غلام بنی فرید آبادی مرحوم

 غلام نبی فرید آبادی جو عوامی حلقوں میں مولوی غلام بنی کے نام سے متعارف و مشہور تھے ،۸؍اپریل ۲۰۰۹ء کو جموں میں رحمت ِحق ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کے انتقال کے ساتھ جموں شہر میں مسلم آبادی کے تعلق سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا ۔مرحوم فریدآبادی صاحب خطۂ چناب کے قصبہ ڈوڈہ کے نواح میں شیوانامی گاؤں میں ۲۸؍اکتوبر ۱۹۳۳ء کو پیدا ہوئے ۔اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور میٹرک کا امتحان ۱۹۶۱ء میں ہائی اسکول ڈوڈہ سے امتیازی نمبرات کے ساتھ پاس کیا، جہاں ان کا رابطہ جماعت اسلامی کے ایک اساسی رکن مولانا غلام احمد احرار شوپیانی مرحوم سے ہوا اور جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی ۔جماعت اسلامی کے تعارف اور شمولیت کے بعد اس کا نصب العین فرید آبادی مرحوم کی زندگی کا مشن بن گیا جس کی خاطر انہیں متعدد بار قید و بند اور ابتلاء و آزمائش کی طویل و صبر آزما صعوبتوں سے گذرنا پڑا ۔قید و بند کے دوران مرحوم کے دو جواں سال بیٹے اللہ کو پیارے ہو گئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرا بھی کمزوری پیدا نہ ہوئی ۔۱۹۶۱ء میں مرحوم ڈوڈہ سے سرینگرمنتقل ہو گئے ،جہاں جماعت نے انہیں نواب بازار سرینگر کے اسلامی ماڈل اسکول میں بطور مدرس تعینات کر دیا۔نیشنل کانفرنس کے سرکردہ لیڈر علی محمد ساگر صاحب بھی اس اسکول کے طالب علم اور فریدآبادی مرحوم کے شاگرد رہ چکے ہیں۔نواب بازار کے اسکول کی معلمی کے علاوہ مرحوم کو جماعت کے ترجمان اخبار’’اذان‘‘کے ساتھ بھی وابستہ رہ کر وادی میں اخبار کی ترسیل کی ذمہ داری نبھانے کے علاوہ زعمائے جماعت کے ساتھ وادی کے طول و عرض اور خطۂ چناب کے دور دراز علاقوں میں دعوتی دوروں میںا نہیںبہت کچھ سیکھنے سمجھنے کاموقع نصیب ہوا ۔کچھ عرصہ کے لئے شعبۂ تعلیم کے ناظمِ تعلیمات اور امیر ضلع سری نگر بھی رہے۔ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۶۷ء کو اُس وقت کے امیر جماعت مولانا سعدالدین مرحوم نے انہیں جموں میں جماعت کی دعوت کا تعارف کرانے کی غرض سے روانہ کیا ۔مرحوم نے جموں آکر موجودہ راجندر بازار (سابقہ اردو بازار)کی مسجد ابراہیم کی آباد کاری اور اور اسی مسجد کو مرکز بنا کر جموں میں دعوت دین شروع کی ۔جموں کے مخصوص حالات کے تناظرمیں حالات بہت نازک اور ماحول حوصلہ شکن تھا ۔ ۷۴ ء کے مابعدجموں شہر اور گرد ونواح کی اکثر مساجد بند اور غیر آباد پڑی تھیں۔مسلمان اپنی شناخت ظاہر کرنے سے بھی کتراتے اور سہمے ہوئے تھے۔راجندر بازار(اردو بازار) کی مسجد ابراہیم جو مہاراجہ کے ایک نیک سیرت خانساماں ابراہیم خان نے تعمیر کروائی تھی، غیر آباد پڑی تھی اور اس کی ملحقہ چھ کنال اراضی پرقابضین نے شیڈ تعمیر کرکے اپنے گودام بنارکھے ہوئے تھے ۔مسجد میں لوگ تاش وغیرہ کھیلتے اور اس کی ملحقہ جگہ غلیظ و پلید کردی گئی تھی۔ مرحوم فرید آبادی نے بڑی تگ و دود اور محنت کے بعد اس مسجد کو واگزار کروا کر یہاں نمازِ پنج گانہ شروع کی۔کچھ عرصہ بعد مزید کچھ جگہ خالی کرواکر اس پر چند کمرے تعمیر کرائے جن کے کرائے سے مسجد کی مرمت اور دیگر اخراجات چلنے لگے۔۱۹۷۶ء میں اس وقت کے وزیر مال و اوقاف مرزا فضل بیگ نے آپ کو باضابطہ طور پر اس مسجد کا امام تسلیم کر لیا ۔