فضائی کمپنیوں کا استحصالی رویہ

سرینگر//کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سرینگر سیکٹر کیلئے فضائی کمپنیوں کی طرف سے مسافروں کااستحصال کرنے کا گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے نوٹس لینے اور اس کے ما بعدگورنر کے مشیر خورشیداحمدگنائی کی طرف سے اس معاملے پر کارروائی کرنے کاخیرمقدم کیا ہے ۔ایک بیان میں کشمیر چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر نثار احمد خان نے کہا کہ چیمبراس نازک مسئلہ کو کافی عرصہ سے اُٹھارہا تھااور اس سلسلے میں حکومت کو کئی تجاویزبھی پیش کی تھیں اور اب ہمیں اُمید ہے کہ اس سلسلے میں کارگر اقدام کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خودغرض عناصر موقعہ کا فائدہ اُٹھا کر بے یارومددگار مسافروں کااستحصال کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی امتیازی ہے کہ ایک مسافر300سے700کلومیٹر کے سفر کیلئے2000روپے کرایہ اداکرتا ہے اور دوسرے مسافر سے اسی سفر کیلئے 30000روپے وصول کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا سے کشمیر کا واحد رابطہ جموں سرینگر شاہراہ جو سرما کے اکثر ایام بندرہتی ہے،پوری آبادی کیلئے ہوائی سفر واحد متبادل ہوتا ہے اور خودغرض عناصرکیلئے یہ سونے کاانڈہ دینے والی مرغی بن جاتی ہے۔خان نے کہا کہ یہ نہ صرف سیاحتی معاملہ ہے بلکہ عام لوگوں کے مفاد کا مسئلہ ہے جس میں آبادی کی اکثریت کااستحصال کیا جاتا ہے اور اُنہیں یرغمال بنایا جاتا ہے ۔کشمیرچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اگرچہ گورنر انتظامیہ کی طرف سے انتباہ جاری کرنے کو سراہا تاہم اس نے مزیدسخت اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔بیان میں چیمبر نے اس سلسلے میں تجاویز بھی پیش کی ہیں جن میں  ہوائی سفر کولازمی خدمات کے قانون کے دائرے میں لانا،ریاستی حکومت کی طرف سے کثیر تعداد میں ٹکٹوں کو خریدنا اور ہنگامی طبی حالات ، طلباء اور نجی سیکٹر جس میں سیاحتی شعبہ بھی شامل ہیں کیلئے ٹکٹوں کا کوٹا مخصوص رکھنا شامل ہے ۔چیمبر نے یہ تجویزبھی شامل پیش کی کہ سرینگر کیلئے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے  اور ٹکٹوں کی مبینہ کالابازاری کی تحقیقات  اور اس استحصال میں ملوث افراد اور اداروں کی شناخت  کے علاوہ سرینگر ائرپورٹ پر داخلہ کے عمل کو کم تکلیف دہ بنانا بھی شامل ہیں۔