غزلیات

مقدر تھا ستاروں کے حوالے
ہوئے ہم بھی سہاروں کے حوالے
ہمارا جو بھی ہو گا دیکھ لیں گے
کیا تم کو بہاروں کے حوالے
بیاں ہوتا نہیں الفاظ میں جو
اشاروں، استعاروں کے حوالے
ہماری آبلہ پائی کا صدقہ
کہ ہم ہیں خارزاروں کے حوالے
ابھی معلوم ہو گا ظرف ان کا
چلو ہو جائیں یاروں کے حوالے
انہیں ہی کاٹتا ہے کیوں سمندر
ہوا تھا جن کناروں کے حوالے
فریبوں میں رہا بلراؔج لیکن
یقینوں ‘ اعتباروں کے حوالے
 
بلراج ؔبخشی 
۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱
(جموں کشمیر) موبائل نمبر؛09419339303
ای میل؛ [email protected]
 
 
مثلِ شعلہ کبھی شرار میں تھا 
منفرد شہر کے  غبار میں تھا 
کون سنتا نوائے شوق میری 
اجنبی اپنے ہی دیار میں 
تیر کس کی کمان سے نکلا 
اپنے ہی یار  کے حصار میں تھا 
جس سے سیراب ہوگیا گلشن 
وہ لہو کس کا آبشار میں تھا 
روشنی بانٹتا رہا سورج 
چاند کا سایہ بھی قطار میں تھا 
آگ جس نے لگائی گلشن میں 
آتشِ گل کوئی بہار میں تھا 
اب سلگتے ہیں ہجر کے موسم 
درد غم آتشِ چنار میں تھا 
 
اشرف عادل 
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل،سرینگر کشمیر 
موبائل نمبر؛9906540315  
 
 
یاد ان کی ہے شب غم میں اُجالوں جیسی
اور باتیں ہیں صحیفوں کے حوالوں جیسی
ان کی خوشبو کہ فضائیںبھی مہک جاتی ہیں
نازکی لب کی ہے پھولوں کی مثالوں جیسی
ان کی زلفیں ہیں کسی دشت میں ناگن جیسی
آنکھ مل جائے تو تیکھے سوالوں جیسی
بھول جاتا ہے کہی بات ہمیشہ اپنی
اس کی عادت ہے وہی بھولنے والوں جیسی
دیکھ سکتا ہوںمگر چُھو نہیں سکتا اُن کو
زندگی ہے یہ، مگر خوابوں خیالوں جیسی
دل میں ارما مچل آئے ہیں کتنے راشکؔ
اور اک مہر زباں پر ہے کہ تالوں جیسی
 
راشک اعظمی
طالب علم شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی،9697763697
 
مولا یہ تیرے بندے گنہگار کیا کریں 
بدکار، شرمسار، خطاکار کیا کریں
یہ دل  ترا دیوانہ ہے  اے یار کیا کریں 
چاہت کا بار بار  یہ  اظہار کیا کریں
مشکل سے تیرے شہر میں ملتی ہے نوکری
ہم جیسے آدمی ہیں جو بیکار کیا کریں
پھر دیکھتے ہی دیکھتے مہنگائی بڑھ گئی
ایسے میں بے سہارا خریدار کیا کریں
دل بھی تو، جان بھی تو، مری زندگی بھی تو
بولو نثار کیا کریں، دلدار کیا کریں
کہتا ہے میری شان میں اکثر وہ شعر، پر
دل میں نہیں خلوص تو اشعار کیا کریں
بسمل غلامِ مصطفی ؐبن جائے زندگی
اس کے سوا یہ دولت و دینار کیا کریں
 
سید بسمل مرتضیٰ
شانگس اننت ناگ کشمیر 
طالب علم ڈگری کالج اترسو شانگس ،9596411285
 
 
 
 
مرے ہی شہر میں مجھ کو وہ جینے کیوں نہیں دیتا؟
مگر پھر زہر کا پیالہ بھی پینے کیوں نہیں دیتا؟
 
وہ بدلہ لے رہا ہے مجھ سے پُرکھوں کی عداوت کا
کُھلے ہیں زخمِ دل کب سے وہ سینے کیوں نہیں دیتا؟
 
جو کہتا ہے سمندر پار سے خوشبو چُرا لائو
ذرا اس سے کوئی پوچھے سفینے کیوں نہیں دیتا؟
 
