غیر متوقع برفباری سے متاثرہ مالکان باغات کیلئے زرعی یونیورسٹی کی طرف سے ایڈوائزری جاری

 باغات میں جمع پانی کی فوری نکاسی اور ٹوٹی ٹہنیوں کوتراشنے کا مشورہ  

سری نگر//شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کشمیر نے غیر متوقع برفباری سے متاثرہ باغات کے لئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے تاکہ میوئوں کو نقصانات سے بچایا جاسکے۔ایڈوائزری کے مطابق باغ مالکان سے کہا گیاہے کہ باغات میں نکاسی آب کا خاطر خواہ اِنتظامات کریں اور اگر میوہ درختوں کی ٹہنیاں نیچے کی جانب مڑی ہوئی ہے تو فوری طور سے اس کی شاخ تراشی کی جانی چاہیئے ۔اُنہیں مزید صلاح دی گئی ہے کہ وہ مناسب شاخ تراشی کے بعد مڑے ہوئے پودوں کو اپنی اصل پوزیشن میں لائیں ۔باغ مالکان ٹوٹی ہوئی ٹہنی کو ٹیڑھے انداز میں کاٹ کر اس پر چوپباٹیاں پیسٹ لگائیں اور اگر پیڑ کی جڑیں نمایاں طور ظاہر ہوئی ہوں تو اُن پر مٹی لگائی جانی چاہیئے۔باغ مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور سے میوہ پودوں سے میوہ اُتار کر اسے فروخت کریں یا سٹور کریں۔اسی طرح اُتارے گئے میوئوں پر سے برف ہٹائی جانی چاہیئے اور ا س سے شیڈوں میں جمع کیا جانا چاہیئے تاکہ اسے مزید نقصان نہ ہو سکے۔ماہرین نے باغ مالکان کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ باغات کی صفائی ستھرائی کی طرف خصوصی توجہ دیں اور باغوں میں پڑے پتے اور ٹہنیوں کو ہٹا کراُنہیں کہیں زمین بوس کریں۔
 

کپوارہ ضلع کے13زون متاثر

۔4.227ہیکٹر اراضی پر پھیلے میوہ با غات کو شدید نقصان

کپوارہ//اشرف چراغ //غیر متوقع برف باری کی وجہ سے جہا ں پوری وادی میں میوہ باغات کو بھاری نقصان پہنچا ہے وہیں سرحدی ضلع کپوارہ میں برف باری نے کسانو ں کی سال بھر کی محنت پر پیانی پھیر دیا ۔ضلع میں 15ہا ٹیکلچر ذون ہیں اور ان میں 13زونو ں میں جزوی طور نقصان پہنچ چکالیکن ضلع کے 4ایسے ذون جن میں ماور ،ڈون واری ،ترہگام اور کرالہ پورہ شامل ہیں میں سب سے زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے ۔ضلع میں 2ہزار ہیکٹر ارواضی پر میوہ با غات ہیں جن میں 4ہزار227ہیکٹر اراضی پر مشتمل باغات کو شدید نقصان پہنچ چکاہے ۔چیف ہا ٹیکلچر آ فیسر کپوارہ ظہور احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ کپوارہ کے 4ہا ٹیکلچرزونو ں میں سب سے زیادہ نقصان ہو گیا ہے اور ان کی خصوصی ٹیمیں گزشتہ دو وز سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے روانہ کی گئی تھیں ۔انہو ں نے مزید بتا یا کہ سٹیٹ ڈزاسٹر ریلف فنڈ (ایس ڈی آر ایف )کے حساب سے نقصان کا تخمینہ 7.60کرو ڑ لگایا گیا لیکن ان علاقوں میں جو اصلی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے اس حساب سے پورے ضلع میں 1ہزار کرو ڑ کا نقصان ہو اہے ۔
 

