فائرسروس کرناہ کی عجب کہانی

سرینگر //گبرہ اور شاٹھ پلہ گائوں کرناہ میں 2دنوںکے دوران آتشزدگیوںمیں 9دکانیںاور گودام راکھ کی ڈھیر میں تبدل ہوگئے ہیں۔گبرہ گائوں میں گزشتہ شب آگ کے ایک ہولناک واقعہ میں 5 دکانوں اور ایک گودام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔ آتشزدگیوں میںزاہد حسین میر ، سفیر احمد قریشی ،عبدالرحمان میر، رویس احمد رینہ ، شریف رینہ ،ساکنان نواہ گبرہ کی دکانوں میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو گیا۔اس دوران بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو بھی شاٹھہ پلہ گائوں میں مشتاق احمد خواجہ اور مختار احمد مغل کے 2گودام اور 2دکانیں خاکستر ہوئیں جس میں اشیائے خوردنوش راکھ ک ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔ اس سے قبل کنڈی بالا اور پائین میں بھی آگ کے پُراسرار واقعات میں میں 5مکانوں کو نقصان پہنچا اورجس کو ابھی تک سلجھایا نہیں گیا۔ لوگوں کاکہنا ہے کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کے پاس 3گاڑیاں موجود ہیں تاہم ستم ظریفی یہ ہے کہ صرف ایک ڈرائیور ہی موجود ہے اور خدانخواستہ اگر مختلف علاقوںمیں آتشزدگیاں ہونگی تو اس کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا ۔  فائیر اینڈ ایمرجنسی سروس محکمہ کے دپٹی ڈائریکٹر بشیر احمد شاہ نے اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ کے پاس کپوارہ،ہندوارہ اور کرناہ میں ڈرائیوروں کی شدید کمی ہے ۔انہوں نے اس بات کی بھی تصدق کی کہ کرناہ میں محکمہ کے پاس 3گاڑیاں موجود ہیں اور اُن کو چلانے کیلئے صرف ایک ہی ڈرائیور موجود ہے تاہم انہوں نے کہا کہ محکمہ میں نئی اسامیوں کیلئے بھرتی عمل عمل جو آخری مرحلے میں ہے مکمل ہونے کے بعد اس کمی کو اگلے ایک ماہ کے دوران پورا کیا جائے گا ۔