غزلیات

ابھی کچھ اور دن اسلاف کی چادر میں رہنے دے 
مکاں کچّا سہی لیکن مجھے اس گھر میں رہنے دے 
 
خلوصِ عشق جن کو ڈھونڈتا ہے ایک مدت سے 
عقیدت ہے تو اُن سجدوں کو اپنے سر میں رہنے دے 
 
نئی بستی،  نئے چہرے، نئے ہیں خواب بھی سارے 
ہجومِ شہر میں خود کو تلاشِ زر میں رہنے دے 
 
بھکاری ہی سہی اُس کو بھی ہے اپنی انا پیاری
نہیں محلوں کی خواہش بس اُسے  چھپر میں رہنے دے 
 
میں گزرا وقت ہوں تیرے لئے اے ہمنشیں لیکن
سمجھ کر یاد کا موتی تُو چشمِ تر میں رہنے دے 
 
طلب دولت کی لے آئی ہے تجھ کو اس جزیرے پر 
وطن کی یاد کو اپنے دلِ مضطر میں رہنے دے 
 
تراشے گا اُسے مانوسؔ وہ ہوجائے گا رُسوا
محبت ہے اگر تجھ کو صنم پتھر میں رہنے دے
 
پرویز مانوس ؔ
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر 
موبائل نمبر ؛9622937142
 
 
 
یہ بھی کیا طور کہ ہم تجھ سے جدا ہو جاتے
بات تو تب تھی کہ الفت میں فنا ہو جاتے
 
روزِ اول میں جو تقدیر نہ لکھی جاتی
سارے انسان ہی دنیا میں خدا ہو جاتے
 
کس لئے تم نے طبیبوں کو یہ زحمت دی ہے
درد جب حد سے گزرتے تو دوا ہو جاتے
 
ہم فقیروں سے ہی پوچھو کہ فقیری کیا ہے
شاہ جو  ہم سے الجھتے تو ہوا ہو جاتے
 
میرے اندر ہیں تری یاد کے موتی اب تک
یہ خزانے جو نہ ہوتے تو جدا ہو جاتے
 
کب یہ آساں تھا کہ رشتوں کو نبھاتے جاویدؔ
مجھ سے وہ بات بھی کرتے تو خفا ہو جاتے
 
سردار جاوید خان
رابطہ؛  مہنڈر، پونچھ،رابطہ، 9697440404
 
 
موسمِ یخ بستگی میں شعلہ سامانی کہاں
برف زارِ زندگی میں رات کی رانی کہاں
مجھ کو ٹی وی اور موبائیل کے حوالے کردیا
داستان گوئی کی رسیا ماں کہاں، نانی کہاں
دقتیں لاکھوں، ہزاروں مشکلیں درپیش ہیں
سادگی ، اخلاص، فرصت اور آسانی کہاں
اُڑ گئیں مرغابیاں کیوں ، تھم گئیں موسیقیاں
ندیوں، نالوں میں اب وہ مرمریں پانی کہاں
علم و دانش میں جو درآئی وبائے اختصاص
وہ ہمہ جہتی کہاں اور وہ ہمہ دانی کہاں
خود نمائی ، خودستائی قابلیت کی سند
اب نظر آئے کسی کو اپنی کم دانی کہاں
چند سِکّوں کے عوض آتی کھلونوں کی بہار
اب بھرے بازار میں ڈھونڈو تو ارزانی کہاں
کون پونچھے گا ترے آنسوں یہاں مشہورؔ جی
آج کی دنیامیں وہ اقدارِ انسانی کہاں
 
