عوامی نیشنل کانفرنس کی وزیراعظم سے استدعا

سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے جموں وکشمیر میں149سالہ دربار موکی روایت کو ختم کرنے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے فیصلے کو واپس لینے کی استدعا کی ہے۔ کے این ایس کے مطابق عوامی نیشنل کانفرنس کے مظفر شاہ نے کہاکہ دربار مو کو بند کرنے کے فیصلہ سے سیاسی، سماجی ، انتظامی اور معاشی طور پر پورے جموںوکشمیر میں بعید از قیاس اثرات مرتب ہوںگے اور یہ ایک بہت بڑا دھچکاہے۔ انہوںنے کہا کہ دربار مو کی روایت ثقافت کے  تحفظ،مذہبی اور معاشی زاویوں کیلئے اہمیت کی حامل تھی اور دونوں خطوں کی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔ انہوںنے کہا کہ اے این سی جموں وکشمیر کے تمام خطوں کے لوگوں کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی سے پرزور استدعا کرتی ہے کہ وہ اس غیر منظم اور غیر منطقی فیصلے کو منسوخ کرکے دربار مو کو بحال کریں ۔انہوںنے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ ان کالے قوانین کا فوری طور پر خاتمہ چاہتے ہیں جو آئین کے بنیادی اصولوںکی خلاف ورزی ہے اور یہ صرف اور صرف جموں وکشمیر کیلئے کیوں‘‘؟دفعہ 370کے عدالت میں زیر سماعت معاملے پر اے این سی لیڈرشپ نے کہا کہ 370اور35 Aکی بحالی کا مطالبہ نہ تو توہینِ عدالت ہے اور نہ ہی عدالت میں زیر سماعت کے بہانے کے ذریعہ اس سے آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں، قانونی اعتبار سے آئین کے دفعہ 370اور35Aکی بحالی کے مطالبے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ کرگل ڈیموکریٹک الائنس اور LBAنے بھی حکومت  ہند سے گزشتہ روز ہوئی میٹنگ میں دفعہ370اور 35Aکی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این سی کاکہنا ہے کہ5اگست2019سے پہلے دفعہ 370اور 35Aکی حفاظت کیلئے عدالت عظمیٰ میںسیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی 8درخواستیں موجود ہیں، معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا پھر کیسے حکومت ہند نے دفعہ 370کا خاتمہ کرکے جموں وکشمیر میں1371قوانین نافذ کئے؟