غلام نبی شیداؔ | آہ!چمن کا دیدہ ورنہ رہا

میں جانتا تھا کہ شیدا صاحب کافی وقت سے بستر علالت پر تھے۔میں نے کئی بار ان سے ملنے اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کی سوچی لیکن افسوس! عصر حاضر کے حالات سرینگر میں ان کی رہائش گاہ کا دورہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔کچھ مہینے قبل میں نے ان کا موبائل نمبر ڈائل کیا تھا لیکن اُس وقت اُسے بند پایا…اس طرح اُنکی زندگی کے آخری مہینوں میں میرا اس مردِ آہن  سے ملنا، میں اتنا خوش قسمت نہیں تھا۔ غلام نبی شیدا سرکردہ صحافی اور ایک مشہور اردو روزنامہ’ ’وادی کی آواز‘‘ کے مدیر ِ اعلیٰ، عام لوگ انہیں اسی طرح جانتے ہیں لیکن وہ لوگ جنہیں ان کے قریب بیٹھنے اور ان کی شخصیت کو پڑھنے پرکھنے کا موقع ملا تھا، وہ انہیں ایک عظیم شخص کے طور پریاد کریں گے۔
 غلام نبی شیداؔ سے ملاقات کے دوران کوئی بھی اجنبی شخص نفاستی طور پر خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا کیونکہ شیدا صاحب کی عادت تھی کہ وہ ہر ایک سے خیریت پوچھتے تھے اور اس کے بعد ہر اس شخص سے تعارف ہوتا تھا جو ان کے دفتر میں ان سے ملنے آیا ہوتا تھا یا کہیں اور ملتا تھا۔ بطور صحافی وہ ایک منجھے ہوئے پیشہ ور تھے اور انہیں اس وقت کے صحافیوں / کشمیر پریس ایسوسی ایشن یا اِس جیسے عنوان کے صدر بننے کا اعزاز حاصل ہے (انہوں نے اس کالم نگار کو خود یہ کہانی سنائی ہے)۔ آج کے بہت سارے نامور اور اعلیٰ پایہ کے صحافی ، مدیران اور مصنفین نے ان کی رہنمائی اور رہبری میں ان کے دفتر میں یا دفتر سے باہر کام کیا ہے اور شکر ہے کہ ان سب کو اس شخصیت، جو اب ہمارے درمیان نہیں ہے، کا بڑا احترام ہے۔ 'وادی کی آواز' ایک زمانے میں قارئین کا سب سے مشہور اور پسندیدہ اخبار رہا ہے۔ یہ صرف شیدا صاحب اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کی وجہ سے تھا جنہوں نے پیشہ ورانہ اور ایماندارانہ صحافت کا کام کیا۔ ایک دِن شیدا صاحب نے ہمیں بتایا کہ جب بڈگام کے گاؤں رازوین میں پائے جانے والے انڈے کی کہانی ،جس میں کوئی مذہبی عبارت لکھی ہوئی تھی ،شائع ہوئی تو اس میں اخبار 'وادی کی آواز' کس طرح قارئین کی توجہ کا مرکز بنا۔اسی طرح کے دوسرے کئی واقعات بھی بیان کئے۔
غلام نبی شیدا ؔخواتین کی فلاحی تنظیم شمع فاؤنڈیشن کے بانی ہیں ۔ اس کا نام شمع زیدی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا ۔ شیدا صاحب مرحوم کی اہلیہ کی شمع فاؤنڈیشن جموں و کشمیر کی ایک قابل فلاحی تنظیم میں سے ایک رہی ہے جس نے بنیادی طور پر کینسر کے موذی مرض میں مبتلا لاچار خواتین کے حق میں اہم کردار ادا کیاہے۔علاوہ ازیںبے سہارا خواتین کے لئے اور خواتین کے معاملات پر سیمینار کا انعقاد کرنافائونڈیشن کا معمول تھا۔ شیدا صاحب اپنے پیشہ میں مصروف رہنے اور وسائل کی بھی رکاوٹوں کے باوجود فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں سے گہرے طور پر  وابستہ رہے۔ وہ کسی بھی مستحق کو مایوس نہیں چھوڑتے ، بجائے اس کے ایسا سلوک کرتے جیسے خاندان کے کسی فرد نے مدد کے لئے رجوع کیا ہو۔ شمع فاؤنڈیشن کے ان کے دیگر جملہ ایگزیکٹو ممبران جیسے تجربہ کار سابق ماہر آنکولوجسٹ ڈاکٹر اعجاز احمد ہمہ وقت تعاون کیا کرتے تھے اور ان کے خلوص اور سادگی کے احترام کے لئے شیدا صاحب کا احترام کرتے تھے۔
