غریبوں اور محروم طبقات کے مسیحا تھے جارج فرنانڈیز

نئی دہلی//سابق وزیر دفاع اور سینئر سوشلسٹ لیڈر جارج فرنانڈیس کا منگل کو یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 88 سال کے تھے ۔ وہ گزشتہ چند دنوں سے سوائن فلو سے متاثر تھے ۔مسٹر فرنانڈیز سب سے پہلے 1967 میں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے ۔ انہوں نے بہار کے مظفر پور اور نالندہ لوک سبھا کی نشستوں کی نمائندگی کی تھی۔ وہ مرکزی کابینہ میں کئی بار رکن رہے ۔ انہوں نے مواصلات، صنعت، ریلوے اور دفاع کے وزیر کے طور پر کام کیا۔  بی جے پی کے سینئر رہنما سبرامنیم سوامی نے فرنانڈیز کے انتقال پر ٹویٹ کرکے کہا ‘‘ جارج فرنانڈیز کی موت کی خبر سے میں دکھی ہوں۔ وہ ایک اچھے دوست تھے ۔ ابتدا میں، ہمارے سوشلزم اور مارکیٹ کی بنیاد پر معیشت سے متعلق نظریات کے درمیان کچھ اختلافات تھے لیکن بعد میں محترمہ سونیا گاندھی اور نہرو خاندان کی مخالفت میں ہم متحد ہوگئے تھے ’’۔ مسٹر فرنانڈیز نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ایمرجنیسی نافذ کئے جانے کے دوران حکومت مخالف کئی تحریکیں چلائیں ۔ اس دوران ایمرجینسی کے متاثر لوگوں کے لئے ایک مسیحا بن کر سامنے آئے تھے ۔ ہندوستانی سیاست کے سرخیلوں میں سے ایک سینئر سماجوادی لیڈر جارج فرنانڈیز جہاں قدآور لیڈروں کو جھکانے کی صلاحیت رکھتے تھے وہیں وہ غریبوں اور محروم طبقات کے مسیحا بھی تھے ۔ ہندوستانی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھنے والے جارج فرنانڈیز کی پیدائش تین جون 1930 کو ایک عیسائی خاندان میں ہوئی تھی۔وہ انگریزی سمیت نو دیگر ہندوستانی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے ۔ وہ ہندی کے ساتھ ساتھ انگریزی فراٹے کے ساتھ بولتے اور لکھتے تو تھے ہی، ساتھ ہی تمل، مراٹھی، کنڑ، اردو، ملیالی، تیلگو، کونکني اور لاطینی زبانوں پربھی دسترس رکھتے تھے ۔ 2002 میں گودھرا فسادات کے بعد مسٹر فرنانڈیز گجرات کی حکومت کا دفاع کرنے والے اہم لوگوں میں شامل تھے ۔ نریندر مودی کو جب گجرات کے وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ زور شور سے کیا جارہاتھا ، تب انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ٹاپ رہنماؤں کے ایک گروپ سے کہا تھا کہ یہ شخص (مسٹر مودی) ہندوتو کی سیاست کو روشنی دکھائے گا۔ کرناٹک میں منگلور کے رہنے والے جارج فرنانڈیز جب 16 سال کے ہوئے تو ان کو ایک عیسائی مشنری میں پادری بننے کی تعلیم لینے بھیج دیا گیا اگرچہ چرچ میں ہونے والے تمام طرح کے رسم رواج کو دیکھ کر جلد ہی ان کی اس سے دلچسپی ختم ہو گئی۔ آخر کار 1949 میں 18 سال کی عمر میں انہوں نے چرچ چھوڑ دیا اور روزگار کی تلاش میں ممبئی (اس وقت بمبئی) چلے گئے ۔ ممبئی میں وہ سوشلسٹ پارٹی اور ٹریڈ یونین تحریک کے پروگراموں میں حصہ لینے لگے جس کی وجہ سے ان کی شروعاتی شبیہ باغی لیڈر کی بنی۔ مسٹر فرنانڈیز اس وقت کے شعلہ بیاں مقرر رام منوہر لوہیا کو اپنا گرو مانتے تھے ۔ اپنے باغیانہ تیور اور قیادت کی خصوصیات کے سبب 1950 تک وہ ٹیکسی ڈرائیور یونین کے بے تاج بادشاہ بن گئے تھے ۔ مسٹر فرنانڈیز بتایا کرتے تھے کہ جب وہ سماجوادی بریگیڈ میں شامل ہوئے تو ان کے والد نے کہا، "میں چاہتا تھا کہ میرا بیٹاایشور کی خدمت کرے لیکن اس نے اس کی بجائے شیطانوں کا ساتھ دیناپسند کیا’’۔ مسٹر فرنانڈیز 1967 کے لوک سبھا انتخابات میں بمبئی (جنوب )سے قدآور کانگریسی لیڈر ایس کے پاٹل کے خلاف اترے اور انہیں شکست دے دی۔ 