فوج جب مناسب سمجھے گی ایل او سی عبور کریگی

ادہم پور//نادرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل دیوراج انبو نے آج کہا کہ سرجیکل سٹرائیک کے بعد سرحد کے اُس پار لانچنگ پیڈز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور تقریباً475جنگجو کنٹرول لائن سے دراندازی کی تاک میں ہیں۔ اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوجی جنرل نے کہا کہ شمالی کشمیر میں تقریباً250ملی ٹینٹ سرگرم ہیں جب کہ جنوبی علاقہ میں سرگرم جنگجوئوں کی تعداد تقریباً 225 ہے۔ انہوں نے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کو ایک پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سرحدوں کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ بتادینا چاہتے تھے کہ کنٹرول لائن کوئی ایسی لکیر نہیں ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا ۔ انکا کہنا تھا کہ فوج جب مناسب سمجھے گی تو حد متارکہ کو عبور کیا جاسکتا ہے۔وادی کی سیکورٹی صورتحال کو ’قابو میں‘ قرار دیتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل نے بتایا کہ اس کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں اس وقت ملی ٹینٹوں پر سبقت حاصل ہے ، چار ماہ میں اعلیٰ کمانڈروں سمیت قریب100ملی ٹینٹوں کو ہلاک کیا گیا ہے ، رواں برس کے دوران ہلاک ہونے والے ملی ٹینٹوں کی تعداد  144ہو گئی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ میں ملی ٹینسی کے واقعات میں قابل ذکر حد تک کمی واقع ہوئی ہے ، جو حالات نومبر دسمبر میں تھے وہ اب نہیں ہیں ، اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں کیوں کہ عسکری قیادت ختم کر دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ایجنسیوں نے 75دراندازیوں کی رپورٹ دی ہے لیکن فوج کے مطابق ان کی تعداد 50سے زیادہ نہیں ہے ۔عام شہریوں کی جھڑپو ں کے دوران اموات کا ذکر کرتے ہوئے جنرل انبوہ نے کہا کہ انکائونٹروں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے جہاں ملی ٹینٹوں اور فورسز کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں کئی بار کراس فائرنگ میں عام شہری بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ریاست میں این آئی اے کی طرف سے کی جانے والی چھاپہ ماری کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل نے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر کا صرف فوجی حل نہیں ہے ، ہم دوسری ایجنسیوں کا بھی تعائون چاہتے ہیں، اگر مرکزی اور ریاستی سرکاریں مل کر کام کریں تو حالات کو قابو میں لاکر ملی ٹینسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ این آئی اے کی کارروائی سے علیحدگی پسندوں کو مالی امداد بند ہو جائے گی جس سے وادی میں ملی ٹینسی پھیلانے کی کارروائی پر بھی روک لگ سکتی ہے ۔ اس مسئلہ کا سد باب کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت رخ فراہم کرنے کے لئے فوج بھی اوپریشن سدبھائونہ چلا رہی ہے ، دیگر بھی کئی اسکیمیں ہیں جن میں بچوں کو کوچنگ دینا شامل ہے ۔جنرل انبو ہ نے واضح کیا کہ فوج اپنے طور پر کچھ بھی نہیں کرتی ہے اور جو بھی کارروائی ہوتی ہے اس کے لئے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جاتا ہے ۔