فضل خودکشی معاملہ :پولیس نے 3افراد سے پوچھ تاچھ شروع کردی

راجوری //بدھل کے علاقے ترگائیںسے تعلق رکھنے والے پچیس الہ فضل حسین ولد محمد عبداللہ کی خودکشی کے معاملے پر پولیس نے تین افراد کو حراست میں لیکر ان سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے ۔ ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ ڈھنڈوٹ اور ترگائیںسے تعلق رکھنے والے تین افراد کو پولیس تھانہ بدھل بلایاگیا جہاں ایس ایس پی راجوری کی ہدایت اور ایس ایچ او کی قیادت میں ٹیم ان سے پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔پولیس کے ایک افسر نے بتایاکہ زیر حراست افراد سے پوچھ تاچھ کا سلسلہ جاری ہے اور تحقیقاتی عمل کادائرہ مزید لوگوں تک پھیلایاجاسکتاہے ۔انہوںنے بتایاکہ پولیس اس لڑکی کے گھر والوںسے بھی پوچھ تاچھ کررہی ہے جس نے فضل پر پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیاتھا ۔انہوںنے بتایاکہ کچھ لوگوں کو طلب کرکے ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے اور یہ عمل جاری ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچیس سالہ فضل نے گزشتہ ہفتے سمارٹ سرجھیل میں کود کر خودکشی کرلی تھی اور اس نے اس اقدام سے قبل ایک صوتی پیغام میں کہاتھاکہ وہ ایسا اس لئے کررہاہے کیونکہ مقامی پنچایت نے اس کو جنسی زیادتی کا مجرم ٹھہراکر ایک خاتون کا پیشاب پینے کی سزا سنائی ہے ۔اس پیغام میں کہتاہے کہ اس پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں اور اب ایسا فعل انجام دینے کیلئے کہاجارہاہے جو غیراسلامی ہے اس لئے اس نے خودکشی کرنے کا سخت اقدام اٹھایاہے ۔