غیر مقامی گاڑیوں کی سر نو رجسٹریشن | بھاری ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے: حسنین مسعودی

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے جموں کشمیرمیں بیرونی ریاستوں کی گاڑیوں کی دوبارہ رجسٹریشن کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹریفک کی آسان نقل و حرکت کو یقینی بنانے کیلئے اصل معاملات کی طرف توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مقامی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے وقت پہلے ہی متعلقہ ریاست یا یوٹی میں ان کا ٹوکن ٹیکس ادا کیا جاچکا ہے اور یہاں ان گاڑیوں کی دوبارہ رجسٹریشن سے لوگوں پر اضافی بوجھ پڑ جائیگا ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ان گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس کے لئے معمولی سی رقم مقرر کی جائے ، جیسے مقامی گاڑیوں کے ٹرانسفر کیلئے وصول کی جاتی ہے۔ مسعودی نے کہا کہ دوبارہ رجسٹریشن پر بھاری ٹیکس لگانے سے لوگوں کیلئے گاڑیوں کی رجسٹریشن کرانا مشکل ہوجائیگا ۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ تمام غیر مقامی گاڑیوں کی دوبارہ رجسٹریشن ہونی چاہئے تو حکومت کو اس کیلئے برائے نام معمولی رقوم وصول کرنی چاہئے۔اس کے علاوہ مسعودی نے کہا کہ ایسے اقدامات حکومت کو ٹریفک کی بدترین صورتحال سے نمٹنے میں مددگار ثابت نہیں ہوںگے۔اُن کا کہنا تھا کہ ٹریفک کی بدترین صورتحال سے نمٹنے کا بہترین طریقہ جموں و کشمیر میں روڈ انفرااسٹرکچر کو بڑھانا ہے تاکہ آئے روز بڑھتے ہوئے ٹریفک کا دبائو گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نہ پڑے۔ 
 
 
 

 آمرانہ فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت:اپنی پارٹی

سرینگر//اپنی پارٹی ترجمان جاوید حسن بیگ نے بیرون ِ جموں وکشمیر کی گاڑیوں کی سرنورجسٹریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہاں جاری ایک بیان میں بیگ نے کہا ہے کہ آمرانہ طور پر ایسے قوانین متعارف کر کے لوگوں پر مزید مالی بوجھ ڈالا جارہا ہے جوکہ پہلے ہی معاشی بحران کی وجہ سے اِس وقت سخت ترین دور سے گذر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’اِس کے لئے جو وقت چنا گیاکہ وہ لوگوں کے لئے عجیب ہے ، جوکہ اِس وقت مارکیٹ سے نئے برینڈ کی گاڑیاں نہیں خرید سکتے۔ایسے لوگ استعمال شدہ گاڑیاں جوکہ بیرون ِجموں وکشمیر آسانی سے سستے داموں دستیاب ہوتی ہیں، کو لینا پسند کرتے ہیں‘‘۔ اپنی پارٹی ترجمان نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ سرنو رجسٹریشن حکم نامہ پر نظر ثانی کی جائے اور بیرون ِ جموں وکشمیر سے گاڑیاں خریدنے پر رجسٹریشن فیس میں کم سے کم پچاس فیصد کٹوتی کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سے ایک ایسے وقت میں ایمنسٹی اور رعایت کی توقع ہے جب پورا ملک کورونا بحران کے بعد معاشی جمود سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن جموں و کشمیر کے عوام پر زیادہ بوجھ ڈالنے کا فیصلہ افسوسناک قدم ہے‘‘