مرحوم نے اولاً جامع مسجد تالاب کھٹیکاں کے متصل ایک مکتبہ بھی قائم کیا، جہاں اسلامی لٹریچر لوگوں کو دستیاب ہونے لگا ۔گجر نگر دریائے توی کے کنارے گجر برادری کا ایک چھوٹا سا محلہ تھا جسے گجر دانش ور مرحوم چودھری سروری کسانہ نے بسایا تھا لیکن اس بستی کی جدید توسیع و آباد کاری میں مرحوم فریدآبادی کا بڑا رول تھا ۔انہوں نے وہاں سب سے پہلے اسلامی ماڈل اسکول قائم کیا جو آج تک ایک معتبر ہائی اسکول ہے ۔اس میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت سے بھی مسلمان بچوں کی کردار سازی بھی کی جاتی ہے ۔آج تک ہزاروں بچے اس اسکول سے تعلیم حاصل کرکے کاروبارِ زندگی میں رواں دواں ہیں ۔گجر نگر چوک میں مرحوم فرید آبادی نے گرین بک سینٹر کے نام سے مکتبہ منتقل کر کے اپنے ایک بھتیجے فرید صاحب کو ڈوڈہ سے لاکر کام پر لگایا۔اس کے ذریعے پورے صوبہ جموں میں اسلامی لٹریچر کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ۔صوبہ جموں میں قرآن پاک مختلف تفاسیراور دنیا بھر کے اسلامی اسکالروں اور دانشوروں کی اسلامی کتابوں کا یہ ایک بڑا مرکز ہے جس میں ہندی و انگریزی زبانوں میں بھی لٹریچر دستیاب رہتا ہے اور جس سے غیر اردو داں طبقہ سمیت خصوصی طور غیر مسلم حضرات بھی استفادہ کرتے ہیں۔گجر نگر کی غیر آباد پڑی آراضی پر مرحوم نے بڑی تعداد میں خطۂ چناب کے مسلمانوں کو لا بسایا کہ آج جموں کے شہیدی چوک اور وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کے عقب میں مسلمانوں کا یہ ایک اہم علاقہ مانا جاتا ہے ۔ یہاں ایک بڑی جامع مسجد علماء دیوبند کا قائم کردہ دریائے توی کے کنارے مدرسہ،اسلامی ماڈل ہائی اسکول اور دیگر دعوتی ادارے موجود ہیں ۔ان سب چیزوں کا بنیادی کریڈٹ مرحوم فرید آبادی کو جاتا ہے۔
مرحوم فرید آبادی نے جموں میں نہایت غربت اور بے سروسامانی کے عالم میں دعوت دین اور مسلمانوں کی اصلاح و تربیت اور تنظیم سازی کا کام شروع کیا ۔اس کام کو منظم کرنے میں بھلیسہ کے جناب محمد شریف سرتاج ،بھدرواہ کے مرحوم غلام فرید شیخ کے علاوہ الحاج سعید بابا ،محمد شفیع کرمانی ،پروفیسر محمد سلطان خان ،چودھری سروری کسانہ،چودھری محمد مقبول ایڈ یٹر ہفت روزہ ’’حمایت‘‘اور غازی عبدالمجید وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔البتہ بعد میں جناب عبد المجید صاحب اور مرحوم محمد صابر نے بھی مرحوم فریدآبادی کے دعوتی  مشن کی آبیاری میں دامے درہمے اور قدمے سخنے بھر پور تعاون کیا ۔مرحوم فرید آبادی کی سرگرم تحریکی زندگی کا سفر لگ بھگ چھ عشروں پر مشتمل ہے ۔مرحوم فریدآبادی کا ایک اہم اور بڑا کارنامہ شہیدی چوک جموں کی مسجد ابراہیم کی توسیع و تعمیر کا عظیم منصوبہ تھا جس کے لئے انہوں نے ایک طویل اور صبر آزما جدو جہد کے بعد جموں کے قلب شہیدی چوک و راجندر بازار جیسی جگہ پر مسجد کی چھ کنال زمین میں سے تین کنال کی زمین کا حصول اور پھر اس پر تین منزلہ عظیم الشان مسجد کی تعمیر ہے ۔ یہ مسجد شریف 90×300  فٹ پر پھیلی ہے اور اس میں لگ بھگ دس ہزار نمازیب بآسانی نماز ادا کر سکتے ہیں ، پہلے پہل یہ صرف20×20 مربع فٹ کی ایک چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی ۔جموں کے مخصوص ماحول میں ناجائز قابضین کے تعمیری ڈھانچوں کو ہٹوا کر مسجد کی زمین کی واگزاری اور پھر اس پر اتنی بڑی مسجد کی تعمیر ،وسائل کی فراہمی اور ایک تن تنہا آدمی کے ذریعہ یہ سارا کام ہونا کوئی آسان چیزنہیں تھی   ؎
