عیدالفطر۔ دائمی مسّرت کی تمہید

ڈاکٹر عریف جامعی
ماہ رمضان المبارک سراسر صبر کا مہینہ ہے۔ ۲۹ یا ۳۰ شعبان المعظم کو روئت ہلال سے اعلان عام ہونے والا ۷۲۰ گھنٹوں پر مشتمل صبر کا یہ ’’گنتی کے چند دنوں (ایام معدودات)‘‘کا وقفہ ہر لحاظ اور ہر انداز سے صبر کا متقاضی ہوتا ہے۔ سونے اور جاگنے کے معمولات کی نئی تنظیم اور ترتیب سے لیکر کھانے پینے کی جائز ضرورتوں کی تقلیل اور تقصیر تک یہ مہینہ مومن صادق کو ایک ایسے نظم و ضبط کا پابند بنا دیتا ہے، جس کو اگر کوئی لفظ ادا کرسکتا تو وہ بس صبر ہے۔ صبر آزما حالات، جو انسان کے مادی وجود کو براہ راست لیکن قابل برداشت حد تک مضمحل کرتے ہیں، سے گزار کر دراصل مومن کو نفسیاتی طور پر اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ اس کے لئے عیش تام کی جگہ صرف اور صرف ’’دار السلام‘‘ یعنی جنت ہے۔ اب جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے تو وہ فقط ایک پابند زندگی گزارنے کی جگہ ہے، جس کے لئے پابندی کے یہ احکامات اس ’’السلام‘‘ (اللہ تبارک و تعالی) سے آتے ہیں جو ’’دارالسلام‘‘ کا مالک ہے۔

اس طرح صاف واضح ہوتا ہے کہ انسان کو ربّ تعالیٰ نے کس طرح مشکل یعنی چیلنج میں ڈالا ہے، جس کو قرآن نے ان بلیغ الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’لقد خلق الانسان فی کبد‘‘،یعنی ہم نے انسان کو مشکل کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ رمضان المبارک میں اسی پُر مشقت زندگی کا ایک مہینے کی مختصر مدت کے اندر ارتکاز ہوتا ہے جس میں انسان یا صحیح تر الفاظ میں بندہ مومن خدا کی مشیت کو اپنے اوپر اپنی خوشی سے لاگو کرتا ہے۔ اس طرح اس آزمائش کا بھر پور اظہار ہوتا ہے جس کے تحت رب کائنات نے زمین پر حیات انسانی کو وجود بخشا ہے۔ بفحوائے الفاظ قرآنی: ’’جس نے موت اور حیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے۔‘‘ (املک: 2) اب جبکہ پوری زندگی ہی آزمائش اور امتحان کا ایک مجموعہ ٹھہری، تو اس میں مکمل آرام یا عیش دوام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس بات کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ ؓ کے اذہان میں اپنی دعوت کے ابتدائی ایام میں ہی نقش کرایا تھا۔ اس چیز کا اندازہ ان دعائیہ ’’ترانوں‘‘ سے لگایا جاسکتا ہے جو مسجد النبوی کی تعمیر کے وقت مہاجرین اور انصار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ایک دوسرے کی ہمت افزائی کے لئے گنگنارہے تھے۔ تصورِ خدا اور تصورِ آخرت سے مزّین ایک ترانے کے مشہور الفاظ یہ ہیں: ’’ عیش و آرام فقط آخرت کا عیش و آرام ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما‘‘ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مومن کی دنیاوی زندگی اصول و ضوابط کی پابند ایک پُر مشقت وقفہ ہے ،جس میں اس کا مسلسل امتحان لیا جارہا ہے۔ اس کے مقابلے میں مومن دائمی آرام و آسائش کے لئے اپنی تمناؤں کی کمند آخرت پر ڈالتا ہے اور خدا کے احکامات کے مطابق زندگی کے لمحات گزارتا ہوا خدا سے ’’دارالسلام‘‘ میں داخلے کی خاطر دعا گو رہتا ہے۔

