فارنسک لیبارٹری میں صرف6نمونے زیر تحقیق

سرینگر //پچھلے ایک ماہ میں وادی میں گیسو تراشی کے کم و بیش 140 واقعات میں سے صرف 6 کیسو ں میں متاثرین کے بالوں کے نمونوںکو تحقیقات کیلئے فارنسک سائنس لیبارٹری سرینگر بھیجاگیا ہے ۔ یہ واقعات کائو محلہ خانیار اور اننت ناگ میں پیش آئے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ فارنسیک سائنس لیبارٹری سرینگر نے پہلے ہی جموں صوبے میں ہوئے گیسو تراشی کے5 واقعات کی تحقیق کرکے سپرے کے استعمال کو مسترد کیا ہے تاہم وادی میں گیسو تراشی فارنیسک ماہرین کیلئے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ سائنسی بنیادوں پر کیسو ں کی تحقیق کرنے والی فارنسیک سائنس لیبارٹری سرینگرابھی تک گیسو تراشی کے معاملے میں کوئی بھی ثبوت جمع کرنے میں ناکام رہی ہے۔باوثوق ذرائع سے کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ وادی میں پچھلے ایک ماہ کے دوران رونما ہونے والے 140واقعات میں سے 6کیسوں کی تحقیقات کیلئے بالوں کے نمونے فارنسیک سائنس لیبارٹری کو منتقل کئے گئے ہیں۔ لیکن فارنسیک ماہرین ابتک کسی بھی کیس میں سپرے کے استعمال کی تصدیق نہیں کرسکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے چہروں سے سپرے کے نمونے حاصل کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر سپرے  غیر مستحکم(Volatile) کیمیائی ادویات کا بنا ہوتا ہے اور ایسے سپرے کے نمونے حاصل کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سپرے کیونکہ غیر مستحکم ہوتے ہیں، اسلئے نمونے جتنی جلد حاصل کئے جائیںنتیجے بھی بہتر سامنے آتے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل جموں صوبے میں پیش آئے گیسو تراشی کے واقعات میں سے 5کیسوں کے نمونے فارنسیک سائنس لیبارٹری بھیجے گئے تھے، تاہم تحقیق کے دوران فارنسیک ماہرین نے جموں صوبے میں سپرے کے استعمال سے انکار کیا تھا۔