نقشوں کوتم نہ جانچولوگوں سے مل کے دیکھو
کیا چیز جی رہی ہے ،کیا چیز مررہی ہے
اس کے علاوہ بھی جموں شہر کے گرد و نواح میں ان کے ذریعے چند دیگر مساجد بھی تعمیر ہوئیں جن میں نکی توی جموں کی مسجد تقویٰ، بیلی چرانہ جموں کی مسجدالہدیٰ،یوجنا تالاب ادھم پور میں مسجد اور مدرسہ کی تعمیر ، مرحوم کے وہ زرین کارنامے اور صدقۂ جاریہ ہیں جو قابل فخر سرمایۂ آخرت ہے۔ 
 جموں میں وہ اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھے ۔ مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ مراسم تھے با لخصوص جموںبھٹنڈی کے مرکز المعارف کے صدر مفتی و مفسر قرآن مفتی فیض الوحید صاحب کے علم و فضل کی وجہ سے ان کے ساتھ گہرے مراسم تھے اور اہم دینی مجلس میں انہیں ضرور مدعو کیا کرتے اور ان کے علمی و تصنیفی کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے ۔مرحوم کی نماز جنازہ بھی مفتی فیض الوحید صاحب نے پڑھائی تھی جو ان دونوں کی قربت اور گہری دینی وابستگی کی غماز ہے ۔علاوہ ازیں وہ جموں میں ہندو مسلم اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے بھی ہمیشہ سرگرمِ عمل رہتے اور بڑی بڑی مجلسیں کرواتے رہتے تھے جن میں جموں کی ہندو برادری کے ہر مکتبۂ فکر کے سر کردہ احباب شامل ہوتے تھے اور غیر مسلم طبقہ بھی انہیں اس قسم کی مشاورتی مجلسوں میں ہمیشہ مدعو کرتا رہتا تھا ۔ یوں جموں میں ان کی شخصیت مجموعۂ اضداد اتحاد بین المسلمین اور ہندو مسلم کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی و بھائی چارگی کی ایک کڑی تھی۔ مرحوم فریدآبادی صاحب خوش نصیب تھے کہ انہیں محترمہ سارہ بیگم نامی بھدرواہ کی ایک ایسی اولوالعزم اور با جرأت خاتون کی رفاقت نصیب ہوئی، جنہوں نے ہر قسم کی مشکلات اور سختیوں کا بڑے صبر و سکون اور استقلال سے مقابلہ کر کے اپنے مرحوم شوہر کا ساتھ قدم قدم نبھایا اور کبھی شکایت کا موقع فراہم نہیں ہونے دیا ۔ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔مرحوم فریدآبادی اور ان کی اہلیہ اپنے رفقاء کے دُکھ درد اور خدمتِ خلق میں بلا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے ۔ وہ اپنی ضروریات چھوڑ کر ہمہ وقت فی اللہ وللہ نیکی کے کاموں میں تعاون کے لئے سرگرم رہتے تھے ا ور جس مخلصانہ ایثار و اخوت کا مظاہرہ کرتے تھے، وہ اپنی مثال آپ ہے ۔مجھے ذاتی طور پر ان دو قدسی نفوس کے خلوص و محبت کا تجربہ جنوری ۲۰۱۲ء میں اُس وقت ہوا جب میری اہلیہ مرحومہ کینسر کی شکار ہو کر میڈکل کالج ہسپتال جموں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی ۔یہ دونوں میاں بیوی دن میں کئی کئی دفعہ آکر ہماری خبر گیر ی کرتے اورہر طرح سے ہمارا حوصلہ بڑھاتے اور تعاون دیتے۔ایک شام کو ہمیں اچانک اور فوری طوردو پوائنٹ خون کی ضرورت پڑ گئی ،اس کے لئے ہم کوششوں میں مصروف تھے ،پتہ نہیں کیسے ن  کو پتہ چلا تو اچانک دونوں میاں بیوی روتے بلکتے دس بارہ نوجوانوںکو عطیۂ خون کے لئے لے کر آگئے اورہمارا مسئلہ حل ہوگیا ۔فجزاء ھم اللہ تعالیٰ فی الدارین۔