اب رمضان المبارک پر غور کرنے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس ماہ میں بندہ مومن پر مختلف قسم کی زائد پابندیاں عائد کرکے دراصل امتحان اور مشکلات سے پر انسانی حیات کو ایک طرح سے ممثل کیا گیا ہے۔ اگرچہ بندگان خدا عام حالات میں بھی خدا کے احکامات ہی کے پابند ہوتے ہیں، لیکن رمضان میں اوامر و نواہی کی ایک طویل فہرست اس کے ہاتھ میں تھمائی جاتی ہے تاکہ اسے ہر آن خدا کا استحضار رہے اور وہ ہر پل خدا کی معرفت کے حسین احساس کے ساتھ سانس لیتا رہے۔ واضح رہے کہ رمضان میں اس طرح کا انتظام اس لئے نہیں کیا جاتا کہ بندے کی زندگی کو مشکل بنایا جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ بندہ ایک پابند خدا رخی (God Oriented) زندگی گزارنے کے قابل ہوسکے۔ یہ انتظام بھی اسلام کے اس مزاج کے عین مطابق ہے جس میں جن و انس کی خلقت کی غرض و غایت ہی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ خدائے واحد کی عبادت میں مصروف رہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ ہیں: ’’میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔‘‘ (الذاریت: 56) البتہ یہاں پر اسلام کے تصور عبادت کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑے گا کہ اگرچہ مختلف مراسم عبادت بھی عبادت ہی میں شامل ہیں، لیکن یہاں پر تصور عبادت میں اتنی وسعت ہے کہ خدا کی فرمانبرداری کے جذبے کے ساتھ اور خالص اس کی خاطر کیا جانے والا ہر عمل ایک عبادت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ کام جو بندہ اپنی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کرتا ہے، بھی عبادت کے دائرے میں شامل ہے۔ تاہم ایسے ہر کام میں خدا کے قانون کا پاس و لحاظ کیا جائے گا اور یہ کام فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لئے بھی مفید ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریم ؐ سے جبرائیل ؑ نے احسان کی باپت سوال کیا، تو آپؐ نے فرمایا: ’’ان تعبد اللہ کانک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک‘‘ یعنی آپ (بندہ) اللہ کی اس طرح عبادت کرے کہ جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو، کیونکہ اگر وہ اسے نہ دیکھ سکے، وہ اسے پھر بھی دیکھ رہا ہے۔

صوم رمضان کے ذریعے دراصل بندے کو احساس کی اسی بلند سطح پر لیا جاتا ہے، جہاں وہ تمام تر پابندیوں کو خدا کے معرفت اور محبت کے احساس کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اپنی زندگی میں تنظیم اور ترتیب کا ایک نیا باب رقم کرتا ہے۔ اور جب بندہ بے ضابطگی سے ضابطے کی طرف، انتشار سے نظم و ضبط کی طرف اور تحیر سے تیقن کی طرف سفر کرتا ہے تو وہ متقی کہلاتا ہے؛ یعنی اس کے ہاں ایک ایسی سنجیدہ شخصیت ابھرنے لگتی ہے جو سچے خدا پرستی کے آب حیات میں نہا اٹھتی ہے۔ اس شخصیت کا ذوق تکمیل کی ان انتہاؤں کو چھونے لگتا ہے جہاں حدیث کے الفاظ میں ’’وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لیتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ؐ کے رسول ہونے پر راضی ہوجاتا ہے۔’’ ایمان اور ایقان کی ایسی سطح پر فائز ہوکر وہ ’’اللہ تعالی سے شدید محبت کرتا ہے‘‘ اور جب وہ اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اس کی طرف ’’چلتا‘‘ہے تو اللہ تعالی اس کی طرف ’’دوڑ‘‘ لگاتا ہے اور اس کی رضا کا سامان ہوتا ہے۔ ایسے ہی بندے پر اللہ تعالی اپنی نظر کرم فرماتا ہے اور اسے پاک صاف کرکے جنت کے میں داخلے کے قابل بناتا ہے۔

