عوا م دوست حکومت ہی بہتر نظا م حکومت

 جموںوکشمیر یوٹی میں’’ بہتر حکمرانی کے طریقہ کار کے اطلاق ‘‘پر دو روزہ علاقائی کانفرنس سرینگر میں ’ بہتر نظام حکومت: کشمیرا علامیہ ‘ قرار داد کی منظور ی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔اِختتامی تقریب کی صدارت لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے کی  اورانہوں نے ’ بہتر نظام حکومت : کشمیرا علامیہ ‘ بھی جاری کیا۔اس اعلامیہ کے مطابق مرکزی حکومت کے متعلقہ محکمے جموںوکشمیر حکومت کے ساتھ قومی بہتر حکمرانی عشاریہ کے طرز پر جموںوکشمیر میں ضلعی سطح پر بہتر حکمرانی انڈیکس کی تیاری میں اشتراک کریں گے جبکہ حکمرانی کے طریقہ کار میںجموںوکشمیر کے 2ہزار سرکاری افسران کی صلاحیت سازی کیلئے جموںوکشمیر یوٹی اور مرکزی حکومت تعاون کرنے کے مکلف ہونگے جبکہ اس کے علاوہ امسال اور اگلے سال جموںوکشمیر میں بہتر حکمرانی کے موضوع پر مزید دو علاقائی اور قومی کانفرنسیں منعقد ہونگیں۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس ایسی ہی ایک کانفرنس جموں میں منعقد ہوئی تھی اور ان کانفرنسوں کے انعقاد کا مقصد حکمرانی کے ڈھانچہ کو بہتر بنانا اور سرکاری مشینری سے جڑے ملازمین کو بہتر اور جوابدہ حکمرانی کے تصور سے آشنا کرنا ہے تاکہ عوام کا بھلا ہوسکے۔ظاہر ہے کہ بہتر اور جوابدہ حکومت ہی عوام کے درد کا درماں ثابت ہوسکتی ہے اور گزشتہ کچھ برسوں سے جموںوکشمیر اور مرکزی سرکاروں کی مسلسل یہ کوششیں رہی ہیں کہ جموںوکشمیر میں حکمرانی کے نظام کو بہتر بنایا جاسکے ۔گوکہ اس سلسلے میں بہت کچھ ہوا اور کئی انقلابی اقدامات کئے جاچکے ہیں جن کے طفیل یہاں حکمرانی کا تصور یکسر تبدیل ہوکررہ گیا ہے تاہم ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے کیونکہ ابھی بھی ہم کافی حد تک روایتی طرز حکومت کو ہی اپنائے ہوئے ہیں۔آج کل ای گورننس کا دور دورہ ہے اور آن لائن نظام حکومت سے ملک اور دنیا کے لوگ مستفید ہورہے ہیں تاہم جموںوکشمیر میں ابھی بھی سیکریٹریٹ کے باہر کم وبیش سبھی ذیلی محکمے ایسے ہیں جہاں ای گورننس کا تصور نہیں ہے اور آج بھی روایتی انداز میںہی کام کیاجارہا ہے جبکہ بیشتر ذیلی محکموں کی ویب گاہیں اپڈیٹ ہی نہیںہیں جس سے لوگوں کی اطلاعات تک رسائی ناممکن بن جاتی ہے ۔حکمرانی کے نظام میں شفافیت لانے کیلئے گزشتہ دو برسوں کے دوران بہت کچھ ہوا اور کوشش کی گئی کہ تمام سرکاری شفاف اندازمیں ہوں اور ساری معلومات تک عوام کی رسائی یقینی بنائی جاسکے تاہم اس کے باوجود بھی آج بھی جموںوکشمیر میں حکمرانی کے ڈھانچہ میں کئی سقم موجود ہیں جنہیں دور کرنا لازمی ہے تاکہ حکمرانی کا انڈیکس مزید بہتر بنایاجاسکے ۔ظاہر ہے کہ سرکار عوام کی خدمت گا ر ہوتی ہے ۔جب حکمرانی کا ڈھانچہ بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے سرکاری مشینری میں یہ احساس جاگزیں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ حاکم نہیں بلکہ عوام کے خدمت گار ہیں لیکن جموںوکشمیر میں ابھی بھی اس کے برعکس سوچ پائی جارہی ہے اور یہاں سرکاری ملازمین کی بیشتر تعداد اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ تصور ہی نہیں کرتی ہے اور ان کے نزدیک عوامی فلاح وبہبود کے کام کرنا گویاں عوام پر احسان کرنا ہے ۔اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچ تبھی بدل سکتی ہے جبکہ حکمرانی کے نئے نظام سے متعلق نئے اپروچ کو اوپر سے نیچے تک لاگو کیاجائے ۔جمہوری نظام میں عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں اور کوئی بھی فلاحی حکومت صرف اپنے عوام کیلئے ہی کام کرتی ہے لیکن جب فلاحی حکومت کے کارندے اپنے آپ کو بالا تر سمجھنے لگیں تو عوامی مسائل کا حل ہونا ممکن نہیں ہے ۔حکمرانی کے ڈھانچہ کو بہتر بنانا بجا ہے لیکن شفافیت اور دیگر جدید طریقے بروئے کار لانے کا اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک نہ سرکاری ملازمین کی سوچ میں تبدیلی لائی جائے ۔بلاشبہ لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ بہتر نظام حکومت کیلئے کوشاں ہے اور اس ضمن میں آئے روز نت نئے تجربے کئے جارہے ہیں تاہم یہ سارے اقدامات اُس وقت تک ثمر آور ثابت نہیںہوسکتے ہیں جب تک نہ حکمرانی کے ڈھانچہ کو عوام دوست بنایا جائے ۔زیر بحث کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس پر بات کی اور عوام دوست حکومت کو جمہوری نظام کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا تاہم باتوں سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور عملی اقدامات اٹھاکر اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حکمرانی کا ڈھانچہ اوپر سے نیچے تک عوام دوست ہو۔جہاں تک حکمرانی کے انڈیکس کو بہتر بنانے کی بات ہے تو یقینی طور پر جہاں اعلیٰ سطح پر اس انڈیکس کو بہتر بنانا لازمی ہے وہیں نچلی سطح پر بھی ایسا کرنا ناگزیر ہے کیونکہ جب تک زمینی سطح پر کوئی تبدیلی نظرآتی نہیں دیکھی جائے گی ،کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوگا کہ اوپری سطح پر کچھ تبدیل ہوا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب جموںوکشمیر انتظامیہ حکمرانی کا ضلعی انڈیکس تیار کرنے کا من بنا چکی ہے کیونکہ اس انڈیکس سے ہی پتہ چل پائے گا کہ زمینی سطح پر حکمرانی کا ڈھانچہ کس قدر شفاف اور عوام دوست ہے ۔اس ضمن میں چونکہ مرکز کے متعلقہ محکموں کے ساتھ معاہدوںپر دستخط ہوچکے ہیںتو امید کی جاسکتی ہے کہ اس عمل میں مزید تاخیر نہیںہوگی اور بہت جلد ہمارے سامنے ایک واضح تصویر ہوگی کہ زمینی سطح پر حکمرانی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے مزید کیا کرنا ہے ۔اس کے علاوہ جہاں تک سرکاری افسران کی صلاحیت سازی کا تعلق ہے تو ایسے تربیتی کورس بھی بار آور ثابت ہونگے کیونکہ اس طرح سے افسرا ن کو حکمرانی کی اخلاقیات سے روبرو کرایا جائے گا اور ان میں یہ شعور پیدا ہوگا کہ وہ کوئی بالاتر مخلوق نہیں بلکہ اصل میں عوام کے خدمت گارہیں۔امید کی جانی چاہئے کہ اس کانفرنس اور آنے والے دنوں میں مزید ایسی کانفرنسوں اور تربیتی پروگراموںکے طفیل جموںوکشمیر میں حکمرانی کا نظام بہتر سے بہتر ہوپائے گا تاکہ عوام کی حکومتی نظام کے تئیں وابستہ امیدیں بھر آسکیں۔