عوامی رائے کو ریفرنڈم کی حیثیت حاصل

 سرینگر // مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ  95فیصد عوام کی جانب سے بلدیاتی انتخابات مسترد کرنا کشمیریوں کا بھارت کیخلاف ریفرنڈم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے خود ہی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں 95فیصد عوام نے شرکت نہیں کی۔عوام نے ایک بار پھر واضح کردیا کہ انتخابی پالسیوں سے وہ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں ۔ قائدین نے کہا کہ حالیہ انتخابی ڈرامے کے دوران  عوام نے تحریک کے ساتھ اپنی غیر متذلزل وابستگی کا  جوثبوت دیا وہ نہ صرف قابل داد ہے بلکہ بھارت کیلئے ایک واضح پیغام اور ریفرنڈم کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتخابات سے دوری اختیار کرکے کشمیری عوام نے بھارت کو ایک واضح پیغام بھیجاکہ اصل میں کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں اور ان کے جذبات اور احساسات کیا ہیں؟۔ بیان میں کہا گیا کہ زور زبردستی کرائے جارہے انتخابات میں نام نہاد عوامی نمائندوں کے نام بھی کسی کو معلوم نہیں اور کئی علاقوں میں امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا ہے جس سے ان انتخابات کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ان تمام کارروائیوں کا مقصد بی جے پی اور فرقہ پرست قوتوں کو آگے بڑھا نا ہے۔ قائدین نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری نوجوانوں کی جانب سے منان وانی کے حق میں نماز جنازہ ادا کرنے کی بنیاد پر انہیں معطل کرنے کی کارروائی کو کشمیر سے باہر طلاب کو خوف زدہ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزید اور نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل کو مخدوش بنایا جارہا ہے جو سراسر انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔ قائدین نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کیخلاف  لگائے گئے بیجا الزامات اور معطلی کے احکامات کو واپس لیں تاکہ ان طلباء کا تعلیمی مستقبل مخدوش ہونے سے محفوظ رہ سکے ۔