فائنل میں جانے کے لئے چنئی ،حیدرآباد آمنے سامن

ممبئی؍ انڈین پریمئیر لیگ -11 اپنے آخری مرحلے پر پہنچ گیا ہے ۔ جہاں منگل کو دو بار کی چیمپئن چنئی سپر کنگس اور گروپ میچوں میں اپنے آل راؤنڈر کارکردگی کی بدولت سرفہرست پر رہی سن رائز حیدرآباد فائنل کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے ٹورنامنٹ کے پہلے کوالیفائر میں آمنے سامنے ہوں گے ۔ حیدرآباد کی ٹیم نے گروپ مرحلہ میں 14 میچوں میں نو میچ جیتے اور پانچ ہارے اور وہ 18 پوائنٹ کے ساتھ سرفہرست رہی جبکہ چنئی کی ٹیم بھی ایک جیسے پوائنٹس کے باوجود تھوڑے سے نیٹ رن کے فرق سے پچھڑ کر دوسرے پائیدان پر رہی ہے ۔ حالانکہ ٹورنامنٹ کی سب سے کامیاب ٹیموں میں شمار کی جانے والی مہیندر سنگھ دھونی کی کپتانی والی چنئی کی کوشش رہے گی کہ وہ اسی میچ میں جگہ بنالے ۔چنئی نے گزشتہ میچوں میں آخری تین مقابلوں میں حیدرآباد کو 8 وکٹ ، دہلی ڈیئر ڈیولس کو 34 رن اور آخری 56 ویں گروپ میچ میں کنگس الیون پنجاب کو پانچ وکٹ سے ہرایا۔ وہیں حیدر آباد کی ٹیم بھی کوشش کرے گی کہ وہ چنئی سے گزشتہ شکست کابدلے لینے کے ساتھ فائنل میں سیدھے داخل ہوجائے ۔حیدرآباد کو آخری تین میچوں میں چنئی سے آٹھ وکٹ، رائل چیلنجرز بنگلور سے 14 رنز اور کولکاتا نائٹ رائڈرس سے پانچ وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے اس کی تال بگاڑ دی ہے اور ٹیم پر اس کا نفسیاتی دباؤ بھی ضرور ہوا ہو گا ۔تال کھو چکی حیدرآباد یا اچھی فارم میں کھیل رہی چنئی میں کوئی میچ ہارتا بھی ہے تو ٹاپ دو میں رہنے کا انہیں فائدہ ملے گا اور ہارنے والی ٹیم کو دوسرے کوالیفائنگ میں ایلی منیٹر کی فاتح ٹیم سے کھیل کر فائنل میں جگہ بنانے کا آخری موقع ہوگا۔لیکن دونوں ہی ٹیموں کی کوشش وانکھیڑے میں فائنل کا ٹکٹ حاصل کرنے کی رہیں گی۔آئی پی ایل میں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے دو سال معطلی کا سامنا کر چکی ماہی کی ٹیم اس بار تیسرے خطاب کے ساتھ اپنی پچھلی تلخ یادوں کو بھلانے کے لیے کھیل رہی ہے ۔ٹورنامنٹ میں گزشتہ ریکارڈ کو دیکھیں تو وہ یقینا سب سے زیادہ کامیاب ٹیموں میں ہے ۔دھونی کی کپتانی اور آئی پی ایل کے سب سے زیادہ کامیاب رنز بنانے والے سریش رینا، کیریبین کھلاڑی ڈوائن براوو، رویندر جڈیجہ کی طرح کچھ پرانے چہروں والی چنئی آئی پی ایل کے اپنے نو برسوں میں چھ بار فائنل میں پہنچی ہے ۔سال 2016 اور 2017 میں آئی پی ایل ٹورنامنٹ سے معطلی کی وجہ سے باہر رہی چنئی کی ٹیم سال 2008، 2012، 2013 اور 2015 میں رنر اپ رہی ہے جبکہ سال 2010 اور 2011 میں مسلسل دو بار چمپئن بنی تھی۔اگر وہ حیدرآباد کو شکست دے کر فائنل میں پہنچتی ہے تو یہ اس کا ساتواں فائنل ہو گا ۔حیدرآباد کی ٹیم دوسری طرف چنئی کے مقابلے زیادہ نئی ہے اور سال 2013 میں اس نے ٹورنامنٹ میں اپنا ڈیبو کیا اور اپنے چھ سال کے ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اس کا سفر بھی کافی کامیاب رہا اور پہلے ہی ورژن میں وہ پلے آف میں پہنچی۔اس کے بعد وہ سال 2016، 2017 اور 2018 میں اس سال بھی پلے آف میں پہنچی ہے جبکہ 2016 میں وہ چمپئن بھی بنی ہے ۔