1973 میں وہ ‘آل انڈیا ریلوے مینس فیڈریشن’ کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔ انڈین ریلوے میں اس وقت تقریباً 14 لاکھ افرادکام کرتے تھے اور حکومت ریلوے کارکنوں کے کئی ضروری مطالبات کو کئی برسوں سے نظرانداز کر رہی تھی.ایسے میں فرنانڈیز نے 8 مئی 1974 کو ملک گیر ریل ہڑتال کا اعلان کیا جس سے ریل کا پہیہ جام ہو گیا۔ کئی دنوں تک ریلوے کی سروس ٹھپ رہی۔ اس کے بعد حرکت میں آئی حکومت نے پوری سختی کے ساتھ تحریک کو کچلتے ہوئے 30 ہزار افراد کو گرفتار کر لیا اور ہزاروں کو نوکری اور ریلوے کی سرکاری کالونیوں سے بے دخل کر دیا ۔  جارج فرنانڈیز نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے ایمرجنسی لگائے جانے پرزبردست احتجاج کیا تھا۔ انہیں ایمرجنسی نافذ ہونے کی اطلاع اس وقت ملی، جب وہ اڑیسہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تھے ۔ اس کے بعد فوری طور پر خطرے کو بھانپ کر وہ اپنی بیوی اور بچے سے الگ ہو گئے ۔ 1975 میں وہ انڈر گراؤنڈ ہو گئے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے لگے ۔تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو غچہ دے کر وہ اپنے مشن میں لگے رہے اور خفیہ طور پر سرگرم رہے ۔ مسٹر فرنانڈیز کو جون 1976 میں گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد ان کے ساتھ 25 افراد کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے مقدمہ درج کیا جسے ‘بڑودہ ڈائنا میٹ کیس’ کے نام سے جانا جاتا ہے .ایک بار یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جمہوریت میں‘ڈائنا میٹ’ جیسی پرتشدد چیز کے لئے کوئی جگہ ہے ، انہوں نے کہا تھا کہ جمہوریت کی حفاظت کے لئے سب کچھ جائز ہے ۔مسز اندرا گاندھی کی طرف سے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ایمر جنسی کا اختتام ہو گیا اور مسٹر فرنانڈیز نے 1977 کا لوک سبھا چناؤ جیل میں رہتے ہوئے ہی مظفر پور لوک سبھا سیٹ سے ریکارڈ ووٹوں سے جیتا۔ اس کے بعد جنتا پارٹی کی حکومت میں انہیں وزیر صنعت بنایا گیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد جنتا پارٹی کے ٹوٹنے کے بعدمسٹر فرنانڈیز نے سمتا پارٹی تشکیل دی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت کی۔ مسٹر فرنانڈیز نے اپنی سیاسی زندگی میں بہت سی وزارتوں کا عہدہ سنبھالا، جن میں مواصلات، صنعت، ریل اور وزارت دفاع شامل ہے ۔ ریلوے کے وزیر رہتے ہوئے کونکن ریلوے پروجیکٹ فروغ دینے کا کریڈٹ جہاں انہیں دیا جاتا ہے وہیں ان کے وزیر دفاع رہنے کے دوران ملک کو پوکھرن میں جوہری ٹسٹ اور کارگل جنگ میں فتح جیسی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔وزیر دفاع کے طور پر ان کی مدت کار اگرچہ خاصا متنازعہ بھی رہا. تابوت گھوٹالے اور‘ تہلکہ’ میں انکشاف سے فرنانڈیز کا نام گھسیٹا گیا. اس کی وجہ سے انہوں نے وزیر دفاع کے عہدہ سے استعفی دے دیا لیکن بعد میں عدالت سے انہیں کلین چٹ مل گء۔.کہا جاتا ہے کہ جارج فرنانڈیز ہندوستان کے واحد وزیر دفاع ہیں، جنہوں نے 6600 میٹر بلند سیاچین گلیشیئر کا 18 بار دورہ کیا تھا۔ وہ وزیر دفاع رہتے ہوئے اپنے بنگلے کے دروازے کبھی بند نہیں کرتے تھے . وہ کسی نوکر کی خدمت بھی نہیں لیتے تھے اوراپنا کام خود کیا کرتے تھے ۔ مسٹر فرنانڈیز کی شادی 22 جولائی 1971 کو سابق مرکزی وزیر اور معروف ماہرتعلیم ہمایوں کبیر کی صاحبزادی لیلی سے ہوئی تاہم بعد میں لیڈر اور سماجی کارکن جیا جیٹلی کے ساتھ قربتوں کی وجہ سے لیلی کبیر 1980 میں جارج کی زندگی سے نکل گئیں۔ ان کا بیٹا سین فرنانڈیز نیویارک میں انویسٹمنٹ بینکر ہے ۔
 

