غزلیات

میں سچ کہوں تو یہ دل بدحواس ہے ہی نہیں

جو لگ رہا ہے بظاہر اُداس، ہے ہی نہیں

 

 وہ جس کو ہجر کے صدمے سے لطف نا آئے

مری نظر میں محبت شناس، ہے ہی نہیں

 

یہ عشق آپ سے لوگوں کا کام ہے پیارے

ہمارے جیسوں کو یہ کام راس، ہے ہی نہیں

 

مجھے یہ شک کہ یہیں آس پاس ہے میرے

مگر وہ شخص مرے آس پاس، ہے ہی  نہیں

 

یہ لوگ راہ میں بیٹھیں تو  کس لئے؟ کہ انہیں

کسی کے لوٹ کے آنے کی آس، ہے ہی نہیں

 

جعفر تابش

مغلمیدان، کشتواڑ

موبائل نمبر؛ 8492956626

 

 

 

یہ جو مقتل میں میری لاش پڑی ہے لوگو

دھوپ سے اس کو اُٹھانے کی ضرورت کیا ہے

مات کا داغ ہے ماتھے پہ شرمسار ہوں میں

خاک چہرے سے ہٹانے کی ضرورت کیا ہے

میرے قاتل سرِ محشر بھی بچاؤں گا تجھے

خون دامن سے مٹانے کی ضرورت کیا ہے

زندگی میں تو سدا دیکھی تیری دُرشت رَوی

مر کے سینے سے لگانے کی ضرورت کیا ہے

وار کرنا ہے تو آنکھوں سے مِلالو آنکھیں 

اپنے چہرے کو چھُپانے کی ضرورت کیا ہے

میری پلکوں سے کہو بجھ گئے جگنو سارے

ابَ کوئی خواب سجانے کی ضرورت کیا ہے

یہ زمانہ تو نمک لے کے کھڑا ہے کب سے

زخمِ دل ایسے دِکھانے کی ضرورت کیا ہے

یوں خیالوں میں نہ آوؤ کہ اکیلا چھوڑو

اس دِوانے کو ستانے کی ضرورت کیا ہے

کیوں میرا سوگ مناتے ہوبہا کر ٹسوے

ابَ یہ ناٹک کو نِبھانے کی ضرورت کیا ہے

تھا فلکؔ اب قلم کار کہا بعد از مرگ

اب لحد میں بھی رُلانے کی ضرورت کیا ہے

 

فلک ریاض

چھتر گام، چاڈورہ،[email protected]

 

 

درد جب سے ہوئے ہرے کچھ تو 

فرصتِ غم ہوئے مرے کچھ تو 

شام پھر گھومنے لگی تنہا 

پاس مجھ سے ذرا پرے کچھ تو 

دل کی بستی میری پڑی سنسان 

جستجو ،آرزو کرے کچھ تو 

ہو گئے ہیں وہ صاحبِ ایثا ر 

جو نہیں تھے کبھی بڑے کچھ تو 

دل نے کیسی ہے یہ بغاوت کی 

اِک غزل چھیڑ دی ارے کچھ تو 

کاش تُو میری آرزو ہوتی 

جی بہلتا مرا اَرے کچھ تو 

خاک ہوں خاکِ پا ہوں میں یاورؔ 

کیا  ہے انسان وائے رے کچھ تو !

 

یاورؔ حبیب

بڈکوٹ ہندوارہ

موبائل نمبر؛6005929160

 

 

دنیا کا منظر دل دُکھانے والا ہے

یہی تو ہر کوئی بتانے والا ہے

سیلاب آیا ہے یہ جس وجہ سے

اُسے ہر کوئی چھپانے والا ہے

کنجوس ہوئے اب  وہ حق کے وکیل

کیونکہ دلیل سے فیصلہ آنے والا ہے

نہ جانے وحدت، اخوت ’شجاعت ‘اب

تو حق کا قلم بھی بکنے والا ہے

کیوں ڈرے کوئی مٹی کے حاکم سے

جسے چاہے جب چاہے گرانے والا ہے

نہ سمجھے کوئی ظاہر کا لبادہ اوڑھ کر

کہ خدا میری جنت سجانے والا ہے

دھوکے میں نہ رہنا توبہ کی سہیلؔ

یہ ملا وقت بھی اب جانے والا ہے

 

سہیل احمد 

مرمت،ڈوڈہ 

موبائل نمبر؛6006549235

 

 

دنیا کا منظر دل دُکھانے والا ہے

یہی تو ہر کوئی بتانے والا ہے

سیلاب آیا ہے یہ جس وجہ سے

اُسے ہر کوئی چھپانے والا ہے

کنجوس ہوئے اب  وہ حق کے وکیل

کیونکہ دلیل سے فیصلہ آنے والا ہے

نہ جانے وحدت، اخوت ’شجاعت ‘اب

تو حق کا قلم بھی بکنے والا ہے

کیوں ڈرے کوئی مٹی کے حاکم سے

جسے چاہے جب چاہے گرانے والا ہے

نہ سمجھے کوئی ظاہر کا لبادہ اوڑھ کر

کہ خدا میری جنت سجانے والا ہے

دھوکے میں نہ رہنا توبہ کی سہیلؔ

یہ ملا وقت بھی اب جانے والا ہے

 

سہیل احمد 

مرمت،ڈوڈہ 

موبائل نمبر؛6006549235

 

 

ہر پل اُس کا خیال آتا ہے 

جینا اُس بِن محال آتا ہے

 

چاند کو دیکھوں جب بھی میں 

سامنے اُس کا جمال آتا ہے

 

نہ اِترا کارِ سامانِ عیش پر 

ہر کمال پہ زوال آتا ہے

 

ہے خواہش ترکِ تعلق کی

خشک ہونٹوں پہ سوال آتا ہے

 

دل تھام کے بیٹھا ہوں میں 

ایسی کَج رو چال آتا ہے

 

یہ کمال کچھ کم ہے ان کا 

ہم فقیروں پہ جلال آتا ہے 

 

میں نے سمجھا تھا جسے اپنا مشتاقؔ

سدا جانب میری اُلٹی چال آتا ہے

 

خوشنویس میر مشتاقؔ

ایسو ( اننت ناگ )

[email protected]