوجوانوں کی ہلاکت کو ہندوستانی عوام کے سامنے ایک ـ’بڑی کامیابی‘ کے بطور پیش کرنا حقایق کی پردہ پوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے متعدد افسران نے کئی دفعہ اپنے مضامین اور لکچروں میںاس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل سیاسی بنیادوں پر ناگزیر ہے ۔میرواعظ نے کہا کہ موجودہ گورنر نے حال ہی میں کہا ہے کہ حکومت عسکریت پسندوں کا نہیں بلکہ عسکریت کا خاتمہ چاہتی ہے، اگر یہ بات ہے تو انہیں مخلصانہ طور یہ وجوہات جاننے ہونگے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت کی طرف کیوں مائل ہونے پر مجبور ہورہے ہیں؟ اور حکومت ہند کو صحیح مشورہ دینا ہوگا کہ وہ کشمیر کے متنازع مسئلہ کو Military mightکے ذریعے حل کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین کے درمیان ایک ایساسیاسی عمل شروع کرنا ہوگا جس سے اس مسئلہ کا حق خودارادیت کی بنیادوں پر حل تلاش کیا جاسکے تاکہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجیوں کے جانوں کے مزید زیاں سے بھی بچا جا سکے اور یہی یہاں کی سیاسی مزاحمتی قیادت کا ان کو پرخلوص مشورہ ہے۔