عوامی تعاون کے بغیر طبی برادری کووڈ کیخلاف جنگ نہیں جیت سکتی: ڈاکٹر وجے رینہ

ادھم پور//ڈسٹرکٹ ہسپتال ادھم پور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے کورونا مینجمنٹ کاوسیع تجربہ رکھنے کے بعد ڈاکٹر وجے رینہ کی رائے ہے کہ طبی برادری عوامی حمایت کے بغیر کووڈ وباکے جنگ جیت نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل برادری کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں اپنے تجربات کا تبادلہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران دنیا بھر کے ڈاکٹروں اور صحت کے کارکنوں نے یہ سیکھا ہے کہ وہ اکیلے ہی یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ڈاکٹر رینہ نے کہاکہ مطالعات میں جمع کردہ اعداد و شمار واضح طور پر ذمہ داریوں کی تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج پھیلنے پر قابو رکھنا اور اسے دبانا ہے جو باہمی ذمہ داری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسے سلامت رہنے کے لئے ایک دوسرے کو مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت کی خدمات اور انفراسٹرکچر محدود ہے جو زیادہ دباؤ کی وجہ سے گر سکتا ہے جیسا کہ دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے ، لہذا کسی بھی وبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کا سب سے مضبوط ہتھیار عوام کی آگاہی اور حفاظتی پروٹوکول کی پیروی اور ویکسین لینے کی شکل میں آتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ معاملات میں تازہ اضافے کو روکنے کے لئے پوسٹ لاک ڈاؤن سیفٹی پروٹوکول کا مشاہدہ زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ان کاکہناتھا"کووڈ۔19 کی پہلی لہرکے دوران ہم نے ڈسٹرکٹ ہسپتال اْدھم پور میں 300 سے زائد مریضوں کا علاج کیا اور دوسری لہرمیں یہ تعداد 600 مریضوں سے زیادہ تھی جبکہ شرح اموات بھی زیادہ تھی جو واضح طور پر ہر اضافے کے بعد پھیلاؤ کے زیادہ خطرہ کی نشاندہی کرتی ہے۔اس طرح یہ جنگ اجتماعی طور پر اور ایک دوسرے کی حمایت کرکے کووڈ ٹرانسمیشن کا سلسلہ توڑنے کے لئے مناسب رویے پر عمل پیرا ہو کر جیت سکتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس خوفناک دشمن سے لڑنے کے لئے ویکسین حتمی آلہ ہے۔ ہم صرف اسی صورت میں جیت سکتے ہیں جب ہر فرد ویکسین لگانے کے لئے آگے آجائے۔ یہ محفوظ ہے اور ہمیں انفیکشن سے بچائے گا۔