محمد یوسف مشہور
کپوارہ، کشمیر، 99066242213
 
وہ دیکھو مہرِتاباں جانب فاران جاتا ہے
زمانہ مقصدِ تخلیقِ آدم جان جاتا ہے
عبادت اور ریاضت کی جگہ کشمیر میں یونہی
لگاکر آگ پھر کوئی سیاست دان جاتا ہے
بقا ملتی ہے اوروں کے لئے دنیا میں جینے سے
نہیں تو نیستی کے چاہ میں انسان جاتا ہے
درندے شہر میں داخل ہوئے منظر بدل ڈالا
کوئی دستار کھو بیٹھا، کوئی ازجان جاتا ہے
قطاروں میں کھڑے چُپ چاپ کیوں ہیں لوگ بستی کے؟
فنا کے گھاٹ اُتریں گے ابھی سامان جاتا ہے
یہ دنیا فاحشہ اک ہے، ذلیل و خوار کر لے گی!
جبھی تو اُلٹے پائوں صاحبِ ایمان جاتا ہے
ترے لُطف و کرم کی انتہا ہو جائے اے دنیا!
کسی کے دل سے کب یہ مضطربِ ارمان جاتا ہے
مجسم اُنس اور ایثار جو بن جائیگا انظرؔ
زمانے کو رُلا کر بس وہی انسان جاتا ہے
 
حسن انظرؔ
سرینگر،کشمیر،9419027593
 
 
جونمایاں ہووہ نشِاں ہوُں میں 
کون کہتاہے بے زُباں ہوں میں
اِس پہ بکھری ہیں مُشکلیں کیاکیا
پھربھی رہ پر رواں دواں ہُوں میں 
ساری دُنیاکی ہے خبرمجھ کو
کیاکہوں آپ کوکہاں ہُوں میں 
اُس کی اوقات کوسمجھتاہوں 
اِس زمانے کارازداں ہُوں میں 
زندگی کاوقار تھا جس سے 
ایسی تہذیب کانِشاں ہوں میں 
کِس کی ہمت کہ مجھ کوروک سے 
ایک طوفان ہوں رواں ہُوں میں 
میں بڑھاپے کے ہُوں قریب ہتاشؔ
حق تویہ ہے ابھی جواں ہوں میں
 
پیارے ہتاشؔ
جموں، موبائل نمبر؛8493853607
 
 
ہے غَرَض کچھ بھی نہیں جاگیر سے
مدّعا کردار کی تعمیر سے
کل بھیانک خواب دیکھا رات کو 
ٹھیک ہو سب! ڈرتا ہوں تعبیر سے
ہے سبھی شعراء سے مجھ کو دل لگی
غالبؔ و جونؔ و فرازؔ و میرؔ سے
کیا بتائیں یہ مصائب روز کے
روز مائیں روتی ہیں تکثیر سے
میں ہوں رانجھا آج کے اس وقت کا 
ہوگیا ہے پیار مجھ کو ہیر سے
بعد تیرے جانے کے، پاگل ہوا
کرتا ہوں باتیں تری تصویر سے
اعتراف جرم کرتا ہوں میں، اب
باندھ لو مجھ کو ذرا زنجیر سے
تم کو جو لکھ دے مری تقدیر میں
رابطہ ہے مجھ کو ایسے پیر سے
ظلم کے معنی سے گر ہے بے خبر
آ کے پوچھو وادئ کشمیر سے
جو کہاں کافی ہے بسملؔ، چپ کرو
تنگ آیا ہوں تری تقریر سے
 
سید مرتضیٰ بسملؔ
طالب علم:شعبہ اردو،ساؤتھ کیمپس،کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر؛9596411285
 
 
  آہ اک بس کہ دل سے نکلی تھی
دور تک چیخ جس کی پہنچی تھی
جان لیوا تھی ہر ادا اس کی
 میرے گاؤں کی ایک لڑکی تھی
بات پہلے پہل کی ہے جب وہ
میری خاطر اُداس رہتی تھی
اک ندی تھی جہاں سے پانی وہ 
سر پہ مٹکے میں بھر کے لاتی تھی
عکس تیرا ہی اس میں پایا ہے
شکل جو آئینے میں دیکھی تھی
شور اٹھتا تھا درد سے جس کے
ہم نے زنجیر ایسی پہنی تھی
ایک خوشحال سا گھرانا تھا
اور میں تھا اَبْو و امّی تھی
آگیا گھر وہ سیل کی زد میں
ایک بڑھیا کہ جس میں رہتی تھی
اس سے پہلے بھی زندگی راشفؔ
ایسے ہی حادثوں سے گزری تھی
 
راشف ؔعزمی
فون نمبر؛8825090381
 
 
 
