غــزلـــــــیـات

 ثابت ہے مرا حوصلہ مغلوب نہیں ہوں
ہے جُرم صعیفی، تو میں محجوب نہیں ہوں
تجدیدِ ضوابط کی طرح خواب ہیںمیرے
میں کُہنہ روایات کو مطلُوب نہیں ہوں
لُوٹے ہیں مزے سُکر کے بھی خود میں اُتر کر
ہو‘ حَق میںجو غلطاں ہو وہ مجذوب نہیں ہوں
ہیں دورِ پُر آشوب میں جو حق کے نگہباں
میں اُن کی نگاہوں میں بھی معُتوب نہیں ہوں
میں شیشے کی ماند ہوں پتھریلی فضا میں
گواپنی حفاظت میںبہت خوُب نہیں ہوں
میں جہد مُسلسل کے محازوں پہ ڈٹاہوں
گُھل گُھل کے جورہ جائے وہ مشروب نہیں ہوں
میں اپنے ہی سونے کے نشان کس طرح پائوں
جب اس کی نگاہوں کو ہی مطلوب نہیں ہوں
بے سود ہے مجھ پر تری الزام تراشی
بے عیب ہوں میں در خورِ معیُوب نہیں ہوں
کل جس کی مورّخ نئی تاریخ لکھے گا
کیا وہ میں حنیف آج کا مکتُوب نہیں ہوں
حنیف ترین۔۔۔نئی دہلی
9971730422
 
 چُپ رہامیں کہ جوبھی ہوتارہا
وہ میری راہ میں کانٹے بوتا رہا
زِندگی تیزگام تھی کِتنی 
زندگی بھر مگر وہ سوتا رہا
کام لیتا کبھی  تردّد سے 
اپنی قسمت پہ جو بھی روتا رہا
وہ اُڑاتے رہے ہیں میرامذاق 
یہ تماشاجہاں میں ہوتارہا
زِندگی ساری اپنی یُوں گُزر ی 
جس کوپایامیں اُس کوکھوتارہا
ہرجفاپررہاہوں میں خاموش
وہ پریشان پھِربھی ہوتارہا
یہی مقصدتھازِندگی کاہتاشؔ
عُمربھرنیکیاں میں بوتارہا
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
8493853607
 
 
 
میںتیرے ایک ہونے کا اشارہ دیکھ لیتا ہوں
ہر اک جانب فقط تیرا اثاثہ دیکھ لیتا ہوں
موّجد عشق کا ہونا خدایا شان ہے تیری
ہر ایک صورت میں تیرا ہی فسانہ دیکھ لیتا ہوں
ترا ہونا تو ہے اسباب کی حد سے بہت آگے
مگر ہر چیز کا کوئی بہانہ دیکھ لیتا ہوں
خود ئ کُل کے آگے ہے خودئ جُز کی کیا ہستی
میں اپنے عزم پر تیرا ارادہ دیکھ لیتا ہوں
احاطے میں ترے اپنا تصوّر جب بھی آتا ہے
میں جھیل ِ ڈل میں اک خستہ شکارا دیکھ لیتا ہوں
حقیقت کیا سمجھنی ہے مجھے فاروقؔ ایماں کی
مدینہ دیکھ لینے سے میں مکہ دیکھ لیتا ہوں
 
فاورق احمد فاروقؔ
اقبا ل کالونی آنچی ڈورہ
فون نمبر9906482111
 
 
سینے میں جو الفت پل جاتی
وہ موہنی شکل پگھل جاتی
 
آجاتے جو تم بانہوں میں مری
حسرت مرے دل کی نکل جاتی
 
مل لیتا جو وہ مسکا کے کبھی
بے حال مری جان سنبھل جاتی
 
لکھتی میں غزل اک اس کے نام
خود بن کے بھی ایک غزل جاتی
 
وہ چاند جو گھر مرے آتا کبھی
میں اس کےقدم پل پل جاتی
 
جسپال جو ہوتی اس کی نظر
تقدیر مری بھی بدل جاتی
 
جسپال کورؔ
9891861497 
 
 
 
زندگی کا سورج ڈھلتا جائے ہے 
سوزِ غم دن بدن بڑھتا جائے ہے
 
اُلٹا ملتا  ہے  اب وفاوں کا صلہ 
زمانے کا رخ کچھ بدلتا جائے ہے
 
جب کوئی چھیڑ دے تذکرہ اُسکا 
شب  بھر  درد  بڑھتا  جائے  ہے
 
دیکھ کر مغرب کی رنگنیوں کو 
سنجیدہ شخص بہکتا جائے ہے
 
الٰہی کب ہو گا اُنھیں احساسِ محبت 
روز  اک  نیا ستم بڑھتا جائے ہے
 
جو بھی پیارا لگا ہمیں جہان میں 
وہی  ہم  سے  بچھڑتا  جائے  ہے
 
کیسے تعین کروں وہ نہیں میرا خوشحال 
دل اُسی کو دیکھ کر مچلتا جائے ہے 
       میر خوشحال احمد 
  دلدار کرناہ 
      فون نمبر….. 9622772188