عوامی حکومتوں نے نظرانداز کیا،سرحدی مکینوں کی گورنر سے اپیل

 
راجوری //سرحدی علاقوں کے مکینوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ مجموعی ترقی کیلئے ایک جامع منصوبہ مرتب کیاجائے اور ان کے طلباءکے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایاجائے ۔راجوری کے کیری سب سیکٹر میں میں بسنے والے لوگوں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ ان کے علاقہ میں تعمیروترقی کیلئے ایک خصوصی تاسک فورس تشکیل دے کر ایکشن پلان پر کام کیاجائے ۔ان کاکہناہے کہ عوامی حکومتوں نے انہیں ہر بار نظرانداز کیا اور اب آخری امید گورنر سے ہے جنہیں ان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ان کا حل نکالنے کیلئے حقیقی معنوں میں اقدامات کرنے چاہئیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ مقامی سکولوں کادرجہ بڑھاکر ان کے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچایاجائے ۔بسالی ، رتل ، پوٹھی ، ٹھنڈی کسی ، پنتھال ، پیر بڈیسر و دیگر سرحدی علاقوں کے لوگوں کاکہناہے کہ ان کی زندگی مشکلات بھری ہے اور انہیں رات کو چین کی نیند آتی ہے اور نہ ہی دن کو سکون ہے ۔بسالی گاﺅں کے لوگوں نے بتایاکہ انہیںپانی کی شدید قلت کاسامناہے اور محکمہ سپلائی فراہم کرنے میں ناکام ہوگیاہے جبکہ کسی سپلائی سکیم پر کام بھی شروع نہیں ہوا۔ان کاکہناہے کہ ان کیلئے پانی کا انحصار قدرتی ذرائع پر ہے اور وہ پانی ایک قدرتی چشمے سے لاتے ہیں جوموسم گرما میں خشک ہوجاتاہے جس دوران فوج کے ٹینکر انہیں پانی فراہم کرتے ہیں ۔ایک مقامی شہری شبیر حسین نے بتایاکہ اگر فوج پانی کی سپلائی کرنا چھوڑ دے تو ان کیلئے کوئی متبادل نہیں رہے گا۔ان کاکہناہے کہ پانی اوردیگر مسائل کے بارے میں بارہا متعلقہ حکام اور سیاسی لیڈران سے شکایت کی گئی لیکن انہوں نے یقین دہانیوں سے آگے کوئی کام نہیں کیا اور ان کے وعدے سراب ثابت ہوئے ہیں ۔ ان کاکہناہے کہ مقامی لوگوں کو دوسری سب سے بڑی پریشانی ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے درپیش ہوتی ہے اور طبی خدمات کیلئے بھی ان کا تمام تر انحصار فوج پر ہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو ہسپتال منتقل کرناپڑے توایمبولینس کا کوئی بندوبست نہیںہوتا اور وہ عام گاڑی کا استعمال کرتے ہیں ۔ ایک اور شہری شکیل احمد نے بتایاکہ ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں چھ سے سا ت اموات ہوچکی ہیں اوران کو صرف فوج کی طرف سے ہی مدد ملتی ہے۔ان کاکہناہے کہ حکومت کم از کم ایک ایمبولینس گاڑی فراہم کرے جو ان سرحدی علاقوں کے لوگوں کی طبی خدمات کے کام آسکے ۔دیگر شہریوں نے بھی ماضی میں قائم ہونے والی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مانگ کی ہے کہ یہاں تعمیروترقی کے کام کئے جائیں اورمڈل سکول بسالی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کا درجہ بڑھایاجائے تاکہ طلباءتعلیم حاصل کرسکیں اور ان کا مستقبل تباہ ہونے سے بچ پائے ۔ ان کاکہناہے کہ علاقے کے بیشتر طلباءآٹھویں جماعت سے آگے تعلیم حاصل نہیں کرپاتے کیونکہ یہاں اس کیلئے کوئی بندوبست ہی نہیں ۔انہوں نے کہاکہ سکولوں کادرجہ بڑھانے سے تعلیمی نظام میں بہتری آئے گی اور طلباءآسانی سے تعلیم حاصل کرپائیںگے نہیں تو ان کا مستقبل تاریک بنتاجارہاہے۔مقامی آبادی نے بسالی سے جھلاس بذریعہ سیر ،پوٹھی ،رتل علیحدہ سڑک کی تعمیر کی مانگ کی ہے جس سے ان کا راجوری صد رمقام تک سفر آسان ہوکر پندرہ کلو میٹر رہ جائے گا۔انہوں نے کہاکہ اب ان کی تمام تر امیدیں گورنرانتظامیہ سے وابستہ ہیں اور گورنر کو معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے ان کے علاقوں میں تعمیروترقی کے اقدامات کرنے چاہئیں جس کیلئے ضروری ہے کہ ایک جامع منصوبہ مرتب ہو ۔