فالج میں مبتلا ماں انصاف کی منتظر

سرینگر //18ماہ قبل قمرواری سرینگر میں پراسرار طور پر قتل کئے گے کرسن لولاب کے رہبر تعلیم استاد جاوید احمد خان کی والدہ سارہ بیگم کی داستان الم سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن فالج میں مبتلا اس خواتین کی چیخ وپکار ریاستی سرکار اور پولیس کے اعلیٰ آفیسران کے کانوں تک نہیں پہنچتی کیونکہ دوبرس قبل اس خاتون کے بیٹے کا پراسرار قتل ہوا اور پولیس قتل کا سراغ نکالنے میں ناکام ہوئی ہے ۔سارہ بیگم پر پچھلے چار برسوں کے دوران تین مرتبہ قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور غم میں نڈھال یہ عمر رسیدہ ماں بستر علالت پر لیٹی صرف ایک ہی بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ اُس کے بیٹے کے قاتلوں کو سزا دی جائے ۔ کپوارہ سے 16کلو میٹر دور خان محلہ کرسن لولاب کا رہنے والا جاید احمد خان پیشے سے رہبر تعلیم استاد تھا اور اپنے کنبے کے 8بچوں اور تین خواتین کا پیٹ پالتا تھا ۔15اگست2015کو جاوید کا پراسرار قتل سرینگر کے قمرواری علاقے میں ہوا اور اس طرح گھر کا یہ واحل کماﺅ بھی اس دنیا سے چل بسا اگرچہ اس کے بعد گھر کے باقی افراد خانہ نے دھیرے دھیرے اپنے آپ کو سنبھالا لیکن جاوید کی ماں اپنے بیٹے کے غم میں ندھال ہے ۔ جاوید کے بیٹے عامر خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پولیس کی نے میرے والد کے قاتلوں کا سراغ نہیں نکال سکا ہے جبکہ ہم نے کئی مرتبہ اس سلسلے میں پولیس سٹیشن پارمپورہ کے چکر بھی کاٹے ہیں ۔ عامر نے بتایا کہ 15اگست 2015کو جب میرے والد کا قتل ہوا تو اُس کے بعد پولیس سٹیشن پارمپورہ میں ایک ایف آئی آر زیر نمبر 308/15زیر دفعہ 302درج کر کے تحقیقات شروع کی گئی ،لیکن یہ تحقیقات 18ماہ بعد بھی مکمل نہیں ہو سکی ہے ۔عامر کہتا ہے کہ گھر کے افراد خانہ کی حالت اب ایسی ہے کہ کوئی بھی گھر سے دور نہیں جاتا ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں اُن کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش نہ آئے ۔عامر نے کہا کہ اگر گھر کا کوئی فرد کسی رشتہ دار کے یہاں بھی چلاجاتا ہے تو گھر والوں کو اُس کی فکر لگ جاتی ہے ۔عامر کی دادی اور جاوید کی والدہ سارہ بیگم آنکھوں میں آنسوں کے سیلاب لئے صر ف سرکار اور پولیس سے یہیءمطالبہ کر رہی ہے کہ اُس کے بیٹے کے قاتلوں کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسا کرنے کی کوئی جرت نہ کرے ۔ سارہ بیگم نے آنکھوں میں آنسو ںلئے کہا کہ جاوید گھر کا واحد کماﺅتھا جبکہ اس سے قبل ا±س کا والد کافی عرصہ تک بیمار رہنے کے بعد فوت ہوا اور پھر گھر کا سارا نظام اس کا چھوٹا بھائی غلام قادر چلا رہا تھا۔ اس کنبے کی بدقسمتی کہ جاوید کے قتل سے چار ماہ قبل اچانک غلام قادر کی چھاتی میں درد محسوس ہوا اور وہ بھی اس دنیا سے لقمہ اجل بن گیا۔سارا نے کہا ”ابھی غلام قادر کی موت کا ہی میں ماتم منا رہی تھی کہ اچانک جاوید کے قتل کی خبر سنی جاوید کے قتل کی خبر نے میری دنیا ہی اُجاڑ دی “۔سارا نے کہا کہ جاوید کو دو برس قبل نامعلوم درندہ صفت افراد نے موت کے گھاٹ ا±تار دیا۔ سارہ بیگم نے ریاستی سرکار اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ اُس کے بیٹے کے قاتلوں کو پکر کر انہیں سزا دی جائے ۔ اس حوالے سے ایس ایچ او پارمپورہ نثار احمد بخشی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی کیس آیسا ہوتا ہے جس کو دو گھنٹوں  میں حل کیا جاتا ہے لیکن کوئی کیس ایسے ہوتے ہیں جن کو حل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس زیر تحقیقات ہے ۔