غیر ملکی ملی ٹینٹوں کے اعانت کار | ’دشمن ایجنٹ ایکٹ‘ کے تحت گرفتار ہونگے: سوین

File Image

یو این آئی

جموں//جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ آر آر سوئن نے اتوار کے روز کہا کہ جموں صوبے میں اگلے تین ماہ کے دوران دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کو’ دشمن ایجنٹ ایکٹ‘ کے تحت سزا دی جائے گی جو ’یو اے پی اے‘ سے بھی سخت قانون ہے۔ان باتوں کا اظہار ڈی جی پی نے جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت ملی ٹینٹوں کی مدد و اعانت کرنے والوں کو عمر قید کی سزا اور پھانسی تک ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ’دشمن ایجنٹ ایکٹ‘ صرف جموں وکشمیر میں لاگو ہے اور یہ ’یو اے پی اے ‘ایکٹ سے بھی سخت قانون ہے۔پولیس سربراہ نے کہاکہ ’دشمن ایجنٹ ایکٹ‘ کو اس لئے بنایا گیا تاکہ غیر ملکی خاص کر پاکستان سے جوملی ٹینٹ جموں وکشمیر میں آکر یہاں پر مقامی ایجنٹوں کے ساتھ مل کر خوف ودہشت ، سرکار کو تتر بتر کرنے اور آپنی آئیڈلوجی کو پھیلانے کی خاطر آتے ہیں انہیں اس قانون کے تحت سخت سزا دی جا سکے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سے جوملی ٹینٹ اس طرف آتے وہ کھبی بھی تحقیقات کے دائرے میں نہیں آتے کیونکہ اکثر ان میں مارے جاتے ہیں۔ڈی جی پی نے بتایا کہ ’دشمن ایجنٹ ایکٹ‘ قانون اس لئے بنایا گیا تاکہ جو مقامی ایجنٹ انہیں مدد و اعانت فراہم کرتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون کے تحت اگر کسی پر ثابت ہوجائے کہ اس نے غیر ملکی دہشت گردوں کی مدد و اعانت کی ہیں تو اس قانون کے تحت اس

ملزم کو صرف عمر قید یا پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔آر آر سوئن نے کہاکہ ’دشمن ایجنٹ ایکٹ ‘قانون یو اے پی اے سے بھی سخت قانون ہے اور ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ دہشت گردوں کی مدد و اعانت فراہم کرنے والوں کو اس قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ملی ٹینٹ یہاں بے قصور لوگوں کو مارنے کی خاطر آتے ہیں اور اب جو لوگ ان شدت پسندوں کو کسی بھی طرح کی مدد فراہم کریں گے تو ان پر دشمن ایجنٹ ایکٹ قانون نافذ کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کہاکہ جموں صوبے میں آنے والے تین ماہ کے اندر اندر دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ عام لوگوں کے ساتھ مل کر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت جائیں گے۔