غیر محفو ظ قرار دی گئی تحصیل کمپلیکس تھنہ منڈی کی عمارت زمین بوس نجی عمارتوں میں قائم دفاتر کا 98لاکھ روپے سالانہ کرایہ دینے کے باوجود نئی عمارت 4برسوں سے مکمل نہیں ہوسکی

عظمیٰ یاسمین

تھنہ منڈی// تحصیل کمپلیکس تھنہ منڈی کی پرانی اور بوسیدہ عمارت زمین بوس ہو گئی جس میں کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ یہ عمارت 1983 میں تعمیر کی گئی تھی اور 2018 میں اس عمارت کو غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا جو 30 جولائی 2023 کو شام سات بجے زمین بوس ہو گئی۔ اس موقع پر عوام کا کہنا تھا کہ تحصیل کمپلیکس کی عمارت پچھلے کئی سالوں سے بوسیدہ پڑی ہے اور ناقابلِ استعمال ہے جس کی تعمیر نو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ عمارت کئی سالوں سے خستہ حالت میں ہے جس کی وجہ سے تھنہ منڈی کے تقریبا دس کے قریب سرکاری دفاتر مختلف پرائیویٹ عمارتوں میں اپنے معمول کے کام سرانجام دے رہے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو 2018 میں ناقابل استعمال قرار دیا گیا اس کے بعد 14 نومبر 2019 کو اس عمارت کا سنگ بنیاد اس وقت کے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اعجاز اسد کے ہاتھوں رکھوا گیا لیکن تاحال تعمیر نو نہیں ہو سکی ہے لوگوں نے اسے عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف قرار دیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ 2014 میں تھنہ منڈی کو سب ڈویژن کا درجہ دے کر ایس ڈی ایم کو تھنہ منڈی میں تعینات کیا گیا لیکن 2014 سے لے کر آج تک تھنہ منڈی میں سب ڈویژن لیول کے آفیسران کا آفس نہیں کھولا گیا۔ اور چھوٹے موٹے کاموں کی انجام دہی کے لیے تحصیل لیول کے افسران سے ہی کام لیا جا رہا ہے جبکہ آج بھی اپنے کام کے لیے کئی لوگوں کو راجوری کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

عوام کا کہنا تھا کہ نجی عمارتوں کے مالکان کو تقریبا 98 لاکھ روپیہ سالانہ دے کر عوام کا پیسہ ضائع کیا جارہا ہے جبکہ یہ پیسہ عوامی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے تھا۔ عوام کا کہنا ہے کہ تھنہ منڈی کے متعدد سرکاری دفاتر پرائیویٹ عمارتوں میں چل رہے ہیں جس کے عوض وہ سالانہ تقریبا ایک کروڑ روپیہ کرایا ادا کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اگر دو تین سالوں کا کرایہ ہی جمع کیا جائے تب بھی ایک شان دار عمارت کھڑی کرکے لوگوں کو راحت پہنچائی جا سکتی ہے۔ لوگوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری کا سکندر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جانب فوری توجہ دیں تاکہ لوگوں کو راحت فراہم کی جا سکے۔