ظاہر ہے کہ رمضان المبارک میں بندے کی پوری زندگی کو ایک نیا سانچہ بخشنے کے لئے جو تربیت کی جاتی ہے، اس کے ذریعے اس ماہ میں اس کو مشقت اٹھانے اور صبر کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ یہی مشق ’’نفس امارہ‘‘ کے لئے حد مقرر کرتی ہے اور اسی کے ذریعے ’’نفس لوامہ‘‘ انسانی شخصیت کی باگیں اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ اس لگام کے ذریعے نفس کا شتر بے مہار تقوی کے سیدھے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ جبھی یہ ممکن ہوتا ہے کہ سواء السبیل پر چلتے چلتے انسان کا نفس ’’نفس مطمئنہ‘‘ کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، جسے رب کائنات نہایت محبت کے ساتھ جنت کا راستہ دکھاتا ہے۔ 

رمضان المبارک میں انسانی شخصیت جس پابند شیڈول اور منظم اسکیم کی عادی ہوجاتی ہے، اس سے وہ ایک طرف ’’انسان اصلی‘‘ (Man cut to the size) بن جاتا ہے اور دوسری طرف اس کی قوت ارادی بھی مضبوط اور منظم ہوجاتی ہے۔ اس طرح اس کے لئے خدا کے قوانین پر عمل پیرا ہونا بہت آسان ہوجاتا ہے اور یہی صفت اسے تقوی شعار بنادیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے فکری اور نظری قوی بھی متحرک ہوکر مضبوط ہوجاتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ عام خیال حقیقت سے کوسوں دور ہے کہ صوم رمضان سے بس جسمانی قوی میں ذرا سی کمزوری پیدا ہوجاتی ہے جس سے نفس کا منہ زور گھوڑا قابو ہوجاتا ہے۔ اصل میں جسم کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ فکری صلاحیتیں ذات خداوندی کی حقیقت اعلی پر مرتکز ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس ارتکاز سے ان صلاحیتوں کو مہمیز ملتی ہے، جس سے اعلی حقائق تک انسان کی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ’’علم الیقین‘‘ سے گزر کر ’’عین الیقین ‘‘کی سطح پر آجاتا ہے۔ اور تو اور اللہ کے مقبول بندوں کو صوم رمضان کی بدولت ’’حق الیقین‘‘ کا درجہ بھی حاصل بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ بندہ مومن کو ایمان و ایقان کی ایک ایسی نعمت حاصل ہوتی ہے جس سے اس کے اوپر ہر دم حضوری کی کیفیت طاری رہتی ہے۔

اس طرح صوم رمضان کے ذریعے اپنی آزادی اور اختیار کی تحدید کرکے انسان ایسی کیفی (Qualitative) سطح پر آجاتا ہے جہاں اللہ تعالی اعلان فرماتا ہے: ’’الصوم لی و انا اجزی بہ، یعنی روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ کئی علماء نے اس کے یہ معنی لکھے ہیں کہ ’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں‘‘، اللہ تعالی کے خود جزا دینے یا خدا کے خود جزا ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ خدا اور بندے کی رضا ایک ہوجاتی ہے اور اعلان ہوتا ہے کہ ’’رضی اللہ عنہ و رضوا عنہ‘‘ اس کیفیت کا آخرت میں کیا نقشہ ہوگا، اس کو ان الفاظ قرآنی میں سمجھا جاسکتا ہے: ’’اس روز بہت سے چہرے تر و تازہ اور بارونق ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔‘‘ (القیمہ:22-23)

