فرصل کولگام اور کھریو پلوامہ میونسپل کمیٹیوں میں کوئی امیدوار نہیں

اننت ناگ // اب جبکہ بلدیاتی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں کاغزات نامزدگی دال کرنے کی تاریخ سوموار کو ختم ہوئی،ایک اور میونسپل کمیٹی میں کوئی الیکشن نہیں ہوگا کیونکہ یہاںکوئی بھی امیدوار چنائو لڑنے کیلئے سامنے نہیں آیا۔اسکے علاوہ پلوامہ اور شوپیان کی 2میونسپل کمیٹیوں میں صرف بھاجپا کے امیدوار میدان میں ہیں، جو بلا مقابلہ کامیاب ہونگے۔علاوہ ازیں جنوبی کشمیر کی کل 20میونسپل کمیٹیوں میں صرف 4میں چنائو ہونے جارہے ہیں کیونکہ دیگر کمیٹیوں میں امیدوار بلا مقابلہ ہی کامیاب قرار پائیں گے۔آخری مرحلے میں میونسپل کمیٹیوں کے انتخابات 16اکتوبر کو ہانے جارہے ہیں۔کھریو پلوامہ کے 13وارڑوں میں کسی بھی امیدوار نے فام نہیں بھرا ہے، لہٰذا یہاں الیکشن نہیں ہوگا۔ کھریو جنوبی کشمیر کی فرصل کولگام کے بعد دوسری میونسپل کمیٹی ہے جہاں فرصل کی طرح کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا ہے۔مجموعی طور پر جنوبی کشمیر کی میونسپل کمیٹیوں میں محض چند افراد ہی سامنے آئے ہیں جن میں زیادہ تر بی جے پی اور کانگریس کے امیدوار ہی ہیں۔جنوبی کشمیر کے 4اضلاع اننت ناگ،کولگام، شوپیان اور پلوامہ کی 20میونسپل کمیٹیوں میں چنائو کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ یہاں مد مقابل کوئی امیدوار ہی نہیں ہے، کچھ وارڈوں میں صرف ایک ہی امیدوار ہی جو آسانی کیساتھ کامیاب قرار پائے گا۔میونسپل کونسل اننت ناگ اور میونسپل کمیٹی ڈورو ویری ناگ واحد دو بلدیاتی ادارے ہیں جہاں ہر ایک وارڈ میں دو یا کہیں کہیں تین تین امیدوار میدان میں ہیں۔اس دوران میونسپل کمیٹی پلوامہ، پانپور اور شوپیان میں صرف بھاجپا سے وابستہ امیدواروں نے فارم بھرے ہیں۔ایک آفیسر کا کہنا ہے ’’ پلوامہ کے 13وارڈوں میں صرف 4امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سبھی بی جے پی کے وابستہ ہیں، جو بلا مقابلہ کامیاب ہونگے‘‘۔انہوں نے کہا کہ باقی 9وارڈوں میں کوئی الیکشن نہیں ہوگا کیونکہ کسی نے یہاں فارم نہیں بھرا ہے۔اسی طرح پانپور میونسپل کمیٹی کے 17وارڈوں میں صرف 5امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 4بی جے پی کے جبکہ ایک آزاد امیدوار ہے۔یہاں بھی کسی الیکشن کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ پانچوں بلا مقابلہ کامیاب ہونگے۔دیگر 12وارڈوں میں کسی نے فارم نہیں بھرا ہے۔ان میونسپل کمیٹیوں میں کانگریس کسی کارکن کو چنائو میں حصہ لینے پر راضی نہیں کرسکی ہے۔شوپیان میونسپل کمیٹی کے 17وارڈ ہیں۔یہ ضلع میں واحد میونسپل کمیٹی ہے۔یہاں 13امیدوار میدان میں ہیں۔یہ سبھی بھاجپا کے امیدوار ہیں جو بلا مقابلہ کامیاب ہوجائیں گے، اس طرح یہاں انتخابات کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔یہاں 4وارڈوں میں کسی نے بھی فارم نہیں بھرا ہے۔یہ سبھی امیدوار مہاجر کشمیری پنڈت ہیں۔تاہم ڈورو ویری ناگ میونسپل کمیٹی کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔یہاں کانگریس اور بی جے پی نے تمام وارڈوں کیلئے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔یہاں کل 17وارڈ ہیں جہاں31امیدوار میدان میں ہیں۔ان میں سے14بھاجپا اور 17کانگریس سے وابستہ ہیں۔ایسا صاف دکھائی دے رہا ہے کہ جنوبی کشمیر میں بھاجپا کے امیدوار بھاری تعداد میں چنائو جیت جائیں گے، کیونکہ وہ زیادہ تر بلا مقابلہ کامیاب ہوجائیں گے۔تیسرے مرحلے میں پہلے ہی ترال میونسپل کمیٹی میں بھاجپا کے 3امیدوار،پہلگام میں 8اور سیر ہمدان میں 2امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔اسی طرح میونسپل کمیٹی قاضی گنڈ میں بھاجپا 4پر کامیابی حاصل کرے گی۔پہلے مرحلے میں میونسپل کمیٹی کولگام کے 13وارڈوں میں 6امیدوار میدان میں ہیں ، جن میں سے نصف بھاجپا کے ہیں، جو بلا مقابلہ کامیاب ہونگے۔یاری پورہ میونسپل کمیٹی کے 7وارڈوں میں 4امیدوار سامنے آئے ہیں، جبکہ فرصل میں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔میونسپل کمیٹی بجبہاڑہ ، جہاں دوسرے مرحلے میں چنائو ہونے جارہا ہے،یہاں 17وارڈوں میں 6امیدواروں نے فارم بھرے ہیں جن میں 3بی جے پی کے ہیں۔یہ سبھی بھاجپا امیدوار بھی بلا مقابلہ کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ مقابلے میں کوئی نہیں ہے۔اچھہ بل میونسپل کمیٹی، جہاں چنائو پہلے مرحلے میں ہوگا، یہاں6بھاجپا امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوجایں گے جن میں ماں بیٹا شامل ہیں اور یہ سبھی بی جے پی کے امیدوار ہیں اور سبھی مہاجر کشمیری پنڈت ہیں۔کوکر ناگ میونسپل کمیٹی واحد ایسا بلدیاتی ادارہ ہے جہاں بھاجپا کا کوئی امیدوار نہیں ہے۔یہاں 20امیدوار میدان میں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کی لگ بھگ زیادہ میونسپل کمیٹیوں میں یا تو صرف ایک امیدوار میدان میں ہے یا پھر کوئی امیدوار ہی میدان میں ہے۔ اس لئے یہاں چنائو کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ان میونسپل کمیٹیوں میں فرصل، کھریو،ترال،اونتی پو ر ہ ، پا نپو ر ، پلو ا مہ ، شو پیا ن ، کولگام،یاری پورہ،دیوسر،قاضی گنڈ، بجبہاڑہ،پہلگام،عیشمقام،سیر ہمدان اور اچھہ بل شامل ہیں۔تاہم میونسپل کمیٹی ڈورو،کوکر ناگ، مٹن،اننت ناگ میں انتخابات ہونگے۔