فائرنگ سے نوجوان جاں بحق

کئی مقامات پر پر تشدد جھڑپیں، نماز جنازہ میں کثیر تعداد شریک

 
پلوامہ// پلوامہ میں ہزاروںفوجی اہلکاروں نے بیک وقت قریب 20سے زائد دیہات کا محاصرہ کیا جس کے دوران چند ایک مقامات پر پر تشدد مظاہرے ہوئے جبکہ چیوہ کلاں نامی گائوں میں فورسز نے کھیت کی طرف جانے والے نوجوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا۔اس ہلاکت کے بعد پلوامہ قصبہ اور دیگر علاقوں میں شدید مظاہرے ہوئے ، ریل سروس بند ہوئی اور مکمل ہڑتال کی گئی۔

نوجوان کی ہلاکت

چیوہ کلاں میں جب محاصرہ کے دوران کچھ نوجوانوں نے پتھرائو کر کے مظاہرے کئے اور تعاقب کرنے پر فرار ہوئے تو فورسز نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 22سالہ فیاض احمد وانی ولد محمد احسن وانی نامی ایک نوجوان کی گردن پر فائر لگا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا۔پہلے اسے ڈسٹرکٹ اسپتال پلوامہ لیا گیا جہاں سے انہیں سرینگر منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا تھا۔وہ پلوامہ میں میڈیکل شاپ چلاتا تھا۔ جب فیاض احمد کی نعش کو نجی گاڑی میں رکھ کر واپس آبائی گائوں چیوہ کلان پلوامہ پہنچانے کی کوشش کی گئی تو فائرسروسز ہیڈکوارٹر واقع بٹہ مالو سرینگر کے نزدیک پولیس کی ایک پارٹی نے گاڑی کو روکا اور نعش  اپنی تحویل میں لے لی۔ گاڑی میں سوار لوگوںنے مزاحمت بھی کی ۔پولیس نے لاش کو سہ پہر کے بعد لواحقین کے حوالے کیا۔فیاض احمد کی لاش جب اسکے آبائی گائوں لائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ نعرے بازی کرتے رہے۔بعد میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں نوجوان کو سپرد لحد کیا گیا۔

کریک ڈائون

فوج کی دو بٹالین سے وابستہ ہزاروں اہلکاروںنے دیگر نیم فوجی دستوں کے ہمراہ پلوامہ کے ڈیڑھ درجن سے زائد دیہات کا اتوار اور سوموار کی درمیانی رات محاصرہ کیا۔جن علاقوں کو محاصرہ میں لیا گیا ان میں مورن ، کنگن،شنگر پورہ، ڈاڈورہ، ہارپورہ،دیری،متریگام، فرستہ پورہ،پتری گام، زاکیگام، تکیہ کژھ پورہ،سونتہ بگ، بیلو، چیوہ کلاں،گوسو،فراسی پورہ،رہمو،ہانجن، کمراز ی پورہ، ٹھوکر پورہ،شنکر پورہ، این گنڈ، بونہ دربگام شامل ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سوموار کی صبح سویرے لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تلقین کی گئی اور گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔اس دوران نیوہ پکھرپورہ،پلوامہ مورن، مورن پکھر پورہ، مورن دربگام، پلوامہ راجپورہ اور راجپورہ دربگام روڑ کو بند کردیا گیا اورکسی کو بھی  ان دیہات سے باہر نکلنے  اور آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔دن کے دو بجے تک ان دیہات کا سخت ترین کریک ڈائون کیا گیا اور ہر گھر کی تلاشی لی گئی اور میوہ باغات کو بھی چھان مارا گیا۔1990 سے ابتک گذشتہ 28برسوں کے دوران اس طرح 20سے زائد دیہات کا بیک وقت محاصرہ کبھی نہیں کیا گیا ہے۔ فورسز کو متعدد علاقوں سے کو ئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوئی اور نہ کہیں پر فورسز کا جنگجوئوں کیساتھ آمنا سامنا نہیں ہوا۔ بعد میں مرحلہ وار طریقے سے دیہات کا محاصرہ اٹھایا گیا۔

احتجاج

پلوامہ میں نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی نوجوانوں نے قصبہ میں سڑکوں پر نکل کر گاڑیوں اور کارباری اداروں پر شدید پتھرائوکیا جس کی وجہ سے بازاروں میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہونے کے ساتھ ہی معمولات کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ۔قصبہ میں فورسز پر پتھرائو کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ کی گئی اور یہاں کئی گھنٹوں تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔اس دوران ٹریفک کی نقل و حرکت بند ہوگئی اور ریل سروس کو بھی بند کردیا گیا۔ادھر نوجوان کی ہلاکت اور محاصرہ کیخلاف مورن اور گوسو سمیت دیگر کئی مقامات پر فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جا ری رہا ۔مورن میں فورسز نے درجنوں شل داغے  جن میں سے اکثر مکانوں کے صحنوں میں آکر پھٹ گئے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔مورن میں دو نوجوانوں کو ویڈیو اٹھانے پر گرفتار کیا گیا۔واضح رہے مورن میں ہی چند روز قبل فوجی اہلکاروں نے قریب 40نوجوانوں کا شبانہ ٹارچر کیا اور 32مکانوں کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔اس دوران 11نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا جو ہنوز فورسز کی تحویل میں ہیں۔

پولیس بیان

پولیس نے کہا ہے کہ محاصرہ معمول کی کارروائی کا حصہ تھا اور اس میں ایسی کوئی نئی بات نہیں ہے۔تاہم پولیس نے نوجوان کی ہلاکت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیںکی ۔

لنگیٹ 

اشرف چراغ  کے مطابق لنگیٹ ہندوارہ کے متعدد علاقوں کو فوج نے محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی کی۔ 30 راشٹریہ رائفلز اور پولیس نے لنگیٹ کے داندکدل، تلواری اور مر ٹگام علاقوں کو محاصرے میںلیا۔فوج کو خدشہ تھا کہ ان علاقہ میں جنگجو چھپے بیٹھے ہیں۔ شام تک فوج نے گھر گھر اور کھیت کھلیانوں کے علاوہ میوہ باغات میں تلاشی کارروائی کی ۔