عشق کا حادثہ نہیں ہوتا
گر تُو مجھ کو مِلا نہیں ہوتا 
کچھ تو ہے ورنہ ان فضاؤں میں 
یوں تِرا تذکِرہ نہیں ہوتا 
کچھ ہوا کا بھی ہاتھ تھا ورنہ 
پردہ یوں ہی ہِلا نہیں ہوتا 
دل کےخوں سےبھی سینچ کر دیکھا 
پیڑ کیوں یہ ہرا نہیں ہوتا 
اک حسیں چاند رہتا تھا اس میں 
اب دریچہ جو وا نہیں ہوتا 
بڑی شدّت سے یاد آ رتے ہیں 
جن سے اب رابطہ نہیں ہوتا 
دل اُسی سے جا ملتا ہے اکثر 
جس کا کوئی پتہ نہیں ہوتا 
 
           اِندرؔ سرازی 
            ڈوڈہ، موبائل نمبر؛ 7006658731
 
 
فضائوں میں مہکتی تھی مری تیری لکھی ساعت
کہاں سے اب ملے مجھ کو وہی الفت وہی راحت
نزاکت وہ ترے لب کی مرے دل میں بسی اب تک
غمِ الفت بنی شہرت، ملی ہے بس یہی دولت
سمندر پھر سے چاہت کا کوئی طوفان کھڑا کر دے
تمنا ہے مرے دل کو بُلائے پھر تری قربت
کسی کا دل اگر ٹوٹے فغاں کیسے سنائی دے
حقیقت دل وہی جانے جلا ہو جو شب فرقت
جفاکش ہوں، وفا کی آس میں ہر دم بھٹکتا ہوں
مٹا دو گر مری ہستی مٹے گی نا مری چاہت
ملے جعفرؔ مجھے الزام یاروں کی عنایت سے
کسی سے اب شکایت کیا غمِ دل ہے مری عظمت
 
جعفرجمیل
سرینگر،9797212594  
 
 
آہ،تم پر ستم رواتو نہیں
پاس کُچھ اور اس سوا تو نہیں
دشتِ ظلمات خالی خالی ہے
تم ہی سب کے، کوئی ترا تو نہیں
کس نے؟  کیونکر؟ یہ رشتہ جوڑ لیا
ہم کو اس غم کا کچھ پتا تو نہیں 
سانس بھی لوں تو ڈر یہ ہوتا ہے
روٹھ ہم سے کوئی گیا تو نہیں؟
کتنے ہی بُجھ گئے چراغ وہاں
ایک بھی خود یہاں بُجھا تو نہیں
گرچہ خاموش راستے ہیںمگر
اپنی منزل بے راستہ تو نہیں
رنگ رہتا ہے دیر تک کہ لہو
قیدِ کوتاہیٔ حنا تو نہیں
چونکہ لازم ہے اپنی غربت بھی
تُجھ سے واجدؔ نا آشنا تو نہیں
 
واجد ؔعباس
سوناواری، بانڈی پورہ7006566516
 
 
نہ نبھانی کبھی آئی ہیں وفائیں اُسکو
 
دل تو دیتا ہے مگرپھر بھی دعائیں اُسکو
پھول خوشیوں کے ملیں اور ہو سُکھ کا سایہ
 
چُھو نہ پائیں کبھی دُکھ کی ہوائیں اُسکو
مڑکے دیکھا نہیں پوچھا، نہ ملا وہ مجھ سے
 
میں نے دی درد بھری کتنی ہی صدائیں اُسکو
کیسا شکوہ کریں، کس سے ہو شکایت یا گلہ
 
آتی ہیں بس جو نبھانی تو جفائیں اُسکو
وہ تو پتھر ہے، نہیں موم کہ پگھلے کا کبھی
 
درد اس دل کا بھلا کیسے سُنائیں اُسکو
بے رُخی کا ہے مجسم وہ سراپا اُسکا
 
کیا کبھی بھائینگی میری یہ ادائیں اُسکو
وہ تو میرا نہ ہوا سحرؔ نہ ہی اُمید ہے کوئی
 
کیا یہ اچھا ہے کہ ہر بار بلائیں اُسکو
 
ثمینہ سحر مرزا بڈھون، راجوری