مجھے یاد ہے ایک بار جب کالج آف ایجوکیشن سری نگر میں خواتین کے مسائل کے بارے میں ایک سیمینار منعقد ہوا تھا، روانگی کے موقع پر باہر ایک جگہ ایک ہورڈنگ پر عورت کی شبیہ کے ساتھ ایک تصویرتھی جو کسی نہ کسی طرح اس تناظر سے متصادم تھی جس کے بارے میں اندر بحث کی گئی تھی۔ کچھ دن کے بعد میرا ایک مضمون اردو روزنامہ کشمیر عظمیٰ میں شائع ہوا جس میں سیمینار اور ہورڈنگ پر تجزیہ کیا گیا تھا۔میں نے اس طرح 'بند کمروں میں سیمینار اور بغیر کسی کارروائی کے' گفتگو کی تھی ۔بعد میں جب میں شیدا صاحب سے ملنے گیا، ان کا پہلا جملہ تھا ، 'بند کمروں میں سیمینار اور بغیر کسی کارروائی کے" واقعی ۔انہوں نے اس فیڈبیک کو بہت سنجیدگی سے لیا تھا اور اس پر مجھ سے گفتگو کی ۔مجھے شرم محسوس ہوئی کہ مجھے جی این شیدا جیسے شخص کو اتنا حساس بنانے کے لئے سیمینار کو اس طرح کے نازک انداز میں مرکوز نہیں کرنا چاہئے تھا۔
ایک صحافی ، ایک اخبار کا مالک اور مدیر اعلیٰ غلام نبی شیدا تمام شعبوں میں ایک سنجیدہ شخصیت تھے۔ اپنے پیشے سے انہوں نے کبھی بھی نام اور شہرت کے لالچ میں سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ خود کو گمنام رکھا ۔ جدید دور کا ‘میڈیا’ مالی تشہیر بازی، نقصانات اور مذہبی عقائد کی قیمت پر پراموشنل مادے سے پرہیز کرنے اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کے کچھ نظریات کو قبول نہیں کرسکتا ہے لیکن جی این شیداؔ وہ آدمی تھے جنہوں نے یہ کرکے دکھایا۔ ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے اگرچہ انہوں نے گمنامی کو ترجیح دی لیکن وہ چمن کا ایک دیدہ ورتھا اور بحیثیت انسان ایک نیک روح ، نرم دل ، شائستہ مزاج اور ایک سادہ بصیرت انسان تھا۔
الفاظ مجھے اس کی وضاحت کرنے میں ناکام کردیتے ہیں کیونکہ میں ان کی خوبیوں ، خصائص اور دوسروں پر مبارک نقطہ نظر کے مستحق ہونے کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتا۔ اْن کی موت کی خبر ان کی انجمن اور لگاؤکے مستقل جذبات کے ساتھ ایک مایوس کن دھچکے کے ساتھ آئی۔ اگرچہ بیمار اور بستر پر ہی صحیح، لیکن ایسے عظیم لوگوں کا وجود روحانی تسلی کاباعث ہوتا ہے۔ جب وہ چلے جاتے ہیں ، گویا روحانی کمر کا سہارا کھسک جاتا ہے۔شیدا صاحب!  پْر نم آنکھوں سے ہم آپ کو الوداع کہتے ہیں۔ اللہ آپ کو جنت الفردوس کے اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین اور دوستوں اور برادری کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔7006551196