گجر نگر جموںابھی زیادہ آباد نہیں ہوا تھا، شہدی چوک سے گجر نگر دریائے توی کی طرف پیدل جو راستہ جاتا تھا، اس کے ارد گرد خاردار جھاڑیاں اور پتھرہوا کرتے تھے ۔ایک دن صبح صبح فریدآبادی مرحوم اور ان کی اہلیہ دونوں کسی کام سے گجرنگر کی طرف جارہے تھے راستے کی جھاڑیوں میں کسی نوزائیدہ بچے کے رونے کی آواز آئی جو اسی وقت پیدا ہو کر کسی نے جھاڑیوں میں پھینک دی تھی ۔انہوں نے نوزائیدہ بچی کو وہاں سے اُٹھاکر گھر لایا ،دھو دھاکر صاف کیا اور پرورش کرکے اسے دینی و عصری تعلیم سے آراستہ کرکے ایک نوجوان کے ساتھ اس کا عقد نکاح کرایا۔اس کے بعد گجر نگر کے اپنے ذاتی مکان کی بالائی منزل پرایک سیٹ اور نیچے ایک عدددکان دے کر نوبیاہتا جوڑے کو مستقل طور آباد کر دیا ۔ دونوںمیاں بیوی آج صاحب ِاولاد ہوکر خوش و خرم زندگی بسر کر رہے ہیں۔آج کے اس نفسا نفسی عہد میں بسیار تلاش کے بعد ہی شاید کوئی ایسا خدا ترس انسان لاکھوں میں ایک دستیاب ہو سکتا ہے ۔ آپ بڑے محنتی،جفا کش،متحرک،اولوالعزم اور ہمہ وقت سرگرمِ عمل رہتے تھے ۔آج کا کام کبھی کل پر نہیں ڈالتے تھے۔مسجد ،اسکول یا جماعت کے تعمیراتی کاموں میں مستری مزدوروں کے ساتھ گھل مل کر خود کام کرنے میں کبھی عار نہیں محسوس کرتے تھے لیکن قدرے جلالی طبیعت مالک تھے۔چونکہ جو شخص خود انتہا درجے کا متحرک و مخلص اورعملی آدمی ہو ، اس کا سست آدمیوں پر غصہ ہونافطری امر ہے ، پھر بھی بسا اوقات اپنی جلالی طبیعت پر افسردہ ہو کر روتے ،اللہ سے بھی اور ساتھیوں سے بھی معذرتیںکرتے ۔ یہ ان کی صاف گوئی ،نیک نیتی اور حق پرستی کی علامت تھی ۔تحریکِ اقامت دین کے حوالے سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحومؒکے ساتھ ان کی خط و کتابت بھی رہی ۔انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ میرے دونوں بیٹوں عبید الرحمٰن اور عباد الرحمٰن کے نام بھی مولانا مودودی مرحوم کے تجویز کردہ ہیں۔  
جموں شہر میں عہد رفتہ کی قدیم بچی کھچی نسل جس نے جموں میں مسلمانوں کا عروج و زوال دیکھا اور جموں کی تاریخی روایات کی امین اور ایک کے نسل کی نمائندگی کرتی ،تھی سب ایک ایک کرکے راہیٔ عدم ہوچکی ہے۔مولانا عبدالرحمٰن ،محمد یونس اعوان ایڈیٹر ہفت روزہ’’طلوعِ سحر‘‘سردار محمد اقبال خان،سردار حمید اللہ خان،پروفیسر عبدالعزیزاور ایڈوکیٹ شبیر احمد سلاریاوغیرہ سب یکے بعد دیگرے عدم کی راہ لے چکے ہیں۔آج کے جموں کے مسلمانوں کی نئی نسل اپنے بزرگوںاور جموں کی تاریخ بالخصوص ۱۹۴۷ء کے حالات وواقعات سے بہت کم واقف ہے۔میں جب کبھی جموں میں مسلمانوں کے قدیم محلوں سے گزرتا ہوں تو دل و دماغ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے   ؎
رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ 
لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا 
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
بہر حال موحوم فرید آبادی جموں میں مسلمانوں کا ایک مشترکہ اثاثہ تھے جو جموں میں اسلام ،اجتماعی کازاور اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی دینی و ملی خدمات کو قبول فرما کر ان کے درجات کی بلندی کا باعث بنائے۔آمین ثم آمین۔
 نوٹ :مضمون نگار چیئرمین الہدیٰ ٹرسٹ راجوری ہیں 
رابطہ نمبر7006364495