عید کی آمد سے قبل بازاروں میں قیمتیں آسمان پر،متعلقہ محکمے غائب

ڈوڈہ //ضلع انتظامیہ نے عید الاضحی کی آمد سے قبل مختلف اشیا ضروریہ کی قیمتیں متعین کیں ہیں جسکا عوامی سطح پر بھی خیر مقدم کیا گیا ہے تاہم سبزی فروشوں، چکن، گوشت و دودھ سپلائی کررہے کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں اوپر سے ہی مہنگی ملتی ہیں اور انہیں اپنا نفع حاصل کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق گذشتہ کئی دنوں سے ڈوڈہ ضلع کے شہر و گام سے آئے عوامی وفود نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے سبزی، پھلوں، دودھ، پنیر، چکن و گوشت کی قیمتوں کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔عوامی وفود کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی گوشت، چکن، دودھ و پھل وغیرہ مہنگے داموں میں فروخت کئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔چکن دوکان چلا رہے محمد عباس نامی ایک کاروباری شخص کے مطابق انہیں 150سے 180روپے فی کلو کے حساب سے زندہ مرغا ملتا ہے اور انہیں مجبور ہو کر ڈھائی سو روپے بیچنا پڑتا ہے۔جاوید احمد نامی ایک مقامی شہری کا کہنا ہے کہ چکن 180 روپے کلو، گوشت 450/500و انڈا 8 /10روپے تک گاہکوں کو دیا جارہا ہے اور اسی طرح سے سبزی و پھل بھی مہنگے داموں فروخت کئے جارہے ہیں۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کی جانب سے جاری اشیا ضروریہ کی قیمتیں مقرر کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس حکنمامہ کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے تب جاکر عوام کو راحت مل سکتی ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ عید، دیوالی جیسے مقدس تہواروں کے علاوہ محکمہ ناپ تول و سینیٹیشن سال بھر غائب رہتا ہے اور کچھ علاقوں میں یہ مارکیٹ چیکینگ کی ٹیمیں ان تہواروں پر بھی نہیں پہنچتی ہیں۔انہوں نے ضلع و مقامی انتظامیہ سے قیمتوں کو اعتدال پر لانے و ناجائز منافع خوری کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ وکاس شرما نے جمعہ کے روز ضلع میں ضروری غذائی اجناس کی قیمتیں مقرر کرکے ناجائز منافع خوری کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ڈی سی کی جانب سے جاری حکمنامہ کے مطابق زندہ بھیڑ و بکری کی قیمت فی کلو 225،گوشت 450،چکن ڈیڑھ کلو وزنی زندہ 150،اس سے زیادہ وزنی فی کلو 130، چکن بنا چمڑی 225 و چمڑی سمیت 200(فی کلو) دودھ 45،انڈے ایک درجن 72 روپے، پنیر 250 و دہی 50 گاہکوں کو دستیاب ہوں گی۔ڈی سی نے متعلقہ تحصیلداروں، فوڈ سیفٹی و محکمہ بلدیہ و محکمہ ناپ تول کے آفیسروں کو زمینی سطح پر اس حکمنامہ کو لاگو کرنے و خلاف ورزی کا مرتکب پانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدائت دی ہے۔