عورتوں سے حسنِ سُلوک کامل ایمان کی نشانی

۸؍مارچ کو خواتن کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ترغیب دینا ہے، مذہب اسلام نے خواتین کی اہمیت کو بہت زیادہ اُجاگر کیا ہے۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں عورت کی رعایت اوراس کی صنفی نزاکت کے ساتھ تمام احکام موجود ہیں ۔ موجودہ دور کا اس صنف نازک کے ساتھ یہ المیہ ہے کہ اس نے عورت کو گھر کی ’’ملکہ ‘‘ کے بجائے ’’شمع محفل‘‘ بنادیا ہے ، اس کی نسوانیت اور نزاکت کو تار تار کرنے کے لیے’’زینتِ بازار‘‘ اور اپنی تجارت کے فروغ کا ’’آلہٴ کار‘‘اور’’ذریعہ‘‘ بنادیا ہے۔ عورت کے لیے پردہ کے حکم میں در اصل اس کی نزاکت کی رعایت ہی مقصود ہے کہ اسے مشقت انگیز کاموں سے دور رکھ کر اس کو درونِ خانہ کی صرف ذمہ داری سونپی جائے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صنف نازک کے ساتھ بہترین سلوک اور برتاوٴ کی تاکید کی ، خود آپ ؐ بھی عورتوں کے ساتھ اچھابرتاوٴ اور ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے ۔
 پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کیلئے خاندانی نظام کا زیادہ سے زیادہ مضبوط اور کامیاب ہونا انسانوں کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اس کی شروعات شوہر اور بیوی کے ازدواجی تعلق ، میل و محبت سے ہوتی ہے۔ رب العالمین نے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر کی حد متعین فرمائی ہے اور بیوی کی بھی حد کا تعین کیا ہے۔اگر دونوں اپنی حدود کے اندر رہ کر زندگی گزاریں تو بڑی خوشگوار زندگی گزر سکتی ہے اور بہت سی ایسی فیملی (Family)جو اسلامی قوانین پر عمل کرکے خوشگوار زندگی گزار رہی ہیں۔ میاں بیوی میں اعتماد کی کڑی جتنی مضبوط ہوگی، ایک دوسرے پر جس قدراعتماد(Trust) قائم رہے گا ،اُسی قدر خوشگوار اور پر سکون زندگی گزرے گی اور اس کے اچھے اثرات بچوں پر پڑیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت سے نکاح اس کی دین داری ، اس کے مال اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کیا جاتا ہے لیکن تم دیندار (عورت) سے نکاح کو لازم پکڑ لو ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ دیندار عورت ہی صحیح معنوں میں نیک چلن شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہوتی ہے، جس سے انسانی معاشرتی زندگی میں خوش گواری آتی ہے اور اس کی گود میں جو نسل پروان چڑھتی ہے وہ بھی صالح اور دیندارہوتی ہے ۔ احادیث میں درج ہےکہ عورتوں سے حسن سلوک کیا کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا اوپر والا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتاہے ۔ پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے اور اگر (اپنے حال پر چھوڑ دو تو ہمیشہ ٹیرھا رہے گا) پس عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔ انسانیت کا منشور جو آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر دنیا کو دیا، جس کی کئی اہم شقیں اقوامِ متحدہ(UNO) نے اپنے منشور میں شامل کی ہیں۔ حجتہ الوداع کے خطبہ میں آپؐ نے حمد و ثنا کے بعد وعظ و نصیحت کی پھر آپ نے فرمایا: سنو! عورتوں سے حسنِ سلوک سے پیش آؤ، بے شک وہ تمہاری قیدی ہیں ،تم ان سے جماع(Mutual Sex) کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو۔ سنو!بے شک تمہاری عورتوں پر تمہارے کچھ حقوق ہیں اورتم پرتمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں ،ان کے سبھی حقوق ادا کرو۔ ان پر تمہارا حق ہے کہ وہ تمہارے نا پسندیدہ لوگوں کو تمہارے بسترروندنے نہ دیں۔(یعنی عزت و ناموس کی حفاظت کریں) اور سنو!تمہارے ذمہ ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لئے اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔(بخاری ومسلم ،حدیث نمبر 5023)
عورتوں پر اسلام کے احسانات بے شمار ہیں ۔ چھوٹے سے مقالے میں سمیٹنا ممکن نہیں ۔ عورتوں کے ہر طرح کے حقوق کی پاسداری اسلام میں ہے۔ اسی لئے حکم ہے شوہر کو چاہئے کہ بیوی کے فطری جذبات واحساسات کاپاس و لحاظ رکھے اور زیادہ دنوں تک بیوی سے جدا نہ رہے۔ اور اگر جدا رہنے کی مجبوری ہے تو اسے چاہئے کہ بیوی کوساتھ رکھے تاکہ حقِ زوجیت بھی ادا ہو اور دونوں پر سکون زندگی گزاریں۔ عورت پر ظلم و ستم کرنے سے گھریلو زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ فیملی لائف عذاب کی طرح گزرتی ہے۔ اس کا مداوا ،اس کا حل صرف یہی ہے کہ اللہ کے رسول ؐکے احکامات پرعمل پیراہوں۔ عورت کے ٹیڑھے پن کے باوجود ان سے فائدہ اٹھائیں، یہ حسن سلوک سے پیش آنے پر ہی ممکن ہوگا۔
اللہ جل شانہ ٗ اور اس کے پیارے محبوب ﷺ نے بندوں کے حقوق کو واضح طور پر بیان فرمائے ہیں بلکہ اُن پرعمل پیرا ہونے کی تاکید بھی فرمائی ہے تاکہ خاندانی زندگی اور معاشرتی زندگی پر سکون گزرے ۔ اگر مسلمان حقوق العباد کی ادائیگی کاپاس و احترام کریں تو صالح معاشرہ کے لئے آج تمام تنظیموں و جماعتوں کا رونا بند ہو جائے اور مقدمہ بازی اور کورٹ کے چکر سے نجات میں رہے۔ عورتوں سے حسنِ سلوک اسلامی تعلیم کا حصہ ہے ۔ نکاح و طلاق وراثت سب میں عورتوں کے حقوق واضح طور پر بیان کیا اور لاگو کیاگیا ۔خواہ بیٹی ہو، بہن ہو، ماں ہویا بیوی آج بھی اسلام دشمن و مسلمان بیزار میڈیا (Media)و جماعتیں ناحق واویلا مچا رہی ہیں ،عورتوں پر ظلم ہورہا ہے ۔یہ اسلام و مسلمانوں کے خلاف شعوری طور پر سازش ہے اور کچھ نہیں ۔
قرآن کریم میں رب تعالیٰ کا صاف صاف ارشاد گرامی ہے۔ ’’عورتوں کے حقوق مردوں پر اسی طرح ہیں جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں ،اچھے سلوک کے ساتھ ۔حقوق انسانی میں تمام مر دو عورت کے مساوی حقوق ، اخلاق اور احسان ، عبادات میں مردکے برابر ہیں۔ہم تمام مسلمانوں کا یہ اسلامی فریضہ ہے کہ اپنی بیویوں کو عزت و وقار سے رکھیں ان کے حقوق کی ادائیگی میں رب تعالیٰ سے ڈریں اور حقوق پامال نہ کریں۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہم مسلمانوں کوخاندان و اسلامی عائلی قوانین کی جاننے اور اس پرعمل کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رابطہ09386379632)