غیر قانونی بجلی کنکشنوں کو باقاعدہ بنایا جائے

 سرینگر//صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے لیہ اور کرگل سمیت وادی کے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو سوبھاگیہ سکیم کے تحت مکانوںمیں تمام غیر قانونی بجلی کنکشن باقاعدہ بنانے کے لئے اقدامات کرنے پر زوردیا ہے۔صوبائی کمشنر نے ان باتوں کا اظہار سوبھاگیہ سکیم کی عمل آوری اورپیش رفت کے سلسلے میں منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کے دوران کیا۔میٹنگ میں سکیم کے خدوخال اور لوازمات کے بارے میں تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے کہا گیا کہ صوبہ کشمیر میںاس سکیم کی عمل آوری پر358.95کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی ہے جس کی تکمیل کے لئے نومبر2018 کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس موقعہ پر تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں نے اپنے متعلقہ اضلاع میں سوبھاگیہ سکیم کی پیش رفت کے بارے میں جانکاری دی ۔انہوںنے بتایا کہ بغیر بجلی مکانوںکے بارے میں پی ڈی ڈی کے ایگزیکٹیو انجینئران کی طرف ڈاٹا جمع کرنے کا عمل جاری ہے۔صوبائی کمشنر نے سوبھاگیہ سکیم کے دائرے میں صد فیصد مکانوں کو لانے کی ہدایت دی۔انہوںنے اس مقصد کے لئے ایک وسیع مہم شروع کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔صوبائی کمشنر نے ایسے مکانوں کی بھی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی جہاں دو یا اس سے زیادہ کنبے رہائش پذیر ہیں تاکہ انہیں بھی سکیم کے تحت لاجاسکے اور بجلی کے الگ الگ کنکشن دئے جاسکیں۔بصیرا حمد خان نے نئے بجلی صارفین،بجلی پولوں کے حصول،ٹرانسفارمروں ،کنڈکٹرس اور دیگر سامان کے بارے میں تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو پی ڈی ڈی کے انجینئران کے ساتھ ہر پندرہ روزہ کے بعد میٹنگیں کرنے کی ہدایت دی۔جب کہ ضلع انتظامیہ اس سلسلے میں صوبائی کمشنر کے دفتر کو ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ فراہم کرے گی۔صوبائی کمشنرنے آفیسران کو قریبی تال میل کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دی تاکہ مستحق کنبوں تک سکیم کے فوائد پہنچ سکیں۔انہوںنے کہا کہ غریب مستحق کنبوں کو بجلی کنکشن فراہم کرنے کے لئے لائین محکموں کے ساتھ تال میل سے خصوصی ٹیموں کو تشکیل دی جانی چاہیے ۔میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر اور چیف انجینئر پی ڈی ڈی کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنر اوردیگر آفیسران موجود تھے جبکہ لیہ اور کرگل سمیت وادی کے ترقیاتی کمشنروں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی۔