غزہ تا تہران

اسرائیلکی پارلیمنٹ نے ایک متنازع مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے جس کی رُو سے صرف یہودیوں کو خودمختاری حاصل ہوسکے گی،علاوہ ازیں ریاستی سطح پر نئے پرانے یہودی آبادکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ گزشتہ ہفتے ’’قومی ریاست‘‘ کے عنوان سے پیش کئے گئے اس بل کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے لگ بھگ دس گھنٹے تک جاری رہنے والی تو تکار گرما گرم بحث کے بعد جمعرات کی صبح 55کے مقابلے میں 62ووٹوں سے منظور کرلیا، اس پر پارلیمنٹ کے عرب ارکان نے بل کو ’’جمہوریت کی موت اور نسل پرستی کی انتہا‘‘ قرار دیتے ہوئے ایوان میں مسودہ ٔ قانون کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ ایک معتبر عالمی سروے کے مطابق دنیا کے بیس ممالک کے عوام فلسطینیوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کی غرض سے اقوام متحدہ میں قرارداد منظور کرانے کے حق میں ہیں۔ گلوب اسکین کے اس سروے میں انیس ملکوں کے بیس ہزار 4سو چھیالیس شہریوں نے حصہ لیا جہاں عوام کی اکثریت نے فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حق میںاپنی رائے کا دوٹوک اظہار کیا۔ جن ممالک میں اس قرارداد کے بارے میں مخالفت زیادہ ہے ان میں امریکہ نمایاں ہے، جہاں کے عوام 45فیصد حمایت میں اور 36 فیصد مخالفت میں ہیں ۔دوسری طرف یورپین یونین کے ممبران ممالک کے اپنے ملکوں میں 54فیصد افراد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں،جب کہ محض 20فیصد مخالف ہیں۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کو ایٹمی طاقت نہ بننے دیا جائے اور حماس کے پر کاٹ دئے جائیں اور خطے میں اسرائیلی مفاد کو ہر حال میں بچایاجائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر ایران نے ایٹم بم بنالیا تو تل ابیب یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق 26فیصد یہودی اسرائیل چھوڑ جائیں گے جب کہ 85فیصد اسرائیلوں کو یقین ہے کہ ایران ایٹم بم بنالے گا۔
 جون 2009ء کو قاہرہ یونیورسٹی میں اوباما نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو2003 کے روڈ میپ کے پہلے مرحلے کی شرائط کی پیروی کرنے پر آمادہ کرے گا۔ اس روڈ میپ کی پہلی شرط کے مطابق ’’اسرائیل کو مزید نئی بستیوں کے قیام کا سلسلہ منقطع کردینا چاہئے‘‘۔ فلسطینیوں اور عرب ممالک نے اس شرط کو اس حقیقت کے باوجود قبول کرلیا کہ اسرائیل نے اس روڈ میپ میںایسے مزید 14؍ریزویشن کا اضافہ کیا ہے جن سے اسے نئی بستیوں کی تعمیر کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہ ’’روڈ میپ‘‘ فلسطینیوں کی قسمت کا وہ باب ہے جس میں ان کے لئے اپنی تہذیب و تمدن ، سماج و معاشرہ ، معیشت اور سیاست سے دور رہنا ہی لکھا ہے۔ان سارے مصائب اور تکالیف کے باوجود اب پھر سے فلسطینیوں سے امریکہ اور مغربی طاقتیں سامنے آکر کہہ رہی ہیں کہ ’’مذاکرات‘‘ کی میز پر واپس آیا جائیں ، اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے حصول کیلئے پیش کی گئی درخواست کو بھول جائیں اور کسی ٹائم ٹیبل کے بغیر اسرائیل سے بات چیت کی جائے مگر شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اب مظالم اور بے بسی کی انتہا ہوچکی ہے ،وہ اپنا ملک چاہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ میں خصوصی نشست کے بجائے مکمل رکنیت کیلئے سیکورٹی کونسل کا دروازہ کھٹکھٹایا تو سارے فلسطینی، عرب اور دنیا کی 54فیصد آبادی نے ان کی تائید میں ہاتھ کھڑے کردئے۔ حق یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی رکنیت مل جانے کے باوجود فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ختم نہیں ہوگا مگر اس سے فلسطینیوں کی اخلاقی فتح اور ان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ اس وقت فلسطینیوں کو امریکہ کی طرف سے جوسالانہ ’’امداد‘‘ مل رہی ہے وہ 500ملین ڈالر ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر فلسطین اتھارٹی نے اقوام متحدہ میں آزاد فلسطین کی قرارداد پیش کی تو وہ اس قرارداد کو ویٹو کردے گا اور فلسطین کی امداد بند کردے گا۔ تاریخ فاتح کی فتوحات لکھتی ہے، اس کے دسترخوان پر پڑے انڈے، مکھن ، توس ، جام جیلی یا پراٹھے نہیں گنتی      ؎
چلو یہ مانا کہ ادنیٰ سا اک چراغ ہوں میں
مگر ہوائوں کو اُلجھن میں ڈال رکھا ہے
