’’ عوام کی آواز‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے بارہمولہ کے عبید قریشی کی تجویز کو سراہا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اَپنے حالیہ ماہانہ ریڈیو پروگرام ’’ عوام کی آواز‘‘میں تعلیمی اِداروں میں لوگوں ، پولیس اور پالیسی سازوں کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کے لئے بارہمولہ کے ایک رہائشی پیر عبید قریشی کی تجویز کی تعریف کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں ، پولیس او رپالیسی سازوں کے درمیان بات چیت کو فروغ دینے کے لئے حکومت کو پیش کی گئی ان کی تجاویز کو سراہا ۔پیر عبید قریشی نے اِس کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کا شکر یہ اَدا کیا۔قریشی موصوف نے ’’ عوام کی آواز‘‘ کے نئے تصور کو متعارف کرنے کے لئے موجودہ نظام کی بھی تعریف کی جو ایک عام شہری کو پورے معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے اَپنے تحفظات اور تجاویز پیش کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ’عوام کی آواز‘ اقدام کی وجہ سے ہے کہ جموںوکشمیرکا کوئی بھی باشندہ لیفٹیننٹ گورنر کو اَپنی شکایات اور تجاویز سے آگاہ کرنے اور ان کا ازالہ کرنے کے قابل ہے۔بارہمولہ سے پیر عبید قریشی کی طرف سے سکولوں میں 3P's ۔ عوام ، پولیس ، پالیسی سازوں کے مربوط کلچر کو فروغ دینے کے لئے دی گئی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس طرح کے تعاملات سے اگلی پود میں قیادت کا ایک مضبوط جذبہ پیدا ہوتا ہے۔قریشی موصوف نے بات چیت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازوں کو چاہیئے کہ وہ سکولوں اور کالجوں میں طلباء کے لئے کونسلنگ کے کلچر کو متعارف کرنے کے لئے ٹھوس کوششیں کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ سکولوں او رکالجوں کے سربراہوں کو باقاعدگی سے کونسلنگ سیشن منعقد کرنے چاہئیںتاکہ نوجوانوں کی توانائی ان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کی طرف صحیح طریقے سے اِستعمال ہوسکے۔اُنہوں نے کہا کہ عوام ، پولیس اور پالیسی سازوں کے درمیان مسلسل بات چیت سے باہمی اعتماد کے مضبوط رشتے قائم ہوں گے ۔