غزلیات

دشِت امکاں میں آرہے ہیں لوگ
کیسی دُنیا بسا رہے ہیں لوگ
 
ہےمصّور کہیںپس پردہ…!
فن کی تکمیل پا رہے ہیں لوگ
 
خوش نصیبی کہ ان کی راہوں میں 
پھول کلیاں بچھا رہے ہیںلوگ
 
کیسی لالی شفق یہ چھائی ہے
اب کے مقتل میں جارہے ہیں لوگ
 
یاد بے شک عذاب دیتی ہے
پھر کیوں دامن بچا رہے ہیں لوگ
 
خون محنت کشوں کا بہتا ہے
اِک عمارت بنا رہے ہیں لوگ
 
کس کی آمد کا ذکر ہے سجادؔ
اپنی پلکیں بچھار ہے ہیں لوگ
 
سجاد ؔپونچھی
338محلہ جھولا کاں جموں9419104353
 
(جمنا پرشاد راہیؔ کے سانحۂ ارتحال پر کہے گئے اشعار)
کسی سے بجھ نہ سکے اُس کی آگہی کے چراغ
ہوا کے دشت میں روشن ہیںشاعری کے چراغ
ہلا گیا ہے مکانوں کو زلزلہ کوئی
بجھا دئیے ہیں ہوا نے گلی گلی کے چراغ
سرور و کیف میں ڈوبی تھی زندگی اُس کی
ہمیشہ جلتے رہے اُس کی بے خودی کے چراغ
نہیں ہے ان کو ضرورت کسی اُجالے کی
دلوں کی طاق میں روشن ہیں بندگی کے چراغ
وہ تیرگی ہے کہ جینا محال ہے اب تو
بجھے بجھے سے ہیں دنیا میں دوستی کے چراغ
ہوا یہ دیکھ کے ششدر ہوئی ہے صحرا میں
کسی کی ذات میں روشن ہیں عاشقی کے چراغ
کسی کے جانے سے اتنے اداس ہو ناصرؔ
جو جل رہے ہیں بجھیں گے ہی زندگی کے چراغ
 
ناصرؔ شکیب
زہرہ باغ ،سول لائین علی گڑھ یوپی,موبائل:9897451682;
 
 
لوگ کچھ  اِس  طرح کے ہوتے ہیں
بوجھ  بس  زندگی  کا  ڈھوتے ہیں
 
جن  کو خاموشی  راس ہے آتی
وہ نہ ہنستے کبھی نہ روتے ہیں
 
وار  سہتے  ہیں   وار  کرتے   نہیں
ہار  زخموں  کا  جو   پروتے  ہیں
 
اُن  کو  کھانا  نصیب   ہوتا  نہیں
فصل  ہاتھوں  سے  جو بھی بوتے ہیں
 
اِشک  جن  کے  نظر  نہیں  آتے
خوں  سے  دامن  کو وہ بھِگوتے ہیں
 
بانٹنا   کام   جن   کا    ہے   ہوتا
اُن سے پو چھو وہ کِیا کیا  کھوتے ہیں
 
جن  کو   انجمؔ    جہان   ہے  کہتا
رات جگتے  ہیں  دِن  کو  سوتے ہیں
 
 پیاسا  انجمؔ
 ریشم گھر کالونی۔جمّوں
موبائل نمبر؛9419101315
 
 
رات کا سپنا ریزہ ہوکر
آنکھ سے چھلکا قطرہ ہوکر
 
قیدی ہیں گنجان گلی کے
کون چلے گا رستہ ہوکر
 
روز ڈراتی ہیں افواہیں
اک اخبار کا پر چہ ہوکر
 
بوڑھے باپ کا مطلب کیاہے
سوکھے پیڑ کا سایہ ہوکر
 
طفل کے لب پر آلگتی ہے
عید دیوالی حلوہ ہوکر
 
آزر کا جب ہاتھ لگا تو
سنگ پکارا شیشہ ہوکر
 
پوچھو تم فاروقؔ نہ حالت
میںکشمیر کا نقشہ ہوکر
 
فاروق احمد فاروق
اقبال کالانی، انچی ڈورہ، اننت ناگ
فون نمبر:9906482111
 
 
پھول ،خوشبو ، بہار ،جھرنا میں 
سارے تیرے ہیںمیری دنیا میں
ہر تماشائی مدعی ٹھہرا 
کھیل میں تھا مگر ادھورا میں 
اب کوئی بھی صدا نہیں آتی 
پا شکستہ کھڑا ہوں صحرا میں 
کوئی مصرف نہیں تمہارا یاں 
روشنی ہو تم اور اندھا میں 
میری تکمیل کرنے والے ،ہے
پیاس تیرا وجود ،دریا میں 
باب حسرت کا کھل گیا ہے اب 
آج شاید ہوا ہوں پورا میں 
 
سیدین وقار
موبائل نمبر؛9419001980
 
اِجنبی گِر یار بنتے
کانٹے بھی گُلزار بنتے
ہم تِرے اے! زندگی پھر
جینے کے حقدار بنتے
زندگی خوشحال ہو تی  
کاش ہم پھر یار بنتے
ہوتی نہ کشتی بھنور میں 
وہ اِگر پتوار بنتے
عکسؔ سے گر عشق ہوتا
وہ مِرے دلداربنتے
 
ہریش کمار عکسؔ
بھدرواہ۔ 9596888463
 
 
سرد مہری
ترے  ہی چارسوٗں  ہے یہ
یہ شرق و غرب  یہ  شمال و جنوب
تمھیں  کچھ  بھی خبر ہے کیا
کہ کس گرداب میں ڈوبی
کہ کن آفات  میں  لپٹی   
تمہاری  یہ زمیں ساری    
یہاں  جو  رہتے  آئے  ہیں
کہیں  کیا سہتے  آئے  ہیں
کبھی  دن رات  سناٹے
کبھی  آہ و بقا  اپنے       
کبھی اس گھُپ اندھیرے  میں
کوئی  جو روشنی  آئی      
کئی  آدم نما آئے       
بُجھائی روشنی  ساری  
ہوئے مصروف  کاموں  میں 
یہاں اہلِ ستم سارے
صرف بہبود کہتے  ہیں     
اب تو اس  گُھپ  اندھیرے میں
نہیں  کُچھ بھی بجُز آہیں      
صدائیں  بس صدائیں  ہیں
میرا بھی ان  صداوٗں  میں
کہیں بھی جی نہیں  لگتا       
مگر افسوس  صد  افسوس       
یہ تیری سرد مہری، واہ!
 
واجد عباس
نوگام سوناواری  
 
 
 
 
یہ کس کی مہربانی ہوگئی ہے
کہ مٹی پانی پانی ہوگئی ہے
کبھی تہذیب تھی جو ماں ہماری
وہ اب جنت مکانی ہوگئی ہے
نہ ہوجائے خبر اخبار کی یہ 
مری بیٹی سیانی ہوگئی ہے
حنائی پا تِرے کا لمس پاکر
یہ مٹی زعفرانی ہوگئی ہے
چھڑکتے جان تھے سُن کر جسے ہم
وہ بھاشا لَن ترانی ہوگئی ہے
چلی آئو مرے خوابوں میں جانم
اب اِن کی رُت سہانی ہوگئی ہے
نہیں مَے چھوٹتی چُھوٹے بھی کیسے
کہ یہ عادت پُرانی ہوگئی ہے
نہیں دیکھے گی تجھ کو مُڑکے پنچھیؔ
وہ دریا کی روانی ہوگئی ہے
 
سردار پنچھیؔ
جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ، کھنہ، 141401پنجاب
9417091668