غیر مقامی افسرشاہوں پر ماہانہ لاکھوں روپے صرف

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی تنخواہیں واگذار نہ کئے جانے پر زبردست تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باہری ریاستوں سے لائے گئے بیوروکریٹوں پر ماہانہ لاکھوں روپے صرف کئے جارہے لیکن ان عارضی ملازمین کے چند ہزار روپے واگذار کرنا حکومت کو بوجھ لگ رہاہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی حالت زار پر زبردست تشویش کا اظہار ہوئے کہا کہ ملازمین کی تنخواہیں روکے رکھنا انتہائی افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈیلی ویجروں سے ہی تمام محکموں کا کام کاج بآسانی چلتا ہے اور کورونا وائرس اور دیگر مشکل ادوار میں یہ لوگ زمینی سطح پر کام کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ آئے روز پی ڈی ڈی کے عارضی ملازمین کرنٹ لگنے سے جھلس جانے کی خبریں موصول ہوتی ہیں،اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ یہ ملازمین خطرات کو نظرانداز کرکے لوگوں کے لئے موثر سہولیات کو برقرار رکھنے کے لئے دن رات کام کررہے ہیں ، انہیں اضافی مراعات دیئے جانے چاہئیںلیکن افسوس اس بات کاہے کہ اضافی مراعات تو دور کی بات حکومت ان عارضی ملازمین کو اپنی ماہانہ تنخواہوں سے بھی محروم رکھ رہی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ عارضی ملازمین کیلئے حکومت نے 6700روپے ماہانہ تعین کیا ہے لیکن ان عارضی ملازمین کو اس کا نصف بھی مشکل سے ہی ملتا ہے اور اس کیلئے بھی کئی کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمران نبی ڈار نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب چوبیسوں گھنٹے حکومتی حکمناموں کی اجرائی جاری ہے،ڈیلی ویجروں، کنٹرویکچول اور کیجول لیبروں کی مستقلی میں کون سی چیز آڑے آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3سال مرکزی حکمرانی (گورنر راج) میں عارضی ملازمین کی حالت بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہی ہوتی جارہی ہے۔سریع الرفتار بھرتی عمل، یوتھ مشن اور نوجوانوں کی بااختیار کے حکومتی نعرے ڈھکوسلا ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت پر تنخواہوں کی واگذاری نہ کرنے سے ان بدنصیب عارضی ملازمین کو مزید پشت بہ دار کیا جارہا ہے۔ تنخواہوں کی عدم فراہمی کی وجہ ہے یہ ملازمین بہت زیادہ ذہنی تنائو کے شکار ہوگئے ہیں کیونکہ انہیں اپنے کنبوں کی کفالت میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ  تنخواہوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ ملازمین قرضوں تلے دب گئے ہیں اور بیشتر نانہ شبینہ کے محتاج ہونے کی دہلیز پر پہنچ گئے ہیں۔ این سی ترجمان نے اُمید ظاہر کی کہ حکومت اس جانب خصوصی توجہ دیگی اور ملازمین کی تنخواہوں کی فوری وگذاری بھی عمل میں لائی جائے گی اور تمام عارضی ملازمین کی مستقلی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