مجھے قسمت بدلنے کا سکھاتا ہے ہُنر لیکن
نجومی آرسی دے کر نگینے کیوں نہیں دیتا؟
 
اگر کرتا ہے وہ سانپوں کی سرداری کا دعویٰ تو
غریبوں کو امیروں کے خزینے کیوں نہیں دیتا؟
 
مجھے بدنام کرتا ہے جو میری خامیاں لے کر
وہ اپنی ذات کو بھی آبگینے کیوں نہیں دیتا؟
 
عطا تو کردیا اُس نے ہمیں تحفہ عبادت کا
مگر روزوں کے جیسے سب مہینے کیوں نہیں دیتا؟
 
پرویز مانوسؔ
آزاد بستی نٹی پورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛9419463487
 
 
 
وہ مثل خون مرے قلب و نس میں رہتا ہے
یہ کون ہے جو مری دسترس میں رہتا ہے
 
ترے بدن کی مہک چھو کے جب گزرتی ہے
مرا جنون کہاں میرے بس میں رہتا ہے
 
تمہارے شہر کی وسعت سے مجھکو کیا نسبت
مرا دھیان ہمیشہ قفس میں رہتا ہے
 
ہو آسمان کو چھونے کا حوصلہ جس میں
وہی اسیر پرندہ کلس میں رہتا ہے
 
فقیر چند ہی سکوں پہ صبر کرتا ہے
امیرِ شہر مسلسل ہوس میں رہتا ہے
 
قریبِ مرگ ہوں جاویدؔ اب گلہ کس سے
مری ہی جان کا دشمن نفس میں رہتا ہے
 
سردارجاویدخان
پتہ؛ مہنڈر، پونچھ
رابطہ؛ 9697440404
 
 
 
شعلوں کی حکومت ہے چمن زیر و زَبر ہے
موسم ہے بہاروں کا مگر رقصِ شرر ہے
 
سو چو تو ہر اِک دل میں ہیں نفرت کے شرارے
دیکھو تو ہر ایک شخص بہم شکر و شیر ہے
 
مظلوم سے ہمدردیاں ظالم سے رَہ ورسم
اے چارہ گرِ غم تو ِاِدھر ہے کہ اُدھر ہے
 
گھر میں جو چُھپے بیٹھے ہیں اِن کو بھی تو دیکھو
باہر کے حریفوں پہ تو ہم سب کی نظر ہے
 
اِک آنکھ کی قسمت کہ جو آنسوں ہے وہ پانی
اِک آنکھ میں جو اشک ہے مانندِ گُہر ہے
 
اِک حال پہ ٹھہرا ہے نہ ٹھہرے گا زمانہ
ہر صبح کی اِک شام ہے ہر شب کی سحر ہے
 
ہیں اہل نظر درد کی دولت سے تہی دِل
دل جس کو میسر ہے وہ محرومِ نظر ہے
 
بکھرے ہیں در و بام پہ تابندہ حقائق
سونے کا نہیں وقت یہ ہنگامِ سحر ہے
 
سرَ لے کے ہتھیلی پہ یہاں لوگ مسافرؔ
یہ راہِ عزیمت ہے شہادت کا سفر ہے
 
وحید مسافرؔ
 باغات کنی پورہ،9419064259
 
 
 
ترا ذکر جب کوئی محفل میں آئے
سمٹ کر محبت مرے دل میںآئے
تو گوشہ نشیں ہے پہ ہر گوشے میں ہے
کبھی لا مکاں میں، کبھی دل میںآئے
ذرا پاؤں اپنے شکستہ تو کرلے
ذرا سا تو لطف اپنی منزل میںآئے
وہ طوفاں ہی کیا جو سمندر میں بھٹکے
ہے طوفان وہ جو قربِ ساحل میں آئے
وہ خنجر، وہ نشتر، وہ تیغِ ستم گر
ہے مرغوب جو دستِ قاتل میں آئے
کہ جنگِ محبت میں کھویا ہے سب کچھ
ہے کس میں ہو یارا مقابل میں آئے
خزانوں سے بڑھ کر مکرّم وہی ہے
جو مشتِ غذا دستِ سائل میں آئے
جو ضربِ صفر دے تو انعامِ رب کو
تو پھر کیا ہے جو تیرے حاصل میں آئے
تو جن سے نکھرتا ہے اب بھی جہاں میں
خوشی ہے کہ ہم اُن عوامل میں آئے
 
تسنیم الرحمان حامیؔ
شعبہ الیکٹرانکس کشمیر یونیورسٹی رابطہ؛+919419466642