عیسائیت کا مدوجز

ہر   عیسوی سال کے اختتامی مہینے دسمبر اور نئے سال کے ابتداء جنوری میں عیسائی لوگ دنیا بھر میںکرسمس ذوق و شوق سے منانے کے ساتھ ساتھ نئے سال کی خوشیاں بھی آپس میں بانٹتے ہیں۔ حضرت عیسٰی ابن مریم ؑ کے پیروکا ر( عیسائی) یوں تو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن اکثر و بیشتر یہ مغربی دنیا کو اپنی آماج گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دوچار صدیوں میںمغربی دنیا کی سائنسی و علمی پیش رفت نے عالمی رہبری کی دستارِفضیلت مغرب کوباندھی ہے ۔مغرب سے وابستہ ہر چیز کسی بھی پیرائے میں ہو ، دنیا بھر میں آناًفاناً اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہے۔  ۲۵ ؍دسمبر کے کرسمس کا تہوار ہو یا نئے سال کا جشن ، یہ اسی مغرب زدگی کا شاخسانہ ہے۔حضرت عیسیٰ بن مریم  ؑکو جہاں مسیحی مت ماننے والے اپنا پیغمبر مانتے ہیں، وہی دین اسلام کے پیروکار بھی آپ ؑ کوابراہیمی سلسلے کا بر گزیدہ نبی مانتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ اور اُن کی آل و اولاد کا پیغمبرانہ سلسلہ اسلامی عقیدے کا اہم جز ہے۔ ابراہیمیؑ سلسلے کے آل و اولاد میں حضرت اسماعیل ؑ، حضرت اسحاق  ؑ،حضرت یعقوب ؑ اور حضرت یوسف ؑ نے پیغمبرانہ مشن کی تکمیل کر تے ہوئے مذہبی تاریخ مرتب کی۔ اسی پیرائے میں حضرت موسی ؑ،حضرت ہارون ؑ ، حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسٰی ؑ نے مذہبی تاریخ میں دین و شریعت کے اہم ترین ابواب مرتب کئے لیکن تحریف در تحریف کا تختہ ٔ  مشق بننے کے سبب علم کی کسوٹی پر ان کا پایہ ٔ استناد مشتبہ سمجھا جاتاہے ۔ بایں ہمہ عصر رواں میں ابراہیمی  ؑسلسلہ اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ اور مسلمانوں کو مانا جاتا ہے ۔ غور طلب ہے کہ محرف تورات وانجیل میں اس سلسلے کے پیغمبران ِ گرامی ؑ کا تذکرہ جلّی حروف میں موجود ہی نہیں بلکہ کہیں کہیں حاشیوں میںاس کا ذکر ملتا ہے اور وہ بھی تاریخی طور تصدیق شدہ یا مستند نہیں ۔ ابراہیمی ؑسلسلے میں صرف اور صرف پیغمبر اسلام حضرت محمد ؐ کا اسم گرامی جلّی حروف میں نمایاں ہوتا ہے ۔ایک مغربی مورخ کا ماننا ہے کی تاریخ کی شعاعیںآپ ؐ پر متمرکز ہیں (Rays of history are focused on him)۔پیغمبر اسلام ؐ اللہ کے آخری پیغمبر ہیںاور ایک تاریخ سازاکمل بنوی شخصیت ہیں۔ آپ ؐنے تیئس سال کے مختصر عرصے میں ایک ایسی قوم اور ریاست تشکیل دی جس نے رومی اور ایرانی سلطنت کے تاج داروں کے تاج زمانے کی دُھول بنا دئے ۔رومی اور ایرانی طلوعِ اسلام سے پہلے کم و بیش ایک ہزار سال تک عالمی سیاست پر چھائے رہے۔