گاندربل میں1 درجن سے زائددیہات کے باغ مالکان نقصان سے دوچار

گاندربل //ارشاد احمد//ضلع گاندربل میں بے وقت کی برفباری کے باعث کئی علاقوں میں میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ گاندربل سے ملحقہ علاقوں ززنہ،واکورہ،بٹہ وینہ،باکورہ،شہامہ،بسرہ بگ،کھمبر،لار،یارمقام،منیگام،بنہ ہامہ یچھ ہامہ میں میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا واکورہ نواب باغ کے حاجی محمد مقبول نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ درختوں پر موجود سیب کی فصل ابھی اتاری نہیں گئی تھی کہ برفباری کی وجہ سے درخت سیب اور برف کے وزن سے سالوں پرانے درجنوں درخت درمیان سے دو حصوں میں ٹوٹ گئے جس سے سیب کی فصل اور درخت کو لاکھوں روپے مالیت کا نقصان پہنچا۔یچھ ہامہ میں غلام محمد چوپان کے میوہ باغات میں پچاس سے زائد درخت برفباری کی وجہ سے دو حصوں میں ٹوٹ کر گرگئے ۔
 

غیر متوقع برفباری سے ہوئی تباہی 

نیشنل کانفرنس کا انتظامیہ کی ناکامی پر تشویش کا اظہار

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے برفباری سے پیدہ شدہ صورتحال سے نمٹنے میں انتظامیہ کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برف باری کے بعد جس طرح سے انتظامیہ بے بس نظر آئی اُس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ انتظامیہ اس بارے میں بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ چند انچ برفباری نے حکومت اور انتظامیہ کی کے بلند بانگ دعوئوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ۔انہوں نے کہا کہ وادی کے کلیدی ہسپتالوں میں بھی لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں مریض و تیماری دار رات بھر سردی سے ٹھٹھرتے رہے، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک وادی کے کئی نشیبی علاقے زیر آب ہیں اور کئی علاقوں میں ابھی تک بجلی اور پانی کی سپلائی بحال نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ امتحانی مراکز میں طلباء و طالبات کو نہ صرف سردی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کم روشنی سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کی طرف سے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا تھا۔ ساگر نے صوبائی کمشنروں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر عوام کی راحت رسانی کے اقدامات کی نگرانی کریں اور سرحدی علاقوں میں متعلقہ انتظامیہ اور فیلڈ سٹاف کو متحرک کریں اور ساتھ ہی ان علاقوں میں غذائی اجناس اور ادویات کا وافر سٹاک پہنچایا جائے۔ساگر اور پارٹی کے دیگر لیڈروںنے عوام کی راحت رسانی کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے اور ریاست کے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر دلچسپی لیکر ایسے علاقوں میں محکمہ مال کی ٹیمیں بھیج کر نقصان کا تخمینہ لگائیں جہاں جہاں میوہ باغات کو نقصان پہنچا ہے اور متاثرین کے حق میں بروقت اور بھر پور امدادکاری کی جانی چاہئے۔ انہوں نے محکمہ بجلی کے حکام سے بھی اپیل کی کہ وہ جنگی بنیادوں ایسے علاقوں میں بجلی کی مکمل سپلائی بحال کریں جہاں برفباری سے ترسیلی لائینوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 
 

مالکان باغات کو معاوضہ دیا جائے :میاں الطاف 

سرینگر//وادی میں حالیہ برفباری سے سیب کی فصل کو ہوئے بھاری نقصان پر نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنمااور ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے تشویش کااظہار کیا ہے۔انہوں نے کسانوں کو فوری طورجامع معاوضہ اداکرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسان اور مالکان باغات ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈ ی ہے اور یہ لوگ اکثر موسم کی نامہربانی سے بھاری نقصانات کاشکار ہوتے ہیں ۔میاں الطاف نے انتظامیہ پر بھی زوردیا کہ وہ برف باری سے لوگوں کو درپیش مشکلات کم کرنے کیلئے بنیادی سہولیات کو بحال کریں اور اس کیلئے نفری اور مشینری کو کام پر لگائیں ۔انہوں کنگن حلقہ اسمبلی کے سبھی دیہات میں بجلی کی سپلائی کوبحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔
 

