فرض شناس اساتذہ کرام کو سلام

 ہم اپنی آنکھوں کی روشنی سے دنیا کو دیکھتے ہیں پرکھتے ہیں اور زندگی کے بہت سارے تجربات حاصل کرتے ہیں سیکھتے ہیں چیزیں دیکھنے کے بعد اس پر ہمارا رد عمل ہماری ہی سوچ کہ ہم نے کیا دیکھا اور کیا دیکھنا چاہتے سب کی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری آنکھیں اچھائی کو بھی دیکھتی ہیں اور برائی کو بھی لیکن ہم کس چیز کو اپناتے ہیں یہ ہماری سوچ اور ضمیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہم اچھائی دیکھتے ہیں لیکن اپنی سوچ کی وجہ سے اس میں برائی کی تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جو اچھا کام کر رہا ہے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دوسروں کو بھی آگاہ کرنا چاہیے تاکہ ان کو دیکھ کر دوسروں کا حوصلہ بلند ہو اور معاشرے میں اچھائی کی اہمیت بڑھ جائے-
آج صبح کسی کام کے سلسلے میں گھر سے شہر کی طرف جارہا تھا تو دل میں اچانک دل میں خیال آیا کہ آج انڈس ہائی وے کی بجائے مشرقی جانب لنک روڈ کو استعمال کرتا ہوں کوئی ایسی کہانی مل جائے جس کو اپنے لفظوں کے سانچے میں ڈھال سکوں۔ میں نے جب انڈس ہائی وے اتر کر لنک روڈ کا رخ کیا تو ایک پرائمری سکول ٹیچر محمد صدیق صاحب ایک چار پانچ سال کے بچے کے ہمراہ اپنے سکول پیدل جا رہے تھے میں نے احتراماً ماسٹر صدیق صاحب کے پاس اپنی موٹر سائیکل روکی اور ان کو سکول تک چھوڑنے کی گزارش کی ان کی مہربانی وہ میرے ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے میں نے ماسٹر صاحب سے پوچھا یہ بچہ آپ کا کیا لگتا ہے انہوں نے کہا اس بچے کا نام شکیل ہے یہ میرے گھر کے قریب رہتا ہے اس کا والد ان پڑھ ہے لیکن بچے کو پڑھنے کا شوق ہے یہ صبح سویرے تیار ہو کر میرے پاس آجاتا ہے اور میں اسے اپنے ساتھ سکول لے جاتا ہوں اور چھٹی کے وقت بھی میرے ساتھ ہی واپس آتا ہے-
ماسٹر صدیق صاحب کی یہ بات میرے لئے کسی حیرانی سے کم نہ تھی کہ آج کے دور میں اپنے پیشے سے مخلص ہونے کے علاوہ ایک ایسی ذمہ داری ادا کر رہیں جو کہ اس بچے کے والدین کو ادا کرنی چاہیے تھی ایسے تو نہیں کہا جاتا استاد کو والدین کا رتبہ حاصل ہے۔ میرے خیال میں ماسٹر محمد صدیق صاحب کی ذمہ داری صرف سکول میں بچوں کو پڑھانے کی ہے لیکن وہ تعلیم دینے کے ساتھ معاشرے کے ایک اہم فرد کی حیثیت سے اپنی ذمہ بھی خوب نبھا رہے ہیں شاید ان کی یہ خوبی اور اچھائی محکمہ کے افسران اور ادارے کے سربراہ کو نظر نہ آئی ہو مجھے نظر آئی تو میں اس کا اظہار کر رہا ہوں آپ تصویر کو غور سے دیکھیں تو اس میں سورج اپنی پور آب تاب کے ساتھ روشن ہو کر طلوع ہو رہا مجھے تصویر میں دو سورج طلوع ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں ایک وہ سورج جو شام کو ڈوب جاتا ہے دوسرا وہ جو کبھی نہیں ڈوبتا وہ اس بچے کا روشن مسقبل جو ایسے ہی ماسٹر محمد صدیق کی طرح آگے علم کی روشنی پھیلاتا رہے گا-
ماسٹر محمد صدیق کی طرح اور بھی ایسے قابل احترام استاتذہ کرام ہوں گے جو اب تک ہماری کئی نسلوں کا مستقبل روشن کر چکے ہیں لیکن ہم اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں۔ آج کے دور میں استاد ایک مظلوم طبقہ بن کر رہے گیا ہے جس کو عزت احترام دینا چاہیے تھا اس کی ہم تذلیل کر رہے ہیں اس کو مختلف دفتری کاموں الیکشن ڈیوٹی اور بچے جمع کرنے پر لگا دیا ہے اوپر سے ظلم یہ کیا ایک میٹرک پاس ریٹیرڈ فوج کو اس کے اوپر لگا دیا چلو اس کی غلطیاں تلاش کر کے لے آؤ حالانکہ ایسا شخص جو اپنے محکمہ سے ناکارہ ہو چکا ہے اسے قوم بنانے والے استاد کا افسر بنا دیا گیا ہے کیا اس نے کبھی استاد کئ اضافی ڈیوٹی اور اچھے کام کا لکھ کر بھیجا ہے کبھی نہیں، اس کی ڈیوٹی صرف خامیاں تلاش کرنا ہے ۔ مجھے اپنے یہاں خواتین و مرد ٹیچرز کو پولیس کے ہاتھوں ڈنڈے کھاتا دیکھ کر بہت افسوس ہوا اس موقع پر ایک استاد کی بات یاد آ گئی کہ اگر حکومت اور ادارے ہم ٹیچرز کو غلط سمجھتے ہیں تو ہمیں وہ سب ڈگریاں واپس کر دی جائیں جو اب تک ہم بچوں کو پڑھا چکے ہیں-
ایک استاد معاشرے کو تشکیل دینے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے وہ علم کے ذریعے مجھے اور آپ کو اور ہم سب کے بچوں کے رویوں کی تعمیر کرتا ہے میں آخر میں ماسٹر محمد صدیق کو سلوٹ پیش کرتا ہوں اور ان جیسے دیگر اساتذہ کرام کو بھی جو اپنے پیشے اور معاشرے کے ساتھ مخلص ہیں اور تعلیم وتدریس کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ ہمارے سماج کوسٹر محمد صدیق جیسےعظیم  مدرسین کے اعلیٰ مدرسانہ کردار پر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ اس کے علاوہ حکومتی ذمہ داروں کو بھی فرض شناس اور باضمیر استاتذہ کرام کی عزت کرےم ان کی حوصلہ افزائی کریے کہ یہی لوگ ہماری نسلوں کے معمار ہیں ، دنیا کے بہی خواہ ہیں اور مذہبی طور بھی ان کی قدر ہمارے اوپر واجب ہے۔