عید خریداری سے بازاروں میںزبردست چہل پہل | بیکری ، ملبوسات اور دیگر سازوسامان کی بھرپور خریدوفروخت

بلال فرقانی
سرینگر//عید الفطر کی خریداری کیلئے اتوار کولوگوں نے جم کر خریداری کی جبکہ بازاروں میںزبردست چہل پہل اور گہما گہمی دیکھنے کو ملی ۔وادی کے اطراف و اکناف میںبازاروں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے بیکری کے ساتھ ساتھ ملبوسات اور دیگر سازوسامان کی خریدوفروخت کی جبکہ اس دوران شہر و دیہات میں قائم مختلف اے ٹی ایم مشینوں سے ریکارڈ توڑ رقومات نکالی گئیں ۔ لالچوک میں دن بھر لوگوںکی بڑی تعداد بھاری خریداری میں مصروف دکھائی دی جبکہ صبح سے ہی لوگوں کی اچھی خاصی تعداد لالچوک میں واقع بیکریوں کی مختلف دکانوں پر قطاروں میں دیکھے گئے اور وہ بیکری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ معلوم ہوا ہے کہ لوگوں نے کئی روز قبل ہی عید کیلئے بیکری حاصل کرنے کیلئے بکنک کر رکھی تھی۔چنانچہ اس کے بعد10بجے تک شہر سرینگر کے بازاروں میں رش بڑھتا گیااور دوپہر کو لالچوک میں لوگوں کی کثیر تعداد دیکھنے کو ملی ۔ فٹ پاتھوں پرموجود مختلف قسم کی اشیاء خریدنے میں بھی لوگ مصروف تھے اور اس کے علاوہ ملبوسات کی دکانوں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا ۔شہر کے انتہائی مصروف ترین علاقوں جن میں بٹہ ما لو،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،گونی کھن مارکیٹ،مہاراجہ با زار،ریگل چوک،ڈلگیٹ شامل ہیںمیں بھاری رش دیکھنے کو ملا اور لوگ ہرطرح کی اشیا خریدنے کیلئے زبردست تگ و دو میں مصروف رہیں۔ شہر میں خواتین خریداروں کی سب سے بڑی تعداد موجود تھی جبکہ گونی کھن کے علاوہ دیگر خواتین بازاروں میں جم کر جوتیوں،چپلوں،جھمکوں،چوڈیوں اور زیبائش کے دیگر اشیاء کی جم کر خریداری ہوئی۔ادھر ہاتھوں پر مختلف اقسام کی مہندی کی نقش نگاری کا بازار بھی گرم تھا اور غیر ریاستی خواتین مقامی خواتین اور بچیوںکے ہاتھوں پر مختلف ڈائزینوں کی مہندی لگا رہی تھیں۔اس دوران بچوں کے ملبوسات اور کھلونے بھی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئے اور  ان دکانوں اور تجارتی مراکز میں صارفین قطار در قطار اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔بازاروں میں رش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرینگر کے لالچوک، گھنٹہ گھر، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، مہاراجہ بازار، امیراکدل، کوکربازار، پائین شہر، وسطی شہر، بٹہ مالو، بمنہ، اور دیگر علاقوں کے بازاروں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی کیونکہ سڑکوں پر جگہ جگہ پر چھاپڑی فروشوںنے چھاپڑی لگائی تھی جن پر ملبوسات کے ساتھ ساتھ کھلونے کی چیزیں سجائی گئی تھی۔ قصابوں کے دکانوں پربھی آج لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملی۔ قصابوں کے پاس لوگوں نے کئی روز قبل ہی گوشت خریدنے کیلئے پیسے جمع کر رکھے ہیں جس کے نتیجے میں قصابوں نے بکنگ والوں کیلئے گوشت مہیارکھا ہے اتوار کوصبح سے ہی لالچوک اور اس کے گرد ونواح میں جموں وکشمیر بینک کے ساتھ ساتھ دیگر بینک اداروں کے اے ٹی ایموں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا اور لوگ قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔اے ٹی ایم سے رقومات نکالنے کے بعد لوگ بازاروں کا رخ اختیار کرتے تھے جہاں سے وہ اپنے بچوں اور عزیزوں کیلئے ملبوسات اور تحفے کی خریداری کر رہے تھے۔ وادی کے دیگر اضلاع جن میںکپوارہ ، بارہمولہ ، شوپیان ، بانڈی پورہ ، پلوامہ ،ترال ،سوپور اورکپوارہ کے بازاروں میں بھی لوگوں کارش دیکھنے کو ملا جہاں لوگ جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی ، عید خریداری اور دیگر چیزوں کی خریداری میں مصروف تھے۔ بھاری رش کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو ملے جس کی وجہ سے لوگوں کو چلنے پھرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