فتح کدل میں صحافیوں کا زدوکوب

صحافتی انجمنوں اور نیشنل کانفرنس کاشدیدردعمل

 
سرینگر// فتح کدل علاقہ میں جنگجوئوں اور فورسزکے درمیان ہوئی معرکہ آرائی کے دوران پرنٹ والیکٹرانک میڈیا سے وابستہ نامہ نگاروں اورویڈیووفوٹوجرنلسٹوں کو اُسوقت پیشہ وارانہ خدمات انجام دینے  سے روکا گیا اور فورسز اہلکاروں نے اُنکی مارپیٹ شروع کردی ،اوراُنھیں بھگانے کیلئے ہوامیں گولیوں کے کئی رائونڈبھی فائر کئے۔ فتح کدل انکائونٹرکی کوریج کررہے نامہ نگاروں ،ویڈیواورفوٹوجرنلسٹوں پر سیکورٹی اہلکارٹوٹ پڑے ،اوراُنکی مارپیٹ شروع کردی۔ میڈیاسے وابستہ تقریباً20افراد کی شدید مارپیٹ کی گئی جسکے دوران نصف درجن افرادکوچوٹیں آئیں ،جن میں قاضی ارشاد، آصف قریشی،منظورمیر،ارشداحمد،وسیم اندرابی اورباسط زرگر شامل ہیں۔ جب سیکورٹی اہلکارمیڈیا افرادکی مارپیٹ کررہے تھے،اُسوقت پولیس کے کچھ سینئرافسران بھی موجودتھے  لیکن وہ تماشا دیکھتے رہ گئے۔اس دورانصحافیوں پر پولیس تشدد کی زبردست الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فیڈریشن آف اردو ورکنگ جرنلسٹس نے کہا کہ صحافیوں کے پیشہ وارانہ ذمہ داریوں میںنہ صرف رخنہ ڈالا گیا،بلکہ انکے ساتھ زیادتی بھی کی گئی۔فیڈریشن کے ترجمان نے کہا کہ فوٹو اور ویڈیو جرنلسٹوں کے علاوہ نامہ نگاروں کو بھی نشانہ بنا یا گیا،جو بے حد قابل افسوس اور مذمت ہے۔ترجمان نے بتایا کہ اس سے قبل بھی کپوارہ میں صحافیوں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے سے روک دیا گیا۔ادھرنیشنل کانفرنس نے صحافیوں پر اپنے فرائض انجام دینے کے دوران حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا  ہے کہ ایسے واقعات کی ایک جمہوری نظام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ جس طرح سے فورسز اہلکار کو تصاویر اور ویڈیو میں صحافیوں پر پتھرائو اور مارپیٹ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی ملوث اہلکاروں کیخلاف کیس درج کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔گذشتہ4سال کے دوران صحافیوں، اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کیساتھ جو واقعات پیش آئے وہ اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی گورنر پر زور دیا کہ وہ ذاتی طور پر دلچسپی لیکر آج کے واقعے میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے۔