فوج کاہیومن رائٹس ریکارڈصاف

 نئی دہلی //بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بدھ کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی حقوق انسانی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ جانبدارانہ اور گمراہ کن ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری اور کشمیری عوام انسانی حقوق کے تئیں بھارتی فوج کے ریکارڈ سے بخوبی واقف ہے ۔نئی دہلی میں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے 49صفحات پر مشتمل اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی پہلی کشمیرالمرکوزرپورٹ کو مسترد کردیا ۔ جنرل راوت کا کہناتھا ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بھارتی فوج کے انسانی حقوق کے تئیں ریکاترڈ پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہے ،آپ جانتے ہیں ،کشمیری عوام جانتی ہیں ،اور عالمی برادری بھی بھارتی فوج کے انسانی حقوق کے تئیں ریکارڈ سے بخوبی واقف ہے ‘۔انہوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس رپورٹ کے حوالے سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،ایسی کچھ رپورٹز جانبدارانہ ہیں ‘۔بری فوج کے سربراہ نے کہا ’انسانی حقوق کے تئیں بھارتی فوج کا ریکارڈ سب کے سامنے عیاں ہے ‘۔یاد رہے کہ14جون کو اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشرنے منقسم ریاست جموں وکشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال کے حوالے سے اپنی پہلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ 7دہائی پرانے تنازعہ کشمیرابتک ہزاروں لاکھوں زندگیوں کوتباہ وبربادکردیاہے۔49صفحات پرمشتمل رپورٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ ہائی کمشنربرائے حقوق انسانی زیدرعدالحسین نے کشمیر کے آر پار سنگین نوعیت کی حقوق انسانی پامالیوں اورمرتکب سیکورٹی اہلکاروں کو استثنیٰ دیئے جانے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی سفارش کردی ہے۔انہوںنے خبردار کیاکہ تنازعہ کشمیر صرف ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی اور ٹکرائو کی بنیادی وجہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ تنازعہ اب تک لاکھوں ، ہزاروں انسانی زندگیوں کی تباہی وبربادی کا موجب بھی بنا ہے ۔