رومیوں سے پہلے یونانیوں کی دُھوم تھی اور اُس زمانے میںبھی ایرانی عالمی منظر نامے پر چھائے ہوئے تھے۔ دارا اور سکندر کی جنگیں جہاں تاریخ کا حصہ ہیں، وہیں اُن کی ذاتوں کا افسانوی رنگ بھی تاریخ سے مترشح ہو تا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دارا (داریوش: 550–486 BC) سے پہلے کوروش (سائرس:Cyrus) نے دنیا کو حقوق البشر کا تصور دیا۔کوروش کا زمانہ ولادت ِ عیسیٰ ابن مریم ؑسے پانچ سے چھ سو سال پہلے کا زمانہ تھا(600–530 BC)۔ بعض اسکالرکہتے ہیں کہ جس ذوالقرنین کا ذکر قران کریم میں موجود ہے، اس کا مصداق سائرس ہی ہوسکتا ہے لیکن اس دعوے پر زیادہ تر مورخین اور علماء کا اجماع نہیں۔ذوالقرنین کاذکر قرآن میں درخشاں لفظوں میںہوا ہے لیکن جمہور مفسرین کا ماننا ہے کہ وہ ایک نیک حکمران ہونے کے باوجود پیغمبری کی صف میں شامل نہیں تھے ۔ واضح رہے کہ ایران میں سائرس کے  دور میںیونان علم و ادب کی نشو و نما سے جلوہ افروز ہورہاتھا۔
 علم و منطق حکمائے یونان ،سقراط،افلاطون،ارسطو و بقراط کی علمی کاوشوں کا مرہون منت ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ یونان کو غیر ضروری بحث و مباحثے کی لت لگ گئی تھی۔ایک جماعت جسے صوفسطائی کہا جاتا ہے، یونان کے بازاروں میں لوگوں سے فضول سوالات پوچھ کر اُنہیں بحث و مباحثے میں اُلجھاتی تھی۔اس صورت حال میں قومی جاگرتی پر بُرے اثرات مرتب ہوئے ۔ ذہنی بلوغیت کے حوالے سے مناظرہ بازی کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں ہو سکتا بلکہ یہ قومی صحت مندی کی علامت ہوتی ہے لیکن مناظرہ کو ایک حد سے باہر کھینچنا انجام کار قومی سیکورٹی  کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ مناظرہ بازیوں کی انتہا نے مختلف علوم کی بنیاد فراہم کر نے و الی یونانی قوم کو روم کا غلام بنا کر رکھ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ  غلامی کی اس حالت میں بھی جب رومی آقاؤں کو کوئی اُلبھن سوار ہوتی تھی تو وہ یونانی غلاموں سے تحکمانہ لہجے میں اپنی اُلجھن کا حل پوچھتے تھے ۔حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت کے زمانے میں یونانی رومیوں کے غلام بن چکے تھے۔ایک مہذب قوم پر ایک طاقت ور قوم کا غلبہ تھا۔اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ غیر ضروری بحث و مباحثہ میں لگے رہنا کسی بھی قوم کے قوائے عملی کو مفلوج کر سکتا ہے، اس حد تک کہ اس سے آزادی جیسی نعمت بھی کھو جاتی ہے۔یونان کی علمی و منطقی بالا دستی اور پھر سقوط وزوال سے قوموں کے عروج و تذلل کی حقیقت قابل فہم بنتی ہے۔ رومی،یونانیوں کے آقا بنے لیکن پھر بھی محاوراتی زبان میں کہا جاتا کہ روم کو فن کی پہچان نہیں(Rome knows no art)جس کا یہی مفہوم ہے کہ رومی فن ،یونانی فن کی نقل ہے ۔ بہر حال عصر حاضر کا روم مائیکل انجیلو (Michael Angelo) کے مجسموں سے جانا  پہچاناجاتا ہے۔ ہم آج کے روم سے کم و بیش دو ہزار سال پہلے کے زمانے کی جانب لوٹ آتے ہیں جب حضرت عیسیٰ ابن مریم  ؑ فلسطین میں متولد ہوئے۔
