فلسطین اور کشمیر کے مسائل حل کئے جائیں:انقلابی

 سرینگر// قومی محاذِ آزادی کے سینئر رُکن اعظم انقلابی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعی ایک المیہ ہے کہ اِس دنیا کی دوبڑی طاقتیں اب بھی سرد جنگ کے دَور کی بالواسطہ محاذ آرائی کی سوچ کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں مقتل سجانے میں ہی راحت اور اطمینان کا سامان تلاش کر رہی ہیں۔ روس اور امریکہ ایک دوسرے کے خلاف اپنے میزائل اور بم استعمال کریں گے نہیں، البتہ چھوٹے ملکوں کو قربانی کا بکرا بنانے میں ضرور دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر، فلسطین، افغانستان، شام، یمن اور دیگر علاقوں کے مسائل حل ہوتے نہیں۔ UNOاور OIC کے گلوبل ادارے بس کافی ہاؤس ہیں جہاں بحث و تکرار کے دوران قہوہ اور کباب سے محظوظ ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اِس پر مستزاد یہ کہ مسلم حکمرانوں کی ذہنی مغلوبیّت اور مر عو بیّت کی وجہ سے ملّی بے حسی کا سماں بندھا ہوا ہے۔ فلسطین کی مُزاحمتی تحریک کے تعلق سے اگر چہ OIC اور یورپی یونین  کے موقفِ میں موافق مماثلت موجود ہے تاہم دو اداروں کے درمیان اصلاحِ احوال کے لیے کوئی موثر رابطہ موجود نہیں۔پہلے ہی تقریباً 30لاکھ فلسطینی باشندے مختلف عرب ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزاررہے ہیں۔ یہاں 22لاکھ کشمیری مہاجرین پاکستان میں بے چینی اور اضطراب کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کے بچے صبح و شام کشمیر کا رُخ کرنے کا قصد کرتے رہتے ہیں۔ UN سیکریٹری جنرل بھارت اور پاکستان سے اپیل کرتے رہتے ہیں کہ دو ممالک مخاصمت اور ٹکراؤ کا راستہ ترک کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ اور یہاں غیّور و جسُور کشمیری باسی پرُامن جمہوری ریفرنڈم ہڑتال کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے فوری پرُامن تصفیہ کی ضرورت اور اہمیّت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ جمود اور تعطّل(stalemate) کے اِس ماحول میں ایشیا کے ممالک چین، پاکستان، ترکی، ایران اور سعودی عربیہ باہمی مشاورت کے ذریعے سفارتی اور سیاسی سطح پر ایسے حالات پیدا کر سکتے ہیں کہ امریکہ اور روس جیسے ممالک بھی دنیا کے اُلجھے ہوئے سیاسی مسائل کے تصفیہ کی تحریک میں خود اپنی عزت اور وقار کے تحفّظ کا سامان تلاش کرنے کا موقع پائیں۔