عید کے دن جنوبی کشمیر میں 2ہلاکتوں کا معاملہ،حقوق کمیشن کی7اگست سے قبل رپورٹ طلب

سرینگر//جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور اسلام آباد(اننت ناگ)  اضلاع میں عرفہ اور عیدالفطر کے روز فورسز کے ہاتھوں جاں بحق 2شہریوں کی ہلاکتوںپر انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن نے دونوں اضلاع کے پولیس اور ضلع انتظامیہ سربراہان کو7اگست سے قبل مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پلوامہ میں عید الفطر سے ایک روز قبل نائو پورہ پائین لاسی پورہ میں 15جون کو وقاس احمد راتھر نامی ایک نوجوان فورسز کے ہاتھوں احتجاج کے دوران جاں بحق ہوا،جبکہ عین عید کے روز اننت ناگ میں شیراز احمد نامی ایک نوجوان جنگلات منڈی کے نزدیک احتجاج کے بیچ ہی جاں بحق ہوا۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس چیئرمین محمد احسن اونتو نے انسانی حقوق کے مقامی کمیشن میں عرضی دائر کرتے ہوئے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔عرضی میں ریاستی انسانی حقوق کمیشن سے ان واقعات میں ہوئی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اصل حقائق کو سامنے لانے کی مانگ کی گئی ۔عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ متاثرین کو معاوضہ فرہم کریں،جبکہ ان شہری ہلاکتوں میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا  جائے۔ عرض دہندہ نے کہا ہے’’سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی جائے کہ احتجاجی مظاہرین کے ساتھ نپٹنے کے دوران معیاری عملیاتی طریقہ کار کو و ضح کریں،اور اس بات کو کو بھی سمجھائے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران دانستہ طور پر شہریوں کو کیوں ہدف بنایا جا رہا ہے۔ کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس(ر) بلال نازکی نے ڈپٹی کمشنر پلوامہ اور اسلام آباد(اننت ناگ) کے علاوہ  ایس ایس پی پلوامہ و اسلام آباد(اننت ناگ) کو نوٹسیں اجراء کرتے ہوئے7اگست2018سے قبل مفصل رپورٹیں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