 عیسائی تاریخ کے مطابق آج سے اُ نیس سو بیس سال قبل روح اللہ حضرت عیسیٰ ؑ ارضِ فلسطین میں رومی تسلط کے دور میں ولادت پا گئے۔ یہ وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جاتا کہ ہر سڑک روم کو جاتی ہے (All roads lead to Rome)۔اس جملے کو تاریخ کی میزان میں تولاجائے تومطلب و مفہوم یہی بنتا ہے کہ روم آج کے مغرب کی مانند دنیا پر چھایا ہوا تھا۔ دو ہزار سال پہلے کی دنیا کو دیکھئے توصاف دِ کھے گا کہ اُس زمانے کی مہذب دنیا بحیرہ ٔمتوسط کے کنارے آباد تھی، لہٰذا اس کو تاریخ کی جھیل (Lake of History)کہا جاتا ہے۔ یاد رہے پرانے وقتوں کی تاریخ اکثر و بیشتر اُسی کے ساحل پہ بنی اور بگڑی ہے۔ روم،یونان،مصر و فلسطین بحیرۂ متوسط کے کنارے ہی واقع ہیں۔تاریخ کے علاوہ مذہبی اعتبار سے بھی طلوعِ اسلام سے پہلے مختلف مذاہب کا آغاز بحیرہ ٔمتوسط کے ساحلی ممالک میں ہی ہوا۔ بابل کی تہذیب بھی بحیرہ ٔ متوسط کے قرب و جوار میں اپنے نشانات چھوڑ گئی۔ توران کے اس علاقے کا ایران سے گہرا رشتہ تھا اور رومیوں کے مقابلے میں اگر کسی کو یہاں ٹکنے کی ہمت تھی تو وہ صرف ایرانی سلطنت میں تھی۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کے زمانۂ ولادت میں رومی ا ور ایرانی دو متقابل قوتیں تھیں بلکہ آپ ؑ کی ولادت سے کچھ عرصہ پہلے ایرانی فلسطین میں رومیوں کو للکارنے بھی آئے تھے لیکن فلسطین پر رومی تسلط قائم رہا۔ فلسطین کی مجموعی آبادی یہودیوں پہ مشتمل تھی ۔ نیز کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال پہلے حضرت داؤد ؑاور حضرت سلیمان ؑ کا بالترتیب شاندار دورِ نبوت و بادشاہت یہاں قائم رہا تھا۔اس دور کی یادگار ہیکل سلیمانی یروشلم میں یہودیوں کی اجتماعی عبادت گاہ تھی، جہاں یہودی کاہن مذہبی اجارہ داری قائم کئے ہوئے عام یہودیوں کے استحصال میں ہمہ تن مشغول تھے۔ قوم یہود پانچ فرقوں میں بٹی ہوئی تھی: صدوقی (Sadducees )  فریسی(Pharisees ) ایسینی (Essenes)غالی (Galileans) اور سامری (Samaritan)۔ مذہبی اختلاف کے ساتھ ساتھ ان میں سیاسی اختلافات بھی تھے، حتیٰ کہ رومی استبداد کے ضمن میں بھی یہودی فرقہ بندیوں میں گھرے تھے۔ صدوقی یہودی سماج کے اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور تورات میں صرف صحف موسیٰ ؑ کو مستند تسلیم کرتے تھے۔ سیاسی دائرے میں وہ رومی استبداد کے ہم نوا تھے۔ فریسی جمعیت میں سب سے زیادہ تھے ۔اگر چہ وہ استبداد کے خلاف تھے لیکن اُن کا بے جا غرور اُن کے سیاسی منشور کے آڑے آتا تھا۔ ایسینی فرقہ عوامی زندگی سے دور رہبانیت کی جانب مائل تھا۔ اس فرقے کے لوگ جنگلوں،بیابانوں اور صحراؤں میں معدنیات اور جڑی بوٹیوں کی تلاش میں رہتے تھے تاکہ انسانی تکلیف ، بیماری و درد کا مداوا ہو سکے۔کہتے ہیں خلعت ِپیغمبری سے سرفراز حضرت عیسی ؑ ایسینی فرقے کی جانب راغب تھے۔ غالی فرقے کے لوگوں کو جلیلی بھی کہتے تھے۔یہ قیصر روم کی اطاعت کو بت پرستی سے تعبیر دیتے تھے۔سامریوں کا فرقہ یہودیوں اور اشوریوں (Assyrians ) پہ مشتمل تھا۔اُن کا ہیکل ِسلیمانی سے الگ اپنا ایک ہیکل تھا۔یہ طبعاًشورش پسند بھی تھے اور دوسرے یہودیوں کے مخالف بھی۔انتہا پسندی کے پیش نظر حکومت اُن سے خائف رہتی تھی۔  
 مختلف یہودی فرقوں میں اختلافات نے رومی استبداد کے لئے راہ ہموار کر رکھی تھی۔ اقوام عالم میں استبداد کی تاریخ سے عیاں ہوتا ہے کہ قومیں تب غلام بنتی ہیں جب اُن کی صفوں میں باہمی اختلاف اور تضاد سے رخنہ پڑے۔ فلسطین میں قوم یہود کو حضرت عیسٰیؑ کے دور  رسالت ودعوت میں اسی صورت حال کا سامنا تھا۔تیس سال کی عمر میں جب حضرت عیسی ؑ کا دور پیغمبری شروع ہوا تو اُنہیں ایک بٹی ہوئی قوم کا سامنا کرنا پڑا۔صدوقی فرقہ جو صورت حال کو جوں کا توں رکھنے پہ مائل تھا اور رومی استبداد کا موئد وہم نوا بھی تھا ،وہ حضرت عیسی ؑ کی مخالفت میں پیش پیش رہا ۔ حضرت عیسٰی ابن مریم ؑ جمعیت میں اکثریتی فرقے فریسی کے بے جا غرور و تکبر کے خلاف بھی تبلیغ کرتے رہے۔اپنے پیغمبرانہ مشن کے عین مطابق آپؑ نے انتہائی مصالحانہ انداز اپناکر تین سال تک پیغام الہٰی اپنی قوم تک پہنچایا لیکن اس قوم پر جہاں رومی استبداد کا سیاسی دباؤ تھا ،وہیں یہودی کاہنوں کی مذہبی اجارہ داری بھی اس کے لئے حق کی بات سمجھنے میں سدراہ بنی رہی۔قوم یہود نے حضرت عیسٰی ؑ کووہ رسولِ موعودماننے سے انکار کیا جس کی پیشں گوئی کی گئی تھی کہ حضرت داؤد ؑکی چودھویں نسل میں قوم یہود کا نجات دہندہ پیدا ہو گا۔یہودیوں کازعم وگمان یہ تھا کہ اُن کا نجات دہندہ حضرت داؤد ؑ کی نسل سے کوئی بادشاہ ہی پیدا ہو گا،چونکہ وہ خود ایک بادشاہ تھے۔ آپ ؑتین سال تک فلسطین کے طول و عرض میںپیغام الٰہی پہنچاننے کے باوجود مٹھی بھر جمعیت کے بغیر (جس میں حضرت عیسی ؑ کے 12حواری شامل تھے) کوئی بھی اُن کی رسالت ماننے پر مائل نظر نہ آیا۔ انجام کار وہ دن آخر آہی گیا جب حضرت عیسٰی ؑ نے یہودی کاہنوں کی مذہبی اجارہ داری کے خلاف عملی قدم اُٹھایا۔