عید الفطر۔ اعزاز و اکرام اور انعام کا دن

مفتی محمد نعیم
آج کے دن اہل ِ ایمان ربّ کے حضور سربہ سجود ہو کر اپنے آقا ومالک کی رضا وخوش نودی کے طلب گار ہوتے ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے:جب عیدالفطر کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ملائکہ کو زمین پر بھیج دیتا ہے اور پکارتا ہے کہ اے امت ِمحمدؐ !اس رب کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ چنانچہ جب مسلمان عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اپنے ان بندوں کو دیکھ کر وہ حمد و ثناء کرتے ہوئے آ رہے ہیں، باری تعالیٰ خوشی اور مسرت کے ساتھ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اسے پوری پوری مزدوری دی جائے۔تو اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ (فرشتو) تم گواہ رہنا کہ میں نے اپنے ان بندوں کو روزوں اور تراویح کے بدلے ’’مغفرت (اور اپنی) رضا عطا کر دی‘‘۔پھر اپنے ان بندوں سے مخاطب ہو کر (جو شکرانہ ادا کرنے عیدگاہ آئے ہوئے ہیں) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو۔ ’’تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہوگیا‘‘۔

عید الفطردرحقیقت اعمال کے جائزے اور عزم نو کا دن ہے۔یہ بہت سی خوشیوں اور رحمتوں کا مجموعہ ہے۔جن میں سے ایک رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی، دوسرے رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کی خوشی، تیسری نزول قرآن، چوتھی لیلۃ القدر اور پانچویں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزے داروں کے لئے رحمت و بخشش اور عذاب جہنم سے آزادی کی خوشی۔ پھر ان تمام خوشیوں کا اظہار صدقہ و خیرات جسے صدقۃالفطر کہا جاتا ہے، کے ذریعے کرنے کا حکم ہے تاکہ عبادت کے ساتھ ساتھ انفاق کا عمل بھی شریک ہو جائے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پریہ مومنوں کے لئے خوشی کا دن قرار دیا گیا۔ عیدکے دن سب سے اہم کام جو نماز عید سے پہلے کر لینا سنت ہے، وہ فطرے کی ادائیگی ہے۔ صدقۃ الفطر رمضان میں ہو جانے والی لغویات اور بے ہودہ کاموں کی طہارت کرتا ہے اور مساکین کی خوراک کا ذریعہ ہے، اس لئے اسے نماز عید سے پہلے پہلے ادا کر دینا چاہئے ۔

عید کے دن مندرجہ ذیل اعمال مسنون ہیں: پہلےاپنے ناخن تراشیں، مسواک کریں، غسل کریں، نئے کپڑے ہوں تو وہ پہنیں ،نہیں تو دُھلے ہوئے اچھے کپڑے ہوں وہ پہنیں،خوشبو لگانا چاہئے،اور فجر کی نماز عیدگاہ یا محلے کی مسجد میں با جماعت اداکرنی چاہئے اور کوشش کریں کہ عید گاہ جلد پہنچ جائیں۔ عیدالفطر کے دن کچھ میٹھا کھا کر نماز کے لئے تشریف لے جائیں، اگر کھجوریں میسرہوں تو طاق عدد میں کھجوریں کھا لیں یا پھر اور کوئی میٹھی چیز بھی کھا سکتے ہیں۔ عید گاہ سواری پر جانے میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن اگرپیدل چل سکتے ہوں تو پیدل جانا افضل ہے۔عید گاہ جاتے ہوئے راستے میں ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الاّ اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللّٰہ الحمد‘‘ آہستہ آواز سے پڑھتے ہوئے جانا۔جہاں عید کی نماز پڑھی جائے ،وہاں نماز سے پہلے اور بعد کوئی اور نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ اگر کسی کو عید کی نماز نہ ملی ہو اور سب لوگ پڑھ چکے ہوں تو وہ شخص تنہا نماز عید نہیں پڑھ سکتا۔ اس لیے کہ جماعت اس میں شرط ہے اور دوسرے عید گاہ جانا سنت موکدہ ہے۔ ایک راستے سے جائیں اور دوسرے راستے سے واپس آئیں۔ اس طرح مختلف راستے آپ کی عبادتوں کے گواہ بنتے جائیں گے،لیکن آنے جانے میں کسی کو تکلیف نہ ہو،نعرے بازی شور مچانا جائز نہیں،یہ عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

