فعال صنعتی یونٹوں کو مالی معاونت فراہم کرنیکا حکم نامہ یکطرفہ

 سرینگر//حکومت کی طرف سے ریاست میں قائم فعال صنعتی یونٹوںکو معاونت فراہم کرنے کے حکم نامہ کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے صنعتکاروں کے مشترکہ پلیٹ فارم فیڈریشن چیمبرس آف انڈسٹریزکشمیر نے کہا کہ0 6ہزار میں سے صرف 282 ریاستی اکائیوں کی نشاندہی کی گئی ہے،جبکہ بیشتر مراعات کے حق دار بیرون ریاستوں کے صنعتی یونیٹوں کو بنایا گیا ہے۔صنعت کاروں کی طرف سے اس حکم نامہ کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیا۔ ریاستی محکمہ خزانہ نے گزشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتہ میں2ایس آر او، 519 اور 521 اجرا کئے،جن میں کہا گیا کہ ریاست میں موجودہ اہل صنعتی یونیٹوں کو سرکاری مراعات فراہم کی جائیں گی۔ پیر کو سرینگر میں صنعت کاروں نے ان سرکاری فرمانوں کے خلاف فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریزکشمیر کے جھنڈے تلے احتجاج کیا،تاہم جب انہوں نے ریذیڈنسی روڑ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی،تو وہاں پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے انکی کوشش ناکام بنا دی اور درجنوں صنعتی اکائیوں کے مالکان کو حراست میں لیا۔اس سے قبل فیڈریشن صدر مختار یوسف نے کہا کہ جموں میں بیرون ریاست سرمایہ داروں کو سرکار کی طرف سے مرکزی اشیاء و خدمات ٹیکس میں42فیصد واپسی،ریاستی خزانہ عامرہ پر ایک بوجھ ہے۔انہوں نے کہا’’ ریاستی حکومت کی طرف سے مرکزی اشیاء و خدمات ٹیکس میں42فیصد ٹیکس،اورمرکزی حکومت کی طرف سے58فیصد ٹیکس کی واپسی کیلئے ریاست میں موجود60ہزار صنعتی اکائیوں میں صرف282کی نشاندہی کی گئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایس آر او519اور521 کی اجرائی ریاستی انتظامیہ کی طرف سے مقامی صنعت کیلئے لاتعلق روئے کی عکاسی کرتی ہے،جو انتظامی اور دیگر رکاوٹوں کے باوجود زندہ ہے۔مختار یوسف نے کہا ’’ہم کسی بھی صنعتی یونٹ کا ٹیکس واپس کرنے کے خلاف نہیں ،تاہم کسی جگہ’’کوئی معاہدہ ہوا ہے‘‘،جس کی وجہ سے حکومت نے ایس آرآوز کو جلد بازی میںمنظر عام پر لایا،جبکہ بیشتر مقامی صنعتی کاائیوں کو سرد بستے کی نذر کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن صنعتی یونیٹوں کو مراعات کی فہرست میںرکھا گیا ہے،ان میں سے90فیصد صنعتی یونٹ بیرون ریاست سرمایہ داروں نے جموں کے سانبہ اور کھٹوعہ میں قائم کئے ہیں۔ مختار یوسف نے کہا کہ جب ان  بڑے صنعتی اکائیوں کو صد فی فیصد ریاستی اشیاء و خدمات ٹیکس کی واپسی اور42فیصد مرکزی و اشیاء و خدمات ٹیکس کی واپسی کی سکیم میں رکھا گیا ہے تومقامی صنعتی یونیٹوں کے مالکان کو صرف یقین دہانیاں دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ ان صنعتی یونٹوں کو دائرے میں لانے والے فرمان کو اجرا کرنے کی کیا جلدی تھی،جبکہ مقامی صنعت کاروں کو نظر انداز کیا گیا۔اس دوران صنعت کار شکیل قلندر نے کہا کہ ان ایس آر اوز سے بیشتر بیرون ریاست کے صنعت کاروں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ریاست کمپنیوں کی سالانہ آمدنی ہزاروں کروڑ روپے  ہے،جس کا مطلب یہ ہوگا کہ جو مرکزی اشیاء و خدمات ٹیکس واپس کیا جائے گا وہ بھی بڑی رقم ہوگی۔ شکیل قلند رنے کہا’’ یہ دو ایس آراوز عجیب و غریب ہیں،کیونکہ ان سے ریاستی سرکار کو بیرون ریاست کمپنیوں کو بڑی رقم واپس کرنی پڑے گی ۔انہوں نے کہا کہ ایسا نظر آرہا ہے کہ حکومت پر بیرونی دبائو ہے۔اس دوران فیڈریشن چیمبرس آف انڈسٹریز کشمیر نے ان ایس آر اوز کو التواء میں رکھنے کا مطالبہ کیا ہے،جب تک نہ اسی طرح کی مراعات بغیر کسی امتیاز کے مقامی صنعت کاروں کو فراہم نہیں کی جاتی۔