عیسائیت کی تاریخ میں اُس دن کوایک اہم ترین دن ماناجاتا ہے جب یہودیوں کے مقدس دن جسے پاس اوؤر( Passover)کہا جاتا ہے، حضرت عیسٰی ؑ نے ہیکل سلیمانی میں چاندی کے تھالوں کو اُلٹ دیا جن میں نذرانے کے سکے رکھے تھے اور قربانی کے جانوروں کے پھاٹک کے دروازے کھول کے اُنہیں کھلا چھوڑا۔یہودی کاہنوں نے اُنہیں پکڑ لیا اور رومی گورنر کے دربار میں لے گئے۔ان صبر آزما اور مشکل گھڑیوں میں آپ ؑ کے بارہ حواریوں نے عیسیٰ ابن مریم  ؑکاساتھ چھوڑا۔ عیسائی تاریخ دان ولیم موئر اس واقعے کا موازنہ غزوہ ٔاحد سے کر تے ہوئے مایوسی کا اظہار کر تا ہے کہ احد کے میدان میںآنحضور ؐ کے جان نثارآپؑ کو گھیرے میں دیکھ کے خود توکٹ مرے لیکن آپؑ پہ آنچ نہ آنے دی۔رومی گورنر پیلاطس چٹھی کے دن نشے میں مست اپنے محل میں آرام کر رہا تھا۔باہر یہودیوں کا مشتعل ہجوم حضرت عیسٰیؑ کے خلاف آگ بگولہ ہوکراس آرام میں مخل ہوا ۔ گورنر یہود ی کاہنوں کا مقدمہ سننے بیٹھے۔یہودی کاہن حضرت عیسٰی ؑ پر مذہب سے بغاوت کا الزام لگا کر اُنہیں صلیب پہ لٹکانے کا فیصلہ چاہتے تھے جب کہ حضرت عیسٰی ؑ خدا کی بادشاہی کا ذکر کر رہے تھے۔گورنر اول نشے میں مست تھا، دوم رومی ہونے کے سبب روا یتی مذاہب سے نا آشنائی کے سبب عاجز تھا اور ایک برتن میں پانی منگا کے اس نے مقدمے سے ہاتھ دھوئے ۔کاہن اسے حضرت عیسٰیؑ کوصلیب پہ لٹکانے کا فیصلہ مانتے ہوئے آپ ؑ کو باہر لے گئے۔عیسائی اپنے عقیدے کے سبب یہ مانتے ہیں کہ اُنہیں صلیب پہ لٹکایا گیا جب کہ قرانی آیات میں صاف صاف ذکر ہے کہ اُنہیں صلیب پہ لٹکانے سے پہلے ہی آسمان پر زندہ وجاوید اٹھایا گیا اور زمانۂ اخیر میں واپس زمین پر بھیج دئے جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ  ؑ کے رفع السماء پر کئی صدیاں گزرنے بعد طلوع ِاسلام سے کم و بیش 200؍سال پہلے عیسائیت کو بازنطینی (Byzantine)سلطنت میں مملکت کا رسمی مذہب تسلیم کیاگیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب رومی سلطنت ِروم کے شہرسے قسطنطنیہ (Constantinople)منتقل ہو چکی تھی اور بادشاہ کانسٹن ٹائن(Constantine) تھا،جس کے نام سے آج کل استنبول کے نام سے مشہور قسطنطنیہ (Constantinople)کا شہر بنا تھا ۔اُس زمانے میں رومی آقا اور یونانی غلام اس حد تک آپس میں مدغم ہو چکے تھے کہ نسلی تفریق مٹ چکی تھی اور وہ گریکو رومن کہلانے لگے۔بازنطینی سلطنت کو مشرقی رومی سلطنت بھی کہا جا تا ہے اور جس سلطنت کا مرکز روم میں تھا، اُسے مغربی رومی سلطنت کہتے ہیں۔ بازنطینی اور ایرانی سلطنت کی بنیادیں ہلا تے ہو ئے ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی دور کا آغاز ہوا۔
Feedback on: [email protected]