غرقآب ہوئے3 لڑکوں میں سے ایک کی لاش برآمد

 
بارہمولہ //  دیوان باغ بارہمولہ میں اُس وقت تین روز بعد ایک بار پھر قیامت ٹوٹ بڑی جب مقامی لوگوں نے غرقآب ہوئے تین لڑکوں میں سے چوتھی جماعت کے طالب علم کی لاش شیری کے نزدیک دریائے جہلم سے برآمد کی ۔ تاہم باقی دو  لڑکوں کی لاشیوں کا دوسرے روز بھی کوئی اتہ پتہ نہ چل سکا۔  طفیل احمد کی لاش کوجمعرات کو  شیری کے زہو علاقے میں اُس وقت برآمد کیا گیا جب کچھ لوگ وہاں ریت نکال رہے تھے۔طفیل احمد کی لاش کو جب اُس کے گھر پہنچائی گئی تو وہاںایک بار پھر کہرام مچ گیا ۔  جس کے بعد طفیل کے نمازجنازہ میں لوگوں کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی۔ادھر تینوں معصوم نوجوانوں کے لواحقین اور قریبی رشتہ داروں نے ضلع انتظامہ کی ہدایت پر گزشتہ 24گھنٹوں سے جاری بچاو کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی آر ایف اور نیوی کے اہلکاروں نے ڈوبے نوجوانوں کو برآمد کرنے کیلئے پیشہ وارانہ طریقے سے اپنی خدمات انجام نہیں دیںاور نہ ڈپٹی کمشنر بارہمولہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آنے کی تکلیف کی ۔یاد رہے کہ منگل کو خانپورہ پُل کے نزدیک ایک کشتی الٹ گئی تھی جس پر سوار پانچ  نو عمرلڑکے ڈوب گئے  تھے جن میں جنید احمد اور اذان احمد نامی دو لڑکوں کو بچایا گیا  تھاجبکہ تین لڑکے جن میں  ا نظہر فاروق ولد فاروق احمد ، طفیل رشیدولد عبدرشید شگو، شاہد احمد شاہ ولد محمد سعید شاہ ساکنان دیوان باغ غرقآب ہوئے ۔