متاثرین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑ جائے:میر واعظ

سرینگر// حریت (ع) چیرمینمیرواعظ محمد عمر فاروق نے شدید برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں جموںوکشمیر کے طول و عرض میں ہوئے میوہ باغات اور پیر پنچال کے آر پار تعمیرات اربوں اور کھربوں کے نقصان اور انسانی جانوں کے اتلاف پر شدید  دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت اور زمینی اور آسمانی آفات کے سامنے انسان ہمیشہ سے بے بس اور بے کس رہا ہے تاہم آزمائش اور امتحان کے ان لمحات میں انفرادی اور اجتماعی طور پر توبہ و استغفار اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ستودہ صفات کی طرف رجوع کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے ۔ میرواعظ نے لوگوں کو تلقین کی کہ وہ موجودہ مشکل حالات میں اسلام کی زریں تعلیمات کی روشنی میں امداد باہمی کے عظیم جذبے کے تحت ایک دوسرے کی ہر ممکن مدد کریں اور متاثرین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑیں۔
 

 کے سی سی قرضہ معاف کیا جائے:تاریگامی 

سرینگر //سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر و ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے غیر متوقع برفباری کے باعث ہوئی تباہی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر زور دیاکہ وہ کے سی سی قرضہ جات معاف کرنے کا اعلان کرے اور میوہ باغات کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ یہی ایک شعبہ ابھی تک روزگار کے وسائل ناموزوں حالات میں بھی مہیا کررہاتھا ۔ان کاکہناتھاکہ آج شمال سے جنوب تک ہاہاکار مچی ہوئی ہے اورایسے حالات میں سرکار کو چاہئے کہ تباہ حالی کے پیش نظر میوہ اگانے والوں کو بھرپور ریلیف مہیا کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔تاریگامی نے کہاکہ کراپ انشورنس سکیم ابھی تک کشمیر وادی میں بار بار یقین دہانیوں کے باوجود لاگو نہیں کی گئی ہے ،یہ سکیم ابھی تک جموں کے کچھ اضلاع تک ہی محدود ہے اور نہ ہی دیگر سکیموں کا اطلاق کیاجارہاہے جبکہ وادی کو ہمیشہ قدرتی آفات کا شکار ہوناپڑتاہے۔
 

متاثرہ میوہ صنعت کو فوری پیکیج کی ضرورت :انجینئر  

لنگیٹ //عوامی اتحاد پارٹی سربراہ انجینئر رشید نے حالیہ تباہ کن اور اچانک برفباری سے باغات کو ہوئے بھاری نقصانات اور فصل کی تباہی کی بھر پائی کیلئے ریاستی سرکار سے فوری طور سے جامع پیکیج کا مطالبہ کیا ہے ۔لنگیٹ کے مختلف علاقوںکے دورے کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ’’ماضی کی روایت رہی ہے کہ جہاں باغات یا زراعت کو آفات سماوی کے دوران نقصان پہنچا ہے تو ریاستی سرکار نے محکمہ ذراعت ، ہارٹیکلچر اور مال کے اہلکاران کو فوری طور سے مختلف علاقوں میں روانہ کرکے نقصان کا تخمینہ لگانے کا کام سونپا ہے لیکن بعد ازاں متاثرین کو پھوٹی کوڑی بھی امداد نہیں دی جاتی ۔ تاہم اب کی بار سرکار کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ نہ صرف لاکھوں کنالوں پر مشتمل میوہ باغات تباہ ہوئے ہیں بلکہ اچانک برفبای کی وجہ سے درختوں پر موجود فصل بھی تباہ ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ اب کی بار کے بھاری نقصانات کا ماضی سے موازنہ نہ کرے اور فوری طور سے منظم پیکیج کا اعلان کرے ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’صرف چند ماہ قبل نہ صرف ریاستی سرکار اور جموں و کشمیر بنک نے کیریلا کے سیلاب متاثرین کی بھر پور مدد کی بلکہ ریاستی ملازمین کے تنخواہ سے بھی ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی گئی اوراب ریاست انتہائی مشکل حالات میں پھنس چکی ہے مرکزی سرکار کو چاہئے کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر باغات کو ہوئے نقصانات کی بھرپائی کیلئے فوری طور سے پیکیج کا اعلان کرے اور اس سانحہ کو قومی آفت کا درجہ قرار دیکر متاثرین کی امداد کی جائے جو کہ سرکار کی اولین ذمہ داری ہے ۔