فارنیسک سائنس لیبارٹری سرینگر

سرینگر//سرینگرکی فارنیسک سائنس لیبارٹری کو عنقریب جدیدتر سہولیات سے لیس ڈی این اے ٹیسٹنگ سہولیات سے آراستہ کیاجائے گا۔ڈائریکٹر فارنسک سائنس لیبارٹری آنندجین نے’کشمیرعظمیٰ‘کوبتایا کہ اب وہ زمانہ گیا ،جب ہمیں چھوٹے چھوٹے نمونے بھی جانچ کیلئے چندی گڑھ کی فارنیسک سائنس لیبارٹری کوروانہ کرنے پڑتے تھے۔انہوں نے کہا کہ سرینگر کی فارنیسک سائنس لیبارٹری میں اولین ڈی این اے ٹیسٹنگ سہولیت نصب کرنے کیلئے تمام لوازمات پورے کئے گئے ہیں اور جلد ہی ہمیں ٹیسٹنگ آلات کی نئی کھیپ موصول ہوگی۔جین نے کہا کہ ایک بار آلات سرینگر پہنچے،تو تمام اہم ٹیسٹ یہی پر ہوں گے ۔  ہماراچندی گڑھ کی لیبارٹری پرانحصارختم ہوگااور سرینگر کی فارنیسک سائنس لیبارٹری میں ڈی این اے ٹیسٹنگ سہولیات کی تنصیب ایک سنگ میل ہوگا۔ سرینگراور جموں کی فارنیسک سائنس لیبارٹریوں میںافرادی قوت معہ سائنسی ماہرین کی کمی پر بات کرتے ہوئے جین نے کہادونوں جگہوں پر بھرتی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پرشروع کیا گیا ہے اور عنقریب ہی تمام خالی اسامیوں کو قواعدوضوابط کے تحت پُر کیاجائیگا ۔عملے کی کمی پر قابو پانے کیلئے بھرتی عمل تیزتر بنیادوں پر مکمل کیاجائے گا۔ذرائع کے مطابق فی الوقت  جموں اور سرینگر کی فارنیسک سائنس لیبارٹریوں میں کام کاج انجام دینے کیلئے 40فیصد عملہ پولیس ہیڈکوارٹر سے لایا گیا ہے۔ قواعد کے تحت ہرایک فارنسک لیبارٹڑی کیلئے ایک افسر،دواسسٹنٹ سائنٹفک افسر،دو لیبارٹری اسسٹنٹ  اور دو لیبارٹری اٹنڈنٹ ہونے چاہییں۔سابق بھاجپا پی ڈی پی حکومت نے 2017میں ریاستی اسمبلی کے ایوان میں اس بات کاعتراف کیاتھا کہ  محکمہ میں 20منظور شدہ اسامیوں میں سے9خالی ہیں۔حکام کے مطابق جموں اورسرینگر کی فارنیسک سائنس لیبارٹریوں میں تعینات90فیصد عملہ2020تک سبکدوش ہوجائے گا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران فارنسک سائنس لیبارٹری میں ایک بھی اسامی کو ،مشتہر نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے اس کا کام کاج بری طرح متاثر ہوا۔ ایک افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سالہاسال سے لیبارٹری کیلئے درکار آلات بھی تاخیر سے حاصل کئے گئے۔متعدد  ٹیسٹنگ مشینیں اور آلات میں خرابی پیدا ہوئیں اور ان کی کبھی مرمت بھی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ فارنسک سائنس لیبارٹری سرینگر میں فنگر پرنٹ ماہر نہیں ہے اور چھوٹے نمونے بھی یہاں سے چندی گڑھ روانہ کئے جاتے ہیں ۔