غیر متوقع برفباری۔۔۔ جنوب و شمال میں میوہ صنعت کیلئے تباہی کا باعث

اننت ناگ//وادی کشمیر میں حالیہ غیر متوقع برفباری سے میوہ اور دیگر فصلوں کو کروڑ وں روپے کا نقصان پہنچے سے ہزاروں کسان اور مالکان میوہ باغات پریشان ہیں۔اسی طرح جنوبی کشمیر کے سرہامہ بجبہاڑہ علاقہ میں میوہ باغات اور دیگر فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے ۔ اس سلسلے سرہامہ بجبہاڑہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ سیب کی فصل کو نقصان پہنچنے کے علاوہ باغات میں کھڑے پیڑ بھی تباہ ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اُن کا کہنا تھاکہ یہ باغات ہی ہماری روزی روٹی کا ذریعہ ہیں مگر اس بے وقت کی برفباری سے ہمیں کافی نقصان پہنچا ہے اور اس وقت سوائے حکومت کے ہمارے پاس کوئی بھی امید باقی نہیں رہی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام میوہ اُگانے والوں کو معاوضہ فراہم کرنے کیلئے علاقہ میں ایک اعلی سطحی ٹیم کو روانہ کریں جوکہ باغات کو ہوئے نقصان کا جائزہ لے سکیں۔
 

شمالی کشمیر میں نقصانات 500 کروڑ سے متجاوز : فروٹ منڈی سوپور

فیاض بخاری
 
بارہمولہ//جہاں حالیہ غیر متوقع برفباری نے  پوری وادی میں سبب میوہ صنعت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے وہیں شمالی کشمیر میں بھی میوہ باغات کو نقصان پہنچا ہے ۔ اس دوران فروٹ گروئورس و ڈیلرس ایسو سی ایشن  فروٹ منڈی سوپورکے صدر فیاض احمد ملک عر ف کاکا جی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پوری وادی میں ایک ہزار کروڑ رپے کا نقصان ہوا ہے جس میں شمالی کشمیر میں  500  کروڑ روپے کا نقصان شامل ہے ۔شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،رفیع آباد، سوپور ،نارواو ،کنڈی ،ٹنگمرگ ، پٹن ، اوڑی ،ہندوارہ ،کپوارہ ، بانڈی پورہ اور دیگرعلاقوںمیں برفباری نے تبا ہی مچا دی ہے ۔باغ مالکا ن کا کہناہے کہ اس وقت میوہ سیزن تھا اور میوہ جن میں سیب وغیر ہ شامل ہیں ،درختوں پر پوری طرح سے پک گئے اور ان کو درختوں سے اُتار نے کام شد ومد سے جاری تھا ،تاہم ناگہانی آفت نے باغ مالکان کو نا قابل تلافی نقصان سے دوچار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بھاری برفباری کے سبب ہزاروں درخت جڑ سے اکھڑ گئے جبکہ درختوں کی ٹہنیاں بھی ٹوٹ گئیں۔شمالی کشمیر کے کئی  باغ مالکان اور تا جروںنے کشمیر عظمیٰ کوبتا یا کہ اکتو بر میں سیب کے درختوںسے ’ڈلیشن ،مہاراجی ‘درختوں پر ہی تھا اور وہ اب اسکو اُتارنے کا عمل شروع ہونے والا تھا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ امریکن سیب کو پہلے ہی اتارا گیا تھا ،تاہم اس قسم کے سیب کی پیکنگ ہورہی تھی ۔ فروٹ گروئورس و ڈیلرس ایسوسی ایشن فروٹ منڈی سوپور کے صدفیاض احمد ملک عرف کاکا جی نے کشمیر عظمیٰ کو  بتایا کہ دوسرے اقسام جن میںمہاراجی اور ڈلیشن شامل ہے،کو نومبر کے وسط سے سیب کے درختوں سے اتارے جاتے ہیں تا ہم غیر متوقع برفباری نے میوہ جات کو بڑے پیما نے پرنقصان پہنچا یاجبکہ بیشتر علاقوںمیں سیب کے درخت اکھڑ گئے ٹہنیاں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوئیں جس کی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کے سیب تباہ وبردباد ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ سیب میوہ کی اس پیکنگ ہوتی تھی اور اسے بیرون منڈیوں تک پہنچا یا جاتا تھا ،تاہم برفباری نے باغ مالکان اور اس صنعت سے وابستہ دیگر افراد کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی ۔انہوں نے کہا کہ باغات میں کروڑوں روپے مالیت کے سیب پڑے ہیں اور اس کے علاوہ پیکنگ شیڈوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچھا کچھا میوہ راستہ بند ہونے کے سبب بیرون منڈیوں تک پہنچا نا ناممکن بن گیا ہے اور یہاں موجود پھلوں کو بھی شدید نقصان کا اندیشہ ہے ۔ادھر کئی علاقوں سے ایسی تصویریں دیکھنے کو مل رہی ہے کہ باغ مالکان برفباری کے باوجود سیبوں کو درخت سے اُتارنے لگے ہیں ۔تاہم اس صنعت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خیال دل کو بہلانے کیلئے کافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ برفباری کی زد میں آئے میوہ باغات سے میوہ جمع کرنا نا ممکن ہے ۔ میوہ صنعت کشمیر کی اقتصادیات میں ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،لہٰذا اس صنعت کو نقصان پہنچا نا کشمیر کی اقتصادیات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ۔کاکا جی نے بتایا کہ اگر وہ صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان اور دیگر علیٰ حکام کے آفسران سے بھی ملے تھے تاہم ابھی تک اس معاملے میں کوئی  پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے گور نر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میوہ صنعت کو غیر متوقع طور پر پہنچے نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دیں ،جو بروقت نقصان کا تخمینہ لگا سکے اور باغ مالکان اور اس صنعت سے جڑے افرادمیںمعقول معاوضہ واگزار کیا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میںمیوہ باغات کو ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ نقصان پہنچاہے ۔انہوں گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میوہ صنعت کو پہنچے نقصان کا تخمینہ لگا کر باغ مالکان اور اس صنعت سے جڑے دیگر افراد میں معقول معاوضہ واگزار کرے تاکہ باغ مالکان کو کچھ حد تک راحت مل سکے۔