یہ وہ مقام ہوگا جب ’’صائم اصلی‘‘ یعنی دنیا کی پوری زندگی روزہ میں بسر کرنے والے کے اوپر سے تمام طرح کی پابندیاں اٹھادی جائیں گی۔ وہ اب آزاد ہوگا اور اس کو اب اصلی اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس نے دنیا کی زندگی کامل روزہ داری سے گزاری اور تقوی کی پگڈنڈی پر اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے سفر کیا۔ اب آخرت میں اسے رب کائنات اسے خود افطار کرائے گا اور اس کے حسب منشا اس کا نعمتوں سے استقبال کیا جائے گا۔ اب اس کے لئے جنت میں راہیں کشادہ کی جائیں گی۔ اس کی یہ زندگی خدا کے اس اعلان کی تفسیر ہوگی جس میں رب تعالی نے فرمایا ہے: ’’جو شخص نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو، تو ہم اسے یقینا‘‘ نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔‘‘ (النحل: 97) دنیا میں رمضان کا افطار کرتے ہوئے اس نے نبیؐ کی اطاعت کرتے ہوئے پڑھا تھا کہ ’’شکر اور تعریف اللہ کے لئے ہے۔ پیاس بجھ گئی اور رگیں تر ہوگئیں،‘‘ تو آخرت کے اس ابدی افطار میں رب کائنات اسکی رگوں کے ساتھ ساتھ اس کے پورے وجود کو تر و تازہ کرکے فرحت بخشے گا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بشارت دی تھی کہ ’’اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہوگیا۔‘‘ (ابو داؤد)

دنیا کی محدود اور پابند زندگی کے مقابلے میں آخرت ایک لامحدود اور آزاد کائنات (Cosmos) ہے۔ اسی لامحدود دنیا کو نبی ؐ نے رمضان کے صوم اور افطار کے پیرائے میں سمجھایا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی روزہ افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملنے کے وقت۔‘‘ (بخاری و مسلم) اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ ہر روزہ دار کو ہر دن کے روزہ کی تکمیل پر افطار کے وقت ایک فرحت (خوشی) حاصل ہوتی ہے، جس کا احساس بہرحال ایک روزہ دار کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ عید الفطر کے ساتھ اسی لئے ’’فطر‘‘ کا لفظ جڑا ہوا ہے کہ اس روز مومنین کی بستیاں ’’اجتماعی افطار‘‘ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں کی پوری آبادی کو اس بات پر خوشی حاصل ہوتی ہے کہ انہوں نے ایک طرف اللہ تعالی کے فرمان کی بجا آوری کی اور دوسری طرف اس کے ذریعے سے مطلوبہ مقصد یعنی تقوی حاصل کیا۔ دراصل یہ (بڑا افطار یعنی عید) تمثیلی انداز میں رمضان کی پابندیوں کے اٹھائے جانے کا ایک باضابطہ اعلان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کی آخری رات یعنی عید کی رات کو ’’لیلہ الجائزہ‘‘ یعنی ’’انعام کی رات ‘‘کہا گیا ہے اور اس کی باپت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’رمضان کی آخری رات کو میری امت کی مغفرت ہوجاتی ہے۔‘‘(احمد)

اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ مومن رمضان میں باقی گیارہ مہینوں کے لئے تقوی کا اتنا وافر ذخیرہ کر لیتا ہے کہ وہ اسی تقوی کی روح کے ساتھ سال کے بقیہ مہینے گزارتا ہے۔ بالکل اسی طرح وہ روح رمضان کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزار کر آخرت کی ابدی زندگی کے لئے اتنا توشہ اکٹھا کرلیتا ہے کہ وہ وہاں کامیاب و کامران ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن کو دوسری خوشی اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جس طرح ہر دن کے افطار نے اس کے لئے دن کی صبر آزما مشقت کا خاتمہ کیا اور عیدالفطر کے ایک بڑے اور اجتماعی افطار سے ایک صبر آزما مہینے کی تکمیل ہوئی، بالکل اسی طرح اپنے رب سے ملاقات نے بندہ مومن کے لئے پر مشقت دنیاوی زندگی کا وقفہ ختم کیا اور وہ اللہ کی راحتوں، فرحتوں اور مسرتوں والی ابدی جنت کا مکین بن گیا۔ اس طرح واضح ہوا کہ عیدالفطر اصل میں دائمی مسرتوں کی ایک تعارفی تمہید ہے۔

(رابطہ9858471965)

[email protected]