غزلیات

 چاردِن کی یہ زندگانی ہے 
اس کی جوچیزبھی ہے فانی ہے 
ہرکسی کا اُڑاتاہے وہ مذاق
اُس کی عادت بڑی پُرانی ہے 
جوبیاں کرتے ہیں مرے آنسو
دِل پہ تحریر وہ کہانی ہے 
اُس کی پلکیں ہیں جھیل سی گہری
اُس کے لب ہیں کہ گُل فشانی ہے 
اُس کی باتوں سے پھُول جھڑتے ہیں 
کتنی رنگین یہ کہانی ہے 
عُمرگذری ہے غم اُٹھاتے ہوئے 
مختصریہ مری کہانی ہے 
کیابھروسہ کریں ہم اس پہ ہتاشؔ
جبکہ دُنیایہ آنی جانی ہے 
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیسٹ لین
جانی پور،جموں
رابطہ نمبر:8493853607
 
 
تشنہ لب ہوں اداس بیٹھی ہوں
میں سمندر کے پاس بیٹھی ہوں
تم نگاہیں چرائے بیٹھے ہو 
میں سراپا سپاس بیٹھی ہوں
دیکھ مجھ کو کہ تیری محفل میں 
میں بھی اے غم شناس بیٹھی ہوں
سہمی سہمی سی ہے خوشی مجھ سے
بن کے غم کی اساس بیٹھی ہوں
آپ کیا ظرف آزماتے ہیں 
پی کے برسوں کی پیاس بیٹھی ہوں
آنے والے ہیں وہ عیادت کو
اور میں بد حواس بیٹھی ہوں
میں بھی کیا قاتلوں کی بستی میں
لے کے  جینے کی آس بیٹھی ہوں
میں کہ آئی ہوں خار زاروں سے
جو دریدہ لباس بیٹھی ہوں
اک مکمل کتاب تھی زریاب 
ہوئے اب اقتباس بیٹھی ہوں
 
ہاجرہ نور زریاب 
آکولہ مہاراشٹر 
رابطہ9922318742 
 
 
دور پھر ہم سے قبیلے ہوگئے 
آنسوؤں میں پھر سے گیلے ہوگئے
 
میرے پرزے سارے ڈھیلے ہوگئے 
جب سے تیرے ہاتھ پیلے ہوگئے
 
چومتا رہتا تھا برسوں میں جنہیں
وہ حنائی ہاتھ پیلے ہوگئے
 
جب سے پایا لمس ہے اے زندگی 
تب سے میرے لب رسیلے ہوگئے
 
تیری اک اک بات سے دلبر مرے 
بے سُرے کتنے سریلے ہوگئے
 
دیکھ کر بسملؔ جمالِ یار کو
ہم نشیلے ہی نشیلے ہوگئے
 
سید بسمل مرتضیٰ
پیر محلہ شانگس اننت ناگ 
9596411285 
طالب علم:ڈگری کالج اترسو شانگس
 
 
کبھی وعدہ کبھی اقرار ہوتا ہے
بیاں اُن کا یہی ہر بار ہوتا ہے
 
اُڑاتے ہیں تمسخر کس طرح سے 
یہی کل کا یہاں اخبار ہوتا ہے
 
گھٹن ہر سُو ہے اب رشتوں میں یارو
کہ لینا سانس بھی دشوار ہوتا ہے
 
ستم کیا کیا نہ ڈھائے ہیں جہاں نے
گماں اِک بار پہ، سو بار ہوتا ہے
 
ذرا جاکر یہ دیوانے سے پوچھو
بصورت مرگ کے، کیوں انتظار ہوتا ہے
 
نہ گھبرا بڑھ تو آگے اے سکینہؔ!
کہ ہر اِک موڑ پہ پروردگار ہوتا ہے
 
سکینہ اختر
کرشہامہ کنزر
موبائل نمبر؛9622897729