روایت کے مطابق عید کے دِن رحمتِ عالم ،نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کی نماز پڑھنے کے لیے عیدگاہ کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ کچھ ایسے بچوں کو کھیلتے کودتے ہوئے دیکھا، جنہوں نے خوب صورت اوررنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ بچوں نے آپ ؐ کو دیکھ کرسلام کیا تو آپ ؐنے مسکرا کر سلام کا جواب ارشاد فرمایا۔ پھر آپؐ کچھ آگے تشریف لے گئے تووہاں ایک بچے کو اداس وپریشان بیٹھے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بچے کے قریب جاکررُک گئے اور پوچھا: ’’بیٹا ،تمہیں کیا ہوا کہ اداس اورپریشان نظرآرہے ہو؟ بچے نے روتے ہوئے کہا: یارسول اللہؐ!میں یتیم ہوں،میرا باپ فوت ہوچکا ہے جومیرے لیے کپڑے لادیتا ۔میری ماں بھی نہیں ہے جومجھے نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنا دیتی۔ اس لیے میں یہاں اکیلا اداس وپریشان بیٹھا ہوں۔بچے کی بات سن کر آپ ؐکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے بچے کے سرپرشفقت سے ہاتھ پھیرا اوراس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے آئے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا: ’’اس بچے کو نہلا دو‘‘ جب تک اسے نہلایا جاتا، آپ ؐنے اپنی چادرِمبارک کے دو ٹکڑے کردِیے اور کپڑے کا ایک ٹکڑا اسے تہبند کی طرح باندھ دِیا گیا اوردوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دِیا۔پھر آپ ؐنے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کے سرپرتیل لگا کر کنگھی کی، حتیٰ کہ جب وہ بچہ تیار ہوکرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا تو آپؐ نیچے بیٹھ گئے اور اس بچے سے فرمایا: ’’آج تم چل کر مسجد کی طرف نہیں جاؤگے، بلکہ میرے کندھوں پر سوار ہوکر جاؤ گے۔‘‘آپ ؐنے اس یتیم بچے کو اپنے کندھوں پر سوار کیا اور اس گلی میں میں تشریف لے گئے، جس میں بچے کھیل رہے تھے۔جب اُن بچوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ حسرت سے کہنے لگے:’’کاش! ہم بھی یتیم ہوتے تو آج ہمیں بھی آپ ؐکے کندھوں پر سوار ہونے کا شرف نصیب ہوتا۔‘‘جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لا کر منبرپر جلوہ افروز ہوئے تو وہ بچہ نیچے بیٹھنے لگا۔آپؐ نے فرمایا:’’آج تم زمین پر نہیں ،بلکہ میرے ساتھ منبر پر بیٹھو گے۔ آپ ؐنے اس بچے کو منبر پر بٹھایا اور اور پھر اس کے سر پر اپنا ہاتھ مبارک رکھ کر ارشاد فرمایا: ’’جوشخص یتیم کی کفالت کرے گا اور محبت وشفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے گا،اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے،اللہ تعالیٰ اس کے اعمال نامے میں اتنی ہی نیکیاں لکھ دے گا۔‘‘مزید فرمایا:’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اسے مصیبت کے وقت تنہا نہیں چھوڑتا، جوشخص اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مددکرتا ہے۔جوشخص کسی مسلمان کی مشکل دورکرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے قیامت کے دن اس سے سختی دور فرمائے گا۔‘‘

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اہلِ ایمان کی مثال ایک دوسرے سے محبت کرنے، ایک دوسرے کا غم کھانے اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے میں جسم کی مانند ہے کہ اگر اس کا ایک حصّہ تکلیف سے دوچار ہوتا ہے تو سارا جسم اُسی کیفیت کا شکار ہوجاتا اور بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘ (صحیح مُسلم)

اس حدیثِ رسول ؐ میںیہ پیغام پوشیدہ ہے کہ تمام اہل ایمان جسدواحد کی طرح ہیں،اس لحاظ سے پوری دنیا کے مسلمان بلاتفریق قوم وقبیلہ ہر رنگ اور ہر نسل کے مسلمان خواہ ان کا تعلق دنیا کے کسی خطے اور علاقے سے ہو،وہ سب ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔ان کی خوشیاں بھی ایک ہیں اورغم بھی ایک ۔عید کے اس پرمسرت موقع پر ہمیں دنیا کے ہر خطے اور علاقے کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی خوشیوں میں یاد رکھنا چاہیے۔