 آخری رسومات کے بعداستھیاں دفنائی جائیں گی

نئی دہلی//سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس کے جسد خاکی کی آخری رسومات پہلے ہندو رسم و رواج سے ادا کی جائیں گی اور بعد میں ان کی استھیوں کو دفن کیا جائے گا۔ سماجی کارکن اور سمتا پارٹی کے سابق صدر جیا جیٹلی نے منگل کو بتایا کہ پہلے مسٹر فرنانڈس نے ہندو رسم رواج کے مطابق آخری رسومات کی خواہش ظاہر کی تھی اور زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے دفنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔محترمہ جیٹلی نے کہا کہ ان کی خواہش کو احترام دیتے ہوئے پہلے ان کی لاش کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی اور بعد میں استھیوں کو دفنایا جائے گا۔ایسا کرنے سے ان کی دونوں خواہشوں کو پورا کیا جاسکے گا۔ مسٹر فرنانڈس کا منگل کی صبح انتقال ہوگیا تھا۔وہ 88برس کے تھے ۔ اس سے پہلے محترمہ جیٹلی نے بتایا تھا کہ مسٹر فرنانڈس کی آخری رسومات ان کے بیٹے کے آنے بعد بدھ کو ادا کی جائیں گی۔انہوں نے کہا،‘‘مسٹر فرنانڈس کے بیٹے امریکہ میں رہتے ہیں۔ہم ان کے آنے کا انتظار کررہے ہیں۔ان کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔’’یواین آئی
 

تعزیتی پیغامات

صدر رام ناتھ کووند

نئی دہلی//صدر رام ناتھ کووند نے سوشلٹ رہنما اور سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ وہ سادہ زندگی اور اعلی خیالات کی علامت تھے ۔ صدر جمہویہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ، ‘‘مسٹر جارج فرنانڈیز کے انتقال سے بہت دکھی ہوں ۔ انہوں نے دفاع وزیر سمیت مختلف عہدوں پر پر اپنی خدمات پیش کیں ۔ وہ سادہ طرز زندگی اور اعلی خیالات کی علامت تھے ۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوریت کی حفاظت کے لئے آگے بڑھے ، خاص طور پر ایمرجنسی کی انہوں نے سخت مخالفت کی۔ انہیں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا’’۔

وزیر اعظم نریندرمودی

نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشلسٹ رہنما اور سابق مرکزی وزیر جارج فرنانڈیز کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ وہ غریبوں اور محروموں کے حقوق کے لئے سب سے مؤثر کن آواز تھے ۔ مسٹر مودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا، ‘‘جارج صاحب ہندوستان کے بہترین سیاسی رہنماؤں میں سے ایک تھے ۔ بیباک اور بے خوف اور دوررس رہنما مسٹر فرنانڈیز نے ہمارے ملک کے لئے اہم خدمات انجام دی ہیں ۔ وہ غریبوں محروموں کے حقوق کے لئے سب سے مؤثر کن آواز تھے ۔ میں ان کی وفات سے بہت دکھی ہوں’’۔ انہوں نے کہا، ‘‘جب ہم مسٹر جارج فرنانڈیز کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہمیں انہیں ایک بہت مؤثر مزدور رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں جو انصاف کے لئے لڑے تھے ، وہ ایک رہنما تھے جو طاقتور سے طاقتور سیاست دانوں کو جھکا دیتے تھے ،ایک ویژنری ریلوے وزیر اور ایک عظیم دفاع کے وزیر تھے جنہوں نے ہندوستان کو محفوظ اور طاقتور بنایا۔ اپنی طویل عوامی زندگی میں مسٹر فرنانڈیز اپنی سیاسی نظریات کی وجہ سے ذرا بھی پریشان نہیں ہوئے ۔ انہوں نے ایمرجنسی کی سخت مخالفت کی تھی ۔ ان کی سادگی اور عاجزی مثالی ہے

کانگریس صدر راہل گاندھی

نئی دہلی//کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے منگل کو سابق دفاع وزیر جارج فرنانڈیز کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔ مسٹر گاندھی نے ٹویٹ کرکے کہا‘‘مجھے سابق رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر وزیر جارج فرنانڈیز کی وفات کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا ۔ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے خاندان اور دوستوں کے تئیں میری ہمدردی ہے ۔’’  سینئر شوسلٹ لیڈر مسٹر فرنانڈیز کا طویل بیماری کی وجہ سے یہاں منگل کو صبح یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 88 سال کے تھے ۔

سرفراز احمد صدیقی

نئی دہلی// دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اورسپریم کورٹ کے وکیل سرفراز احمد صدیقی نے سابق سوشلسٹ ، متحرک مزدور لیڈر اور سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیز کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان کے انتقال سے سماج واد کے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا۔ انہوں نے آج یہاں جاری تعزیتی پیغام میں کہا کہ ان سے کئی معاملوں میں اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ سماج وادی سوچ رکھنے والے اعلی اقدارکے رہنما تھے اور انہوں نے اس چیز کو ہمیشہ اپنی زندگی میں بہت اہمیت دی۔ انہوں نے کہاکہ وہ سوشلسٹ نظریہ رکھنے کے معاملے میں کبھی بھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر فرنانڈیز مزدوروں، کمزوروں ‘ غریبوں اور محروم طبقوں کے بلند اور متاثر کن آواز تھے ۔  مسٹر صدیقی نے کہاکہ ان کے دروازے غریبوں کے لئے کھلے رہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بنگلہ پر کوئی گیٹ نہیں تھا۔انہوں نے خاص طور پر ریلوے مزدوروں کی بہبود کے لئے بڑا کام کیا ۔ وہ ابتداء سے ہی ریلوے مزدوروں کی تنظیم سے جڑ گئے تھے وہ ٹیکسی ڈرائیور یونین کے رہنما کے طور پر بھی کام کیا اور ان کے حقوق کے لئے ہمیشہ لڑتے رہے ۔ اس کے علاوہ وہ سیکولرازم کو برقرار رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتے تھے ۔

 ڈاکٹر ارون کمار

نئی دہلی// راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ، جارج وچار منچ کے سربراہ اور سماج وادی لیڈر ڈاکٹر ارون کمار نے جارج فرنانڈیز کے انتقال پر دلی اور گہرے رنج و غم کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں سماج واد کے ایک دور کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے مسٹر فرناندیز کے انتقال پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں ان کے سماج وادی نظریہ سے بہت متاثر تھا اوراپنی زندگی میں سوشلسٹ نظریہ کو اپنانے کی بھرپور کوشش کی۔انہوں نے کہاکہ جارج فرنانڈیز وہ شخصیت تھے جنہوں نے سماج وادی نظریہ پر کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کیا اوروہ ہمیشہ غریبوں، مزدوروں، بے کسوں،کمزوروں محرموں کے حق کے لئے لڑائی لڑتے رہے ۔ اس کے لئے انہیں کئی مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ ایمرجینسی کے دوران جیل میں انہیں جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا وہ ناقابل بیان ہے اور جارج فرنانڈیز ہی تھے جنہوں نے اس طرح کی مصیبتوں کا سامنا کیا اور اپنے نظریہ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ۔ جیل میں ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں‘ ان پر چوہے چھوڑے گئے لیکن انہوں نے کبھی حکومت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالا۔ مسٹر ارون کمار نے کہاکہ مسٹر فرنانڈیز ایک سیاست کے علاوہ سماجی مصلح، مفکراور اعلی